پروین شاکر قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے - پروین شاکر

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 14, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (پروین شاکر)
    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے
    وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

    میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
    وہ مرے گھر کے دَر و بام سجانے آئے

    اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
    اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے

    اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
    وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے

    اب نہ پُوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
    وہ اگر آئے تو کُچھ بھی نہ بتانے آئے

    ضبط کی شہر پناہوں کی، مرے مالک!خیر
    غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلا نے آئے
    وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

    اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
    وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے


    واہ -
    بہت خوب شیئرنگ :)
     

اس صفحے کی تشہیر