1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

محمد فضولی بغدادی کے چند تُرکی اشعار

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 9, 2017

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «سرزمینِ بغداد» کی سِتائش میں جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی ایک بیت:
    روادور اَولیا بُرجې دیمه‌ک اۏل بُقعهٔ پاکه
    که هر علّامه‌یه منزل‌گه و هر عِلمه مظهردۆر

    (محمد فضولی بغدادی)
    اُس سرزمینِ پاک کو «بُرجِ اَولیا» کہنا روا ہے۔۔۔ کہ [وہ/جو] ہر علّامہ کی منزِل‌گاہ اور ہر عِلم کی جائے ظُہور ہے۔

    Revâdur evliyâ burcı dimek ol buḳ'a-i pâke
    Ki her 'allâmeye menzilgeh ü her 'ilme mazherdür
     
    آخری تدوین: ‏جون 22, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کُفرِ زُلفۆڭ سالالې رخنه‌لر ایمانوموزا
    کافر آغلار بیزۆم احوالِ پریشانوموزا
    (محمد فضولی بغدادی)

    جب سے تمہاری زُلف کے کُفر نے ہمارے ایمان میں رخنے ڈالے ہیں، کافر [بھی] ہمارے احوالِ پریشان پر گِریہ کرتا ہے۔

    Küfr-i zülfüñ salalı rahneler imânumuza
    Kâfir ağlar bizüm ahvâl-i perîşânumuza
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یار مهمانوموز اۏلدې گلۆن ای جان و گؤنۆل
    قېلالوم صَرف نه‌مۆز وار ایسه مهمانوموزا

    (محمد فضولی بغدادی)
    یار ہمارا مہمان ہوا [ہے]۔۔۔ اے جان و دل! آئیے، جو کچھ بھی ہمارے پاس ہو ہم اپنے مہمان پر صَرف کر دیں!

    Yâr mihmânumuz oldı gelün ey cân ü gönül
    Kılalum sarf nemüz var ise mihmânumuza
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    پَنبهٔ مرهمِ داغ ایچره نِهان‌دور بدَنۆم
    دیری اۏلدوقچا لِباسوم بودور اؤلسه‌م کفَنۆم

    (محمد فضولی بغدادی)
    میرا بدن مرہمِ داغ کی رُوئی کے اندر پِنہاں ہے۔۔۔۔ مَیں جب تک زندہ ہوں، میرا لباس یہ ہے، [اور] اگر میں مر جاؤں تو [یہی] میرا کفن [ہے]۔
    (یعنی میں اِس قدر زخمی ہوں کہ مرہم پر رکھی جانے والے رُوئی نے میرے کُل جِسم کو لِباس کی مانند ڈھانپ دیا ہے۔ مَیں اِس زخمِ عشق اور اِس لِباس کے بجُز کوئی چیز نہیں چاہتا۔ لہٰذا، جب تک زندہ ہوں، اِسی لِباس میں زندگی کروں گا، اور مرنے کے بعد بھی یہی میرا کفن بنے گا۔)

    × پَنبه = کپاس، رُوئی

    Penbe-i merhem-i dâġ içre nihândur bedenüm
    Diri olduḳça libâsum budur ölsem kefenüm


    × مصرعِ اوّل میں «پنبهٔ مرهمِ داغ» کی بجائے «پنبهٔ داغِ جُنون» بھی نظر آیا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 5, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» (رحمت بر او باد!) کا ایک مشہور تُرکی قطعہ:

    عِلم کسبی‌یله پایهٔ رفعت
    آرزویِ مُحال ایمیش آنجاق
    عشق ایمیش هر نه وار عالَم‌ده
    عِلم بیر قیل و قال ایمیش آنجاق

    (محمد فضولی بغدادی)

    [معلوم ہوا ہے کہ] کسبِ عِلم کے ذریعے پایۂ رِفعت [پر پہنچنا] فقط [اِک] آرزوئے مُحال تھا اور بس!۔۔۔ [معلوم ہوا ہے کہ] عالَم میں جو کچھ بھی تھا، عشق تھا۔۔۔ عِلم [تو] فقط اِک قِیل و قال تھا اور بس!

