1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

محمد فضولی بغدادی کے چند تُرکی اشعار

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 9, 2017

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» اپنی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» کی ایک بیت میں سُلطان سُلیمان قانونی عُثمانی کی مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    اربابِ هُنر اُمیدگاهې
    تۆرک و عرب و عجم پناهې

    (محمد فضولی بغدادی)
    وہ اہلِ ہُنر کی اُمیدگاہ ہے۔۔۔ وہ تُرک و عرب و عجم کی پناہ ہے۔

    Erbâb-ı hüner ümîd-gâhı
    Türk ü Arab ü Acem penâhı
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» اپنی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» کی ایک نعتیہ بیت میں واقعۂ معراج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    گئتدۆن اۏرایا که گئتمه‌ک اۏلماز
    یئتدۆن اۏرایا که یئتمه‌ک اۏلماز

    (محمد فضولی بغدادی)
    آپ اُس جگہ گئے جہاں جایا نہیں جا سکتا۔۔۔ آپ اُس جگہ پہنچے جہاں پہنچا نہیں جا سکتا۔

    Getdün oraya ki getmek olmaz
    Yetdün oraya ki yetmek olmaz
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مثنویِ «لیلیٰ و مجنون» میں موجود نعتیہ قصیدے کا مقطع:
    یا مُصطفیٰ فُضولیِ مُحتاجا رحم ائدۆپ
    اظهارِ التفات ایله قېل حاجتین روا

    (محمد فضولی بغدادی)
    یا مُصطفیٰ! فُضولیِ مُحتاج پر رحم کر کے اور اظہارِ اِلتِفات کر کے اُس کی حاجَت کو روا کر دیجیے۔

    Yâ Mustafâ Fuzûlî-i muhtâca rahm edüp
    İzhâr-ı iltifât ile kıl hâcetin revâ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «فُضولی» کے نعتیہ قصیدے «سو قصیده‌سی» کی بیتِ دُوُم:

    آب‌گون‌دور گُنبدِ دوّار رنگی بیلمه‌زم
    یا مُحیط اۏلموش گؤزۆم‌دن گُنبدِ دوّاره سو

    (محمد فضولی بغدادی)
    میں نہیں جانتا کہ [آیا] گُھومنے والے گُنبد (آسمان) کا رنگ آب جیسا ہے، یا پھر میری چشم سے آب [نِکل نِکل کر اِس] گُھومنے والے گُنبد (آسمان) پر مُحیط ہو گیا (یعنی پھیل گیا) ہے۔
    (یعنی شاعر کو لگتا ہے کہ شاید آسمان کا آبی رنگ اُس کے اشکوں کے باعث ہے۔)

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Abgundur günbədi-dəvvar rəngi, bilməzəm,
    Ya mühit оlmuş gözümdən günbədi-dəvvarə su.


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    Âbgûndur günbed-i devvâr rengi bilmezem
    Yâ muhît olmış gözümden günbed-i devvâre su
     
    آخری تدوین: ‏فروری 10, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مثنویِ «لیلیٰ و مجنون» سے ایک بیت:
    گنجینهٔ نظم گیزلۆ قالماز
    سانمان گۆنه‌ش اۏلسا نور سالماز

    (محمد فضولی بغدادی)
    نظم کا گنجینہ پِنہاں نہیں رہتا۔۔۔ یہ گُمان مت کیجیے کہ خورشید ہو گا لیکن نُور نہیں افشاں کرے گا۔

    Gencîne-i nazm gizlü kalmaz
    Sanman güneş olsa nûr salmaz
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «فُضولی» کے نعتیہ قصیدے «سو قصیده‌سی» کی بیتِ چہارُم:

    وهْم ایله‌ن سؤیله‌ر دلِ مجروح پَیکانېن سؤزۆن
    احتیاط ایله‌ن ایچه‌ر هر کیم‌ده اۏلسا یاره سو

