سلیم احمد میں ہار گیا ہوں

ابوشامل

محفلین
کپلنگ نے کہا تھا

“مشرق، مشرق ہے

اور مغرب، مغرب ہے

اور دونوں کا ملنا ناممکن ہے”

لیکن مغرب، مشرق کے گھر آنگن میں آ پہنچا ہے

میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں

میرا نوکر بی بی سی کی خبریں سنتا ہے

میں بیدل اور حافظ کے بجائے

شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں

اخباروں میں

مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ہیں

مجھ کو چگی داڑھی والے اکبر کی کھسیانی ہنسی پر

رحم آتا ہے

اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہے)

……… مجذوب کی بڑہیں

وارث شاہ اور بلھے شاہ اور بابا فرید؟

چلیے جانے دیجیے ان باتوں میں کیا رکھا ہے

مشرق ہار گیا ہے!

یہ بکسر پلاسی کی ہار نہیں ہے

ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے

سن ستاون کی جنگ آزادی کی ہار نہیں ہے

ایسی ہار تو جیتی جا سکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)

لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے

قبلائی خان تم ہار گئے ہو؟

اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولو

جیت گیا ہے

اکبر اعظم! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے

اور بڑا بھائی لکھا تھا

اس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیں

جو تمہیں مہابلی اور ظل الہی کہا کرتے تھے

مشرق کیا تھا؟

جسم سے اوپر اٹھنے کی خواہش تھی

شہوت اور جبلت کی تاریکی میں

اک دیا جلانے کی کوشش تھی

میں سوچ رہا ہوں، سورج مشرق سے نکلا تھا

(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)

لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے

“میں ہار گیا ہوں”

میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے

“میں ہار گیا ہوں”

میں نے اپنے آئینے پر کالک مل دی ہے

اور تصویروں پر تھوکا ہے

ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں

میری روح کے اندر اک ایسا زخم لگا ہے

جس کے بھرنے کے لیے صدیاں بھی ناکافی ہیں

میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں

مجھ سے میرا سب کچھ لے لو

اور مجھے اک نفرت دے دو

مجھ سے میرا سب کچھ لے لو

اور مجھے ایک غصہ دے دو

ایسی نفرت، ایسا غصہ

جس کی آگ میں سب جل جائیں

……. میں بھی!

(شاعر: سلیم احمد)
 

شمشاد

لائبریرین
فہد بھائی بہت اچھے، بہت ہی خوب کلام ہے، اللہ ہی ہے جو ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
 

ظفری

لائبریرین
بہت ہی اچھا کلام ہے ۔ سلیم احمد بلکل منفرد شاعر ہیں ۔ ایک شعر انہوں نے کیا ہی خوب کہا تھا :

ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے بام در دُھل جائیں گے
بارشیں آئیں تو ، کائی جم گئی دیوار پر ۔۔۔
 

ابوشامل

محفلین
بہت ہی اچھا کلام ہے ۔ سلیم احمد بلکل منفرد شاعر ہیں ۔ ایک شعر انہوں نے کیا ہی خوب کہا تھا :

ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے بام در دُھل جائیں گے
بارشیں آئیں تو ، کائی جم گئی دیوار پر ۔۔۔
ظفری بھائی سلیم احمد کی شاعری پڑھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا البتہ سنا ہے کہ ان کی اصل شہرت نقاد کی حیثیت سے تھی۔
 
Top