1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

محمد فضولی بغدادی کے چند تُرکی اشعار

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 9, 2017

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «محمد فُضولی بغدادی» کی ایک تُرکی رُباعی:

    کیم‌دۆر که غموڭ‌دا ناله و زار ایتمه‌ز
    دردین ساڭا ناله ایله اِظهار ایتمه‌ز
    فریادېنا هیچ کیمسه‌نۆڭ یئتمه‌زسین
    فریاد که فریاد ساڭا کار ایتمه‌ز
    (محمد فضولی بغدادی)


    [اے یار! ایسا] کون ہے کہ جو تمہارے غم میں نالہ و زاری نہیں کرتا؟ [اور] اپنے درد کو نالے کے ساتھ تم پر ظاہر نہیں کرتا؟۔۔۔ [لیکن] تم کسی بھی شخص کی فریاد پر نہیں پہنچتے۔۔۔۔ فریاد! کہ تم پر فریاد اثر نہیں کرتی!۔۔۔

    Kimdür ki gamuñda nâle vü zâr itmez
    Derdin saña nâle ile izhâr itmez
    Feryadına hîç kimsenüñ yetmezsin
    Feryâd ki feryâd saña kâr itmez
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرے محبوب‌ترین تُرکی شاعر و ادیب «محمد فُضولی بغدادی» کی تُرکی مثنوی «لیلیٰ و مجنون» کے نثری دیباچے سے ایک اقتباس اُردو ترجمے کے ساتھ دیکھیے، جس میں وہ توقُّع و اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کاش اُن کی وہ مثنوی داستانِ «لیلیٰ» کی مانند عالَم‌گیر اور محبّتِ «مجنون» کی مانند جاودانی ہو جائے! اِس چیز کی جانب بھی آپ کی توجُّہ کا مطلوب ہوں کہ اُن کی تُرکی نثر کس قدر زیادہ مخلوط از فارسی و عربی تھی۔

    ".... و اگر بو فقیرِ مُستَهام فُضولیِ بی‌سرانجام غایتِ قِلّتِ بِضاعت و نهایتِ نَقصِ اَمتِعهٔ فصاحت ایله اِستدعایِ اِندراجِ سِلکِ اربابِ حقایق و تمنّایِ اِنخِراطِ سلسلهٔ اصحابِ دقایق ایدۆب خزانهٔ حُسنِ لیلی تسخیری و خرابهٔ عشقِ مجنون تعمیری‌نه عازم اۏلور. ترصُّد اۏل‌دور که، اۏل طرزِ خامه و نقشِ نامه احسنِ وجْه ایله مُیَسّر اۏلوب حکایتِ لیلی کیمی عالَم‌گیر و محبتِ مجنون کیمی بقاپذیر اۏلا..."

    سادہ‌شُدہ اُردو ترجمہ: "۔۔۔۔ اور اگر یہ سرگشتہ فقیر اور پست و زبُون «فُضولی» [اپنے عِلم کے] سرمائے کی آخری درجے کی قِلّت اور [اپنی] فصاحت کی متاع کے انتہائی نَقص کے ساتھ اربابِ حقیقت کی صف میں داخل ہونے کی درخواست کرتے ہوئے اور اصحابِ نِکاتِ لطیفہ کے سِلسِلے میں وارِد ہونے کی تمنّا کرتے ہوئے حُسنِ «لیلیٰ» کے خزانے کی تسخیر اور عشقِ «مجنون» کے خرابے کی تعمیر کی جانب عازِم ہو رہا ہے، تو توقُّع یہ ہے کہ [اُس کی] وہ طرزِ قلم اور نقشِ تحریر خُوب‌ترین شکل میں مُیَسّر ہو کر حِکایتِ «لیلیٰ» کی مانند عالَم‌گیر اور محبّتِ «مجنو‌ن» کی مانند بقاپذیر ہو جائے گی۔۔۔۔"
     

اس صفحے کی تشہیر