    (محمد فضولی بغدادی)
    دلِ زخمی [تمہارے] تیر کی نوک کے بارے میں خوف کے ساتھ سُخن کرتا (بولتا) ہے۔۔۔ جو بھی شخص زخمی ہو وہ احتیاط کے ساتھ آب پِیتا ہے۔

    تشریح:
    «پَیکان» تیر کی آہنی نوک کو کہتے ہیں، اور اِس سے احتمالاً معشوق کی مِژگاں مُراد ہیں۔ یعنی عاشق کا دلِ مجروح معشوق کی مِژگاں کے بارے میں خوف و لرز کے ساتھ سُخن کہتا ہے۔ ایک قدیم طِبّی باور یہ تھا "مجروح کو آب نہیں پِینا چاہیے، کیونکہ آب پِینا مجروح کی موت کا باعث بن جاتا ہے"۔ زخمی حالت میں آب پِینے میں احتیاط اُسی باعث کی جاتی تھی۔ اور فُضولی نے اُسی طِبّی باور پر اِستِناد کرتے ہوئے عاشق کے دلِ مجروح کے طرزِ عمل کی یہ توجیہہ کی ہے۔

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Vəhm ilən söylər dili-məcruh peykanın sözün,
    Ehtiyat ilən içər hər kimdə оlsa yarə, su.


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    Vehm ilen söyler dil-i mecrûh peykânuñ sözin
    İhtiyât ilen içer her kimde olsa yare su
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «فُضولی» کے نعتیہ قصیدے «سو قصیده‌سی» کی بیتِ ششُم:

    اۏخشادا بیلمه‌ز غُبارې‌نې مُحرِّر خطّینه
    خامه تک باخماق‌دان ائنسه گؤزلری‌نه قاره سو

    (محمد فضولی بغدادی)
    کاتب اپنے [خطِ] غُبار کو تمہارے خطِ [مُو] سے مُشابِہ نہیں کر سکتا۔۔۔ خواہ نگاہ کرتے کرتے اُس کی چشموں میں قلم کی طرح سیاہ آب اُتر جائے۔

    تشریح:
    «غُبار» ایک رسم الخط کا بھی نام ہے، جس کی خاصیت یہ ہے کہ اُس کو بِسیار کُوچَک (چھوٹا) لِکھا جاتا ہے۔ اِسی وجہ سے محبوبِ جواں کے چہرے پر تازہ اُگے کُوچک بالوں کو خطِ غُبار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ بیت میں شاعر محبوب سے (یا جنابِ پیغمبر سے) کہہ رہا ہے کہ اگر کاتب اپنے خطِ غُبار کو تمہارے چہرے کے کُوچک بالوں جیسا کرنا چاہے تو ہرگز ایسا نہیں کر سکتا، خواہ تمہارے چہرے پر مُسلسل نگاہ کرتے رہنے سے اُس کی چشموں میں سیاہ آب اُتر آئے اور وہ نابینا ہو جائے۔ فارس-تُرک ادبیات میں "آبِ سیاہ" اُس سیاہی کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جس سے لِکھا جاتا ہے۔ شاعر اِس بیت میں غُبار، مُحرِّر، خامہ، خط، قاره سو (آبِ سیاه، سیاہی) جیسے الفاظ کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے صنعتِ مُراعات النظیر کو بروئے کار لایا ہے۔
    قلم کی چشم میں سیاہ آب اُتر آنا یعنی قلم کی نوک میں سیاہی بھر جانا۔
    چونکہ یہ ایک نعتیہ قصیدے کی تشبیب کا بیت ہے، لہٰذا گُمان کیا جا سکتا ہے کہ بیتِ ہٰذا میں شاعر یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ قلم پیغمبرِ گِرامی کے چہرے کی زیبائی کی توصیف کر پانے پر قادر نہیں ہے۔

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Оxşada bilməz qübarini mühərrir xəttinə,
    Xamə tək baxmaqdan ensə gözlərinə qarə su.