    İlm kesbiyle pâye-i rif’at
    Ârzû-yi muhâl imiş ancak
    Aşk imiş her ne var âlemde
    İlm bir kîl ü kâl imiş ancak
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» (هزار رحمت بر او باد!) اپنی تُرکی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» میں ایک جا «قَیس» یعنی «مجنون» کے زمانِ طِفلی اور زمانِ مکتب کو بیان کرتے ہوئے لِکھتے ہیں:

    هر صُبح گئده‌ردی مکتبه شاد

    مکتب‌ده اۏلوردې غم‌دان آزاد
    مشقِ خطِ حُسنِ یار ائده‌ردی
    دفعِ غمِ روزگار ائده‌ردی

    (محمد فضولی بغدادی)

    وہ (مجنون) ہر صُبح شادمانی کے ساتھ مکتَب جاتا تھا۔۔۔ [اور] مکتَب میں وہ غم سے آزاد ہو جاتا تھا۔۔۔ وہ [مکتَب میں] حُسنِ یار کے خط کی مشق کرتا تھا۔۔۔ [اور اِس طریقے سے] غمِ زمانہ کو [خود سے] دفع و دُور کرتا تھا۔۔۔

    × مکتَب = اسکول
    × خط = لکیر؛ یا رسم‌الخط

    Her subh gederdi mektebe şâd
    Mektebde olurdı gamdan âzâd
    Meşk-i hat-ı hüsn-i yâr ederdi
    Def‘-i gam-ı rûzgâr ederdi
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عشق دردی ای مُعالِج قابلِ درمان دئگۆل
    جَوهرین‌دن ائیله‌مه‌ک جِسمی جُدا آسان دئگۆل

    (محمد فضولی بغدادی)
    اے مُعالِج! عشق کا درد قابلِ عِلاج نہیں ہے۔۔۔ جِسم کو اُس کے جَوہر و اصل و ماہیّت سے جُدا کرنا آسان نہیں ہے۔

    ‘Aşk derdi ey mu‘âlic kâbil-i dermân degül
    Cevherinden eylemek cismi cüdâ âsân degül
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی تُرکی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» سے ایک حمدیہ بیت:

    ای وارې یۏخ ائیله‌یه‌ن یۏخې وار
    یۏخ وارلوغوڭ‌دا ظنّ و اِنکار

    (محمد فضولی بغدادی)

    اے ہست کو نیست، اور نیست کو ہست کرنے والے!۔۔۔ تمہاری ہستی میں کوئی ظنّ و اِنکار نہیں ہے!

    Ey varı yoḫ eyleyen yoḫı var
    Yoḫ varluġuñda ẓann ü inkâr


    ============

    عُثمانی شاعر «ضِیا پاشا» کی بھی مندرجۂ ذیل حمدیہ بیت دیکھیے، جس کے بارے میں عُثمانی ادیب «رِضا توفیق» کی رائے ہے کہ یہ جنابِ «فُضولی» کی مذکور در بالا بیت سے مُتَأثِّر ہے:

    ای وارلېغې، وارې وار ائده‌ن وار
    یۏق یۏق، سانا یۏق دئمه‌ک نه دُشوار

    (ضیا پاشا)

    اے وہ «ہست» کہ جس کی ہستی ہست کو ہست کرتی ہے!۔۔۔۔ نہیں نہیں! تم کو "نیست" کہنا کس قدر دُشوار ہے!

    Ey varlığı, varı var eden var
    Yok yok, sana yok demek ne düşvâr
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 22, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» اپنی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» کے ایک باب میں داستان بیان کرتے ہیں کہ جب «مجنون» کو معلوم ہوا کہ اُس کی دُوری و بیابان‌گردی کے دَوران اُس کی معشوق «لیلیٰ» کا نِکاح «ابنِ سلام» کے ساتھ ہو گیا ہے تو اُس نے «لیلیٰ» کو ایک شکایت‌آمیز نامہ لِکھا تھا۔ اُس نامے میں «مجنون» ایک جا شِکوَہ کرتے ہوئے لِکھتا ہے:

    تنهالېغا مې گتۆرمه‌دۆن تاب
    کیم ائیله‌دۆن آرزویِ هم‌خواب
    (محمد فضولی بغدادی)


