الف عین

لائبریرین
جب قرعہ فال میرے نام دال دیا گیا ہے کہ تقسیم کروں تو محض ایک مشورہ، تقسیم کار کی نوعیت کا
[quote="امجد علی راجا
بادشاہ وزیر کی باتیں سن کر آگ بگولہ ہو گیا، داروغہ زندان کو حکم دیا گیا کہ اس گستاخ کو قید خانے کے اندھیروں کی نظر کر دیا جائے، اسے موت سے بھی اذیت ناک زندگی دی جائے۔ ایسا ہی ہوا۔

بادشاہ کے مظالم بڑھتے گئے، لوگوں کی بددعائوں میں اضافہ ہوتا گیا، اور ایک دن ۔ ۔ ۔ ایک دن سب کی دعائیں قبول ہوئیں اور دوسری سلطنت کے راجہ نے حملہ کردیا۔ فوجی مرنے لگے، نئی بھرتیوں کے لئے کوئی تیار نہ ہوا کہ اس ظالم بادشاہ کا تخت و تاج بچانے کے لئے ہم اپنی جان قربان نہیں کر سکتے (اس بات کا ذکر لازمی ہے)۔

راجہ نے بادشاہ کو شکست دی، اور اسے جیل میں قید کردیا۔ بادشاہ نے وہاں بھوک دیکھی، پیاس دیکھی، تکلیف دیکھی، بے بسی اور لاچاری نے اس کا سارا غرور خاک میں ملا دیا۔ سارا تکبر اور غرور زمین پر آ گرا۔ اس کے اندر کا انسان جاگا، دوسروں کا دکھ درد محسوس کرنے لگا، ان کی مدد کرنے لگا، اسے بادشاہت کی لالچ نہ رہی بلکہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا رہا۔

لوگوں نے بادشاہ میں اتنی تبدیلی دیکھی تو وہ بادشاہ کی قدر کرنے لگے، دل سے اس کی عزت کرنے لگے۔ اس سے نفرت کرنے والے اس کی وفادار اور جاں نثار بن گئے۔ سب نے مل کر بغاوت کا فیصلہ کیا، اور بادشاہ کو اس کا کھویا ہوا منصب واپس دلانے کی قسم کھائی۔

بغاوت کا علم بلند ہوا، اور بادشاہ کے وفادار جیل توڑ کو بادشاہ سمیت فرار ہو گئے۔ ایک جنگل ان کا ٹھکانا بنا، کچھ ساتھی بادشاہ کے ساتھ رہ گئے اور باقی اپنے اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گئے تا کہ بادشاہ کے لئے رعایا کی ہمدردی حاصل کرسکیں، اور انہیں اپنے مقصد سے شامل کر سکیں۔
مختلف علاقوں سے لوگ چھپ چھپ کر ملنے آنے لگے اور یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ بادشاہ پہلے جیسے نہ تھا، وہ ایک اچھا انسان تھا، جسے اپنے بادشاہ ہونے کا گھمنڈ نہ تھا بلکہ اپنے سپاہی ہونے پر فخر تھا۔

لوگ ساتھ ملتے گئے، اور کارواں بنتا گیا ۔ ۔ ۔ پھر آسمان نے عوام کی یکجہتی کی طاقت کا وہ نظارہ کیا جس نے راجہ کی حکومت کو تہس نہس کردیا۔ بہت سے جاں نثاروں نے اپنی جان قربان کی لیکن بادشاہ کو اس کا منصب واپس دلوا دیا۔

اس کے بعد بادشاہ نے اس ذمہ داری سے حکومت کی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ عوام کی ترقی کے لئے بہت اقدامات کئے گئے، تعلیم کے فروغ کے لئے مدارس بنوائے گئے، طب خانے بنوائے گئے، مفت تعلیم، مفت علاج، روزگار کے بھرپور مواقع۔ (یہاں ترقی کی جو جو بات دل میں آئے لکھیں، خوب لکھیں)

اس مقام پر آکر آپ سب کو وزیر یاد آ رہا ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟

بادشاہ کو جب جیل