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    Ohşadabilmez gubârını muharrir hattuña
    Hâme tek bahmakdan inse gözlerine kare su
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» سے دو ابیات:
    قېز نرگسِ مست ائدیب فُسون‌ساز
    اۏغلانا ساتاندا عِشوه و ناز
    اۏغلان نئجه صبر پیشه قېلسېن؟
    ور صبری هم اۏلسا، نیشه قېلسېن؟

    (محمد فضولی بغدادی)
    جس وقت لڑکی [اپنی] نرگس جیسی چشمِ مست کے ساتھ جادوگری کرتے ہوئے لڑکے کے پیش میں عِشوہ و ناز کرے تو لڑکا کیسے صبر اختیار کرے؟ اور اگر اُس میں صبر ہو بھی تو وہ کس لیے کرے؟

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Qız nərgisi-məst edib füsunsaz,
    Oğlana satanda işvəvü naz
    Oğlan necə səbr pişə qılsın?
    Vər səbri həm olsa, nişə qılsın?


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    Kız nergis-i mest edüp füsûn-sâz
    Oğlana satanda işve vü nâz
    Oğlan niçe sabr pîşe kılsun
    Ve sabrı hem olsa nişe kılsun
     
    آخری تدوین: ‏فروری 25, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ارسلان بای، سن‌جه بورادا «نیشه» کلیمه‌سی نه آنلام‌دا قوللانېلمېش‌دېر؟
     
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جِسمۆم جفایِ شِدّتِ برْد ایله ناتوان
    باشوم بلایِ حادِثه داشې‌یلا سنگ‌سار

    (محمد فضولی بغدادی)
    میرا جسم شِدّتِ سرما کی جفا کے باعث ناتواں [ہے]۔۔۔ میرا سر بلائے حادثہ کے سنگ کے ذریعے سنگسار [ہے]۔

    Cismüm cefâ-yı şiddet-i berd ile nâ-tüvân
    Başum belâ-yı hâdise daşıyla sengsâr
     
    آخری تدوین: ‏فروری 18, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ارسلان بای

    ارسلان بای محفلین

    مراسلے:
    73
    اشتباه ائتمه‌سم «نه ایشه» شعر وزنینین دوغرولانماسی اوچون «نیشه» ایشلنمیشدیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «فُضولی» کے نعتیہ قصیدے «سو قصیده‌سی» کی بیتِ ہفتُم:

    عارِضین یادیله نم‌ناک اۏلسا مژگانېم نۏلا
    ضایع اۏلماز گُل تمنّاسیله وئرمه‌ک خاره سو

    (محمد فضولی بغدادی)
    اگر تمہارے رُخسار کی یاد سے میری مِژگاں (پلکوں کے بال) نم ناک ہو جائیں تو کیا ہوا؟۔۔۔ گُل کی تمنّا میں خار کو آب دینا ضائع نہیں جاتا۔

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Arizin yadilə nəmnak оlsa müjganım, nоla,
    Zaye’ оlmaz gül təmənnasilə vermək xarə su.


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    'Ârizuñ yâdıyla nemnâk olsa müjgânum n'ola
    Zâyi' olmaz gül temennâsıyla virmek hâre su
     
    آخری تدوین: ‏فروری 21, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ای ملَک‌سیما که سن‌دن اؤزگه حیران‌دور ساڭا
    حق بیلۆر انسان دیمه‌ز هر کیم که انسان‌دور ساڭا
    (محمد فضولی بغدادی)

    اے [محبوبِ] فرشتہ صُورت، کہ تمہارے بجز [ہر کوئی] تم پر شَیفتہ ہے!۔۔۔ حق تعالیٰ جانتا ہے کہ جو بھی شخص انسان ہے، وہ تم کو انسان نہیں کہتا۔

    İy melek-sîmâ ki senden özge ḥayrândur saña
    Ḥaḳ bilür insân dimez her kim ki insândur saña
     
    آخری تدوین: ‏فروری 26, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    گرچه ای دل یار ایچۆن یۆز ویردی یۆز مِحنت ساڭا
    ذرّه‌جه قطعِ محبّت ایتمه‌دۆڭ رحمت ساڭا
    (محمد فضولی بغدادی)

    اے دل! اگرچہ یار کی خاطر تم پر صدہا رنج و بلائیں آئیں۔۔۔ [تاہم] تم نے ذرّہ قدر [بھی] محبّت کو قطع نہ کیا، تم پر رحمت ہو!