    آیا تم کیا تنہائی کی تاب نہ لا [سکی] جو تم نے [بِالآخر کسی] ہم‌خواب کی آرزو کر لی؟

    Tenhâlığa mı getürmedün tâb
    Kim eyledün ârzû-yı hem-hâb
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» میں ایک جا «مجنون» کسی غزال سے مُخاطِب ہو کر کہتا ہے:

    ای چشمِ نِگار یادگارې
    سهل ائیله مانا غمِ نِگارې
    قېلدوق‌دا خیالِ چشمِ لَیلی
    سن وئر منِ خسته‌یه تسلّی
    (محمد فضولی بغدادی)


    اے [میری] معشوق کی چشم کی یادگار! (یعنی اے میری معشوق کی چشم کی یاد دِلانے والے غزال!)۔۔۔ غمِ معشوق [کی صُعوبت] کو مجھ پر آسان کر دو!۔۔۔۔ جس وقت مَیں چشمِ «لَیلیٰ» کا خیال کروں [اور چشمِ «لیلیٰ» کی یاد مجھ کو آزُردہ کرے]، تم مجھ خستہ و بیمار کو تسلّی دینا!

    × چشمِ معشوق کو عُموماً چشمِ آہُو سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

    Ey çeşm-i nigâr yâdigârı
    Sehl eyle mana gam-ı nigârı
    Kıldukda hayâl-i çeşm-i Leylî
    Sen ver men-i hasteye tesellî
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں ہر ایک دو روز کے بعد اپنے محبوب‌ترین تُرکی شاعر جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» (رحمت بر او باد!) کی تُرکی ابیات اِرسال کرتا رہتا ہوں، اور جو دوستان میرے مُراسلوں کے باقاعِدہ قاری ہیں، وہ جان چُکے ہوں گے کہ جنابِ «فُضولی» خود کی تُرکی شاعری میں بھی زبان و بیان و مفاہیم اور اُسلوبِ شعری کے لِحاظ سے کس قدر زیادہ «فارسی» اور «عجَمی» ہیں۔ جنابِ «فُضولی» اور اُن کی شاعری سے میری شدید محبّت کے اسباب میں اِس چیز کو بھی اساسی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اُن کی تُرکی شاعری مجھے قندِ پارسی جیسا ہی مزہ و لذّت دیتی ہے۔

    مشہور عُثمانی شاعر و ادیب «رٍضا توفیق» (وفات: ۱۹۴۹ء) نے جنابِ «فُضولی» کی شُہرۂ آفاق تُرکی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» کی چند ابیات پر یادداشتیں اور تبصِرے قلم‌بند کیے تھے۔ وہ مثنویِ مذکورہ کی مندرجۂ ذیل بیت کے ذیل میں لِکھتے ہیں:

    دهقانِ فصیحِ فارسی‌زاد
    بو گُلشَنه بئیله دیکدی شمشاد

    (محمد فضولی بغدادی)

    "دہقانِ فصیحِ فارسی‌زاد نے اِس گُلشن میں اِس طرح شَمشاد کاشت کیا [ہے]۔"

    Dihkân-i fasîh-i Fârisî-zâd
    Bu gülşene beyle dikdi şimşâd


    "یہ [بیت] شایانِ توجُّہ ہے، اور ظاہر کرتی ہے کہ «فُضولی» رُوحاً کس قدر عجَمی تھے۔"

    (رِضا توفیق)
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 26, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «نَیسان» سُریانی تقویم کا ماہِ ہفتُم، اور موسمِ بہار کا ماہِ دُوُم ہے، اور یہ رُومی تقویم کے ماہِ اپریل کے ساتھ زمانی مُطابقت رکھتا ہے۔ اِس ماہ میں ظاہراً بارِشیں ہوا کرتی تھیں، اور قُدَماء کا باور تھا، اور یہ باور فارسی-تُرکی شعری روایت کا بھی جُزء رہا ہے، کہ اِس ماہ کی بارانوں کے قطروں سے صدف کے اندر مروَارید (موتی) پیدا ہو جاتا ہے۔ اُسی باورِ قدیمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» اپنے ایک نعتیہ تُرکی قصیدے کے آخِر میں «حضرتِ رسول» کو مُخاطَب کر کے کہتے ہیں کہ:

    یُمنِ نعتۆڭ‌دن گُهر اۏلمېش فُضولی سؤزلری
    ابرِ نیسان‌دان دؤنه‌ن تک لُؤلُؤِ شه‌واره سو

    (محمد فضولی بغدادی)

    آپ کی نعت کی برکَت سے «فُضولی» کے سُخن‌ہا گوہر [میں تبدیل] ہو گئے ہیں۔۔۔ [ویسے ہی] جیسے ابرِ نیسان [کے واسِطے] سے [صدف میں] آب دُرِ شاہ‌وار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    (نعتِ پیامبر کی برکَت و یُمن کو ابرِ نیسان سے تشبیہ دی گئی ہے۔)

    × دُرِ شاہ‌وار = وہ دُر/مروَارید (موتی) جو شاہ کے لائق ہو۔
    × زبانِ تُرکی میں «نَیسان» کا تلفُّظ «نِیسان» رائج رہا ہے۔

    Yümn-i n'atüñden güher olmış Fużûlî sözleri
    Ebr-i nisândan dönen tek lü'lü-i şehvare ṣu
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی ایک تُرکی رِندانہ رُباعی:

    (رباعی)
    خۏش اۏل که دمِ اجل چکه‌م بادهٔ ناب
    سرمست یاتام قبرده تا روزِ حِساب
    غَوغایِ قیامت‌ده دورام مست و خراب
    نه فکرِ ثواب اۏلا نه پروایِ عذاب

    (محمد فضولی بغدادی)

    کیا ہی خُوب ہو کہ مَیں دمِ مرگ شرابِ خالص کھینچوں (نوش کروں)!۔۔۔ [اور پھر] قبر میں روزِ حِساب تک سرمست لیٹوں!۔۔۔ [اور] قیامت کے آشوب و غَوغا میں مست و بدمست اُٹھوں (بیدار ہوؤں)!۔۔۔ [اور اُس وقت] نہ [مجھے] فِکرِ ثواب ہو اور نہ پروائے عذاب ہو!

    Ḫoş ol ki dem-i ecel çekem bâde-i nâb
    Ser-mest yatam ḳabrde tâ rûz-ı ḥisâb
    Ġavġâ-yı ḳıyâmetde duram mest ü ḫarâb
    Ne fikr-i s̱evâb ola ne pervâ-yı 'aẕâb


    × مصرعِ چہارُم کا یہ متن بھی نظر آیا ہے:

    "نه فکرِ حساب اۏلا نه ادراکِ عذاب"
    نہ [مجھے] فِکرِ حِساب ہو اور نہ اِدراکِ عذاب ہو!
    Ne fikr-i ḥisâb ola ne idrâk-i 'aẕâb
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی ایک تُرکی مُسدّس کا بندِ اوّل، جس کے مِصرع‌ہائے اوّل و دُوُم و چہارُم و ششُم بہ یک وقت تُرکی بھی ہیں اور فارسی بھی:

    منه‌م که قافله‌سالارِ کاروانِ غمه‌م
    مُسافرِ رهِ صحرایِ محنت و الَمه‌م
    حقیر باخما ماڭا کیمسه‌دن ساغېنما کمه‌م
    فقیرِ پادشه‌آسا گدایِ مُحتَشمه‌م
    سِرِشک تختِ روان‌دور ماڭا و آه علَم
    جفا و جَور مُلازِم بلا و درد حشَم
    (محمد فضولی بغدادی)


    میں ہوں کہ جو قافِلہ‌سالارِ کاروانِ غم ہوں۔۔۔ میں صحرائے رنج و الَم کی راہ کا مُسافِر ہوں۔۔۔ مجھ پر حقارت سے نِگاہ مت کرو (مجھ کو حقیر مت جانو) [اور] مت سمجھو کہ میں کسی سے کم ہوں۔۔۔ میں پادشاہ جیسا فقیر (نادار)، اور گدائے مُحتَشَم ہوں۔۔۔ اشک میرا تختِ رواں ہے، اور آہ [میرا] پرچم!۔۔۔ جفا و جَور [میرے] مُصاحِبان و ہم‌راہان ہیں، اور بلا و درد [میرے] خِدمت‌کاران!

    Menem ki ḳâfile-sâlâr-ı kârvân-ı ġamem
    Misâfir-i reh-i ṣaḥrâ-yı miḥnet ü elemem
    Ḥaḳîr baḫma maña kimseden ṣaġınma kemem
    Faḳîr-i pâdişeh-âsâ gedâ-yı muḥteşemem
    Sirişk taḫt-ı revândur maña vü âh 'alem
    Cefâ vü cevr mülâzım belâ vü derd ḥaşem
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی زبان سے عِشق و حُسن کے درمیان مُقایسہ:

    عشق آیینهٔ جهان‌نُمادور
    کَیفیّتِ حُسن آنا جِلادور
    (محمد فضولی بغدادی)


    «عشق» آئینۂ جہان‌نُما (یعنی کُل جہان دِکھانے والے آئینہ) ہے۔۔۔ [جبکہ] «حُسن» کی کَیفیّت اُس (آئینے) کی صَیقل و جِلا و درخشندگی ہے۔

    Aşk âyîne-i cihân-nümâdur
    Keyfiyyet-i hüsn ana cilâdur


    مأخوذ از: مثنویِ «لیلیٰ و مجنون»
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «شراب» کی طلب و خواہش میں دو ابیات:

    ساقی مَیِ لاله‌فام یۏخ مې

    دؤزمه‌ن بو خُمارا جام یۏخ مې
    اؤلدۆردی منی غمِ نهانی
    یۏخ‌دور مې شرابِ ارغوانی
    (محمد فضولی بغدادی)

    اے ساقی! شرابِ لالہ‌فام (شرابِ سُرخ‌رنگ) نہیں ہے کیا؟۔۔۔ میں اِس خُمار کو تحمُّل نہیں کر [پاتا]، آیا جام نہیں ہے کیا؟۔۔۔ مجھ کو غمِ نِہانی نے قتل کر دیا۔۔۔ شرابِ ارغَوانی (شرابِ سُرخ) نہیں ہے کیا؟

    × خُمار = نشہ و مستی زائل ہونے کے بعد لاحق ہونے والی کیفیتِ سر درد و کسالت، جس میں شراب کی دوبارہ طلب محسوس ہوتی ہے؛ ہینگ‌اوور

    Sâkî mey-i lâle-fâm yoh mı
    Dözmen bu humâra câm yoh mı
    Öldürdi meni gam-ı nihânî
    Yohdur mı şarâb-ı ergavânî


    مأخوذ از: مثنویِ «لیلیٰ و مجنون»
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» نے جس زمانے میں اپنی ایک تُرکی مثنوی «بنگ و باده» اِتمام تک پہنچائی تھی، اُس وقت «عراقِ عرب» بانیِ سلطنتِ صفویہ «شاہ اسماعیل صفوی» کے تصرُّف میں تھا، لہٰذا اُس مثنوی کے ایک باب میں اُنہوں نے «شاہ اسماعیل صفوی» کی سِتائش میں بھی ابیات کہی ہیں۔ اُن میں سے دو ابیات مُلاحظہ کیجیے:

    جامِ فیضین ایچه‌ن مسیحا تک
    فیضِ روح‌القُدُس تاپار بی‌شک
    مَی گیبی خلقه فیضی نشئه‌رسان
    نشئه تک حُکمۆ ائل باشېن‌دا روان

    (محمد فضولی بغدادی)

    اُس [شاہ] کا جامِ فَیض پِینے والا شخص بے‌شک «مسیح» کی مانند فَیضِ رُوح‌القُدُس پاتا ہے۔۔۔ شراب کی مانند اُس کا فَیض خَلق کو نشئہ [و سُرُور] پہنچاتا ہے۔۔۔۔ [اور] نشئے کی مانند اُس کا حُکم مردُم کے سر پر رواں و جاری ہے۔۔۔۔

    Cami-feyzin içən, Məsihatək,
    Feyzi-ruhül-qüdüs tapar bişək.
    Mey gibi xəlqə feyzi nəş'ərəsan,
    Nəş'ətək hökmü el başında rəvan.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کے مشہور تُرکی نعتیہ قصیدے «سو قصیده‌سی» (قصیدهٔ آب) میں سے ایک بیت:

    ذکرِ نعتۆڭ وِردی‌نی درمان بیلۆر اهلِ خطا
    ائیله کیم دفعِ خُمار ایچۆن ایچه‌ر مَی‌خواره سو

    (محمد فضولی بغدادی)

    اہلِ خطا آپ کی نعت کے ذِکر کے وِرد کو [اپنے درد کا] درمان جانتے ہیں۔۔۔ [ویسے ہی] جیسے کہ خُمار کو دفع و دُور کرنے کے لیے مَیخوار آب پیتا ہے۔۔۔

    × خُمار = شراب کا نشہ و مستی زائل ہو جانے کے بعد لاحق ہونے والی کیفیتِ سر درد و کسالت، جس میں شراب کی دوبارہ طلب محسوس ہوتی ہے۔ اِس حالت میں آب پینے سے دردِ سر ذرا کم ہو جاتا ہے۔

    Ẕikr-i na'tüñ virdini dermân bilür ehl-i ḫaṭâ
    Eyle kim def'-i ḫumâr içün içer mey-ḫâre ṣu


    ============

    مندرجۂ بالا بیت کے مصرعِ اول کا یہ متن بھی نظر آیا ہے، جو میری نظر میں زیادہ بہتر و مُناسب ہے:

    ذکرِ نعتین دردی‌نه درمان بیلۆر اهلِ خطا

    اہلِ خطا اُن کی نعت کے ذِکر کو اپنے درد کا درمان جانتے ہیں۔۔۔

    Ẕikr-i na'tin derdine dermân bilür ehl-i ḫaṭâ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی تُرکی کتاب «حدیقة‌السُعَداء» سے ایک عاشورائی رِثائی قطعہ:

    ای فلک شرم ایت نه بِدعت‌دۆر که بُنیاد ائیله‌دۆن
    خاندانِ احمدِ مُختارا بی‌داد ائیله‌دۆن
    اهلِ بیتِ مُصطفایا بین سِتم گؤردۆن روا
    تا یزیدِ پُرجفانون گؤنلی‌نی شاد ائیله‌دۆن
    بو نه فکرِ باطل و اندیشهٔ بی‌هوده‌دۆر
    کیم یېقوپ بین کعبه بیر بُت‌خانه آباد ائیله‌دۆن
    ای یزیدِ پُرجفا هر کیمسه بیر آد ائیله‌میش
    سن داخی بو ظُلم ایله عالَم‌ده بیر آد ائیله‌دۆن

    (محمد فضولی بغدادی)

    اے فلک! شرم کرو! یہ کیسی بِدعت ہے کہ جس کی تم نے بُنیاد ڈالی۔۔۔ تم نے خاندانِ احمدِ مُختار پر ظُلم و بیداد کیا۔۔۔ تم نے اہلِ بَیتِ مُصطفیٰ پر ہزاروں سِتم روا رکھے۔۔۔ تا آنکہ تم نے یزیدِ پُرجفا کے دل کو شاد کر دیا۔۔۔ یہ کیسی فِکر باطِل اور [کیسا] خیالِ پوچ و یاوہ ہے کہ تم نے ہزار کعبوں کو ویران و نابود کر کے کہ ایک بُت‌خانے کو آباد کیا۔۔۔۔ اے یزیدِ پُرجفا! ہر ایک شخص نے [جہان میں کِسی عمل سے] کوئی نام بنایا ہے۔۔۔۔ تم نے بھی اِس ظُلم کے ذریعے عالَم میں [اپنا] اِک نام بنا لیا! (یعنی تم اپنے اِس ظُلم کے باعث مشہور ہوئے ہو۔)

    Ey felek şerm it ne bid’atdür ki bünyâd eyledün
    Hânedân-ı Ahmed-i Muhtâr’a bî-dâd eyledün
    Ehl-i Beyt-i Mustafâ’ya bin sitem gördün revâ
    Tâ Yezîd-i pür cefânun gönlini şâd eyledün
    Bu ne fikr-i bâtıl ü endîşe-i bî-hûdedür
    Kim yıkup bin Ka’be bir but-hâne âbâd eyledün
    Ey Yezîd-i pür-cefâ her kimse bir ad eylemiş
    Sen dahi bu zulm ile âlemde bir âd eyledün
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر