میں دیکھتا ہوں آج تجھ کو باہوں میں رقیب کی-----برائے اصلاح

الف عین
ظہیراحمدظہیر
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
میں دیکھتا ہوں آج تجھ کو باہوں میں رقیب کی
گلہ کروں تو کیا کروں یہ بات ہے نصیب کی
-------
وہ روٹھ کر چلا گیا خفا تھا اس غریب سے
نصیب میں رہی نہیں ہے شکل اب حبیب کی
-------------
دعا ہے اب تو موت کی یہی علاجِ غم بھی ہے
نکال دی ہے کان سے جو بات تھی طبیب کی
-----------
مرے تھیں سب نصیب میں مصیبتیں ہزار ہا
نظر نہیں تھی دور کی تو اب گئی قریب کی
-----------
خطا کرو تو مان کر خدا سے پھر دعا کرو
سنی تو میں نے مان لی ، یہ بات تھی خطیب کی
------------
وہاں پہ جا بسیں گے سب جہاں سے پھر نہ آ سکیں
نہ سوچئے یہ دور ہے یہ بات ہے قریب کی
--------
سدا جو تھی امیر کی وہ راہ میں بھٹک گئی
وہ در سے جا لپٹ گئی دعا جو تھی غریب کی
----------
 

الف عین

لائبریرین
نہیں ارشد بھائی، مزا نہیں آیا، یہ محض قافیہ بندی لگتی ہے۔
یہ تین اشعار تو مزاحیہ لگتے ہیں، نکالے جانے کے قابل
دعا ہے اب تو موت کی یہی علاجِ غم بھی ہے
نکال دی ہے کان سے جو بات تھی طبیب کی
-----------
مرے تھیں سب نصیب میں مصیبتیں ہزار ہا
نظر نہیں تھی دور کی تو اب گئی قریب کی
-----------
خطا کرو تو مان کر خدا سے پھر دعا کرو
سنی تو میں نے مان لی ، یہ بات تھی خطیب کی
------------
بس آخری شعر اچھا ہے، اور درست، باقی تینوں اشعار بھی خاص نہیں یا مبہم ہیں، اور روانی بھی اچھی نہیں
 
وہ در سے جا لپٹ گئی
جا لپٹ گئی کا استعمال بھی درست نہیں ۔ کیوں کہ لپٹ جانا کا ماضی لپٹ گئی ہے اس لیے اس کو جا لپٹنا کے ساتھ ملانا عجیب سا بیان ہے ۔ جا لپٹی کہنا چاہیئے ،
اسلوب اور بیان میں اس کا خیال رکھنا چاہیئے ۔
 
Top