    Gerçi iy dil yâr içün yüz virdi yüz miḥnet saña
    Ẕerrece ḳaṭ'-ı muḥabbet itmedüñ raḥmet saña
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بلایِ عشق و دردِ دوست ترکین قېلمازام زاهد
    نه مُشتاقِ بهِشتم سن کیمی نه طالبِ حُورم

    (محمد فضولی بغدادی)
    اے زاہد! میں بلائے عشق اور دردِ دوست کو تَرک نہ کروں گا!۔۔۔ نہ میں تمہاری طرح مُشتاقِ بہشت ہوں، [اور] نہ طالبِ حُور ہوں۔

    جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
    Bəlayi-eşqü dərdi-dust tərkin qılmazam, zahid,
    Nə müştaqi-behiştəm, sən kimi, nə talibi-hurəm.


    تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
    Belâ-yı aşk u derd-i dûst terkin kılmazem zâhid
    Ne mustâk-ı behiştem sen kimi ne tâlib-i hûrem
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    وصل قدرین بیلمه‌دیم هِجران بلاسېن چکمه‌دن
    ظۆلمتِ هجر ائتدی چۏخ مۆبهم ایشی رؤشن مانا
    (فضولی بغدادی)

    میں وصل کی قدر نہیں جانتا تھا، بلائے ہجراں نہیں کھینچی تھی۔ہجر کی تاریکی نے بسیار مبہم کام کو مجھ پر روشن کردیا۔

    Vəsl qədrin bilmədim hicran bəlasın çəkmədən
    Zülməti-hicr etdi çox mübhəm işi rövşən mana
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یعنی ہجراں کی بلا کھینچے بغیر/کھینچنے سے قبل۔۔۔
    مصرعِ اوّل کا یہ مفہوم بن رہا ہے:
    جب تک میں نے ہجراں کی بلا نہ کھینچی (یا ہجراں کی بلا کھینچے بغیر)، میں وصل کی قدر نہ جانا۔

     
    آخری تدوین: ‏مارچ 8, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    • متفق متفق × 1
  19. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غمزه تیغین چکدی اۏل ماه، اۏلما غافل، ای کؤنۆل
    کیم، مُقرردیر بو گۆن اؤلمک سانا، شیون مانا
    (فضولی بغدادی)

    اس ماہ نے تیغِ غمزہ کھینچ لی اے دل! غافل مت ہو کہ امروز تیرا مرنا اور میری فریاد نوشتہٗ تقدیر ہے!

    Qəmzə tiğin çəkdi ol məh, olma qafil ey könül
    Kim, müqərrərdir bu gün ölmək sana, şivən mana
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مُرده جِسمۆم اِلتِفاتوڭ‌دان بولور هر دم حیات
    اؤلۆره‌م گر قېلماساڭ هر دم ماڭا بیر اِلتِفات

    (محمد فضولی بغدادی)
    میرا مُردہ جِسم تمہارے اِلتِفات سے ہر لمحہ حیات پاتا ہے۔۔۔ اگر تم ہر لمحہ مجھ پر اِک اِلتِفات نہ کرو تو میں مر جاؤں [گا]۔

    Mürde cismüm iltifâtuñdan bulur her dem ḥayât
    Ölürem ger ḳılmasañ her dem maña bir iltifât

    × تُرکیہ کے ادبیات شناس مرحوم «علی نِهاد تارلان» کا خیال ہے کہ جس غزل سے یہ بیت لی گئی ہے وہ نعتیہ غزل ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 27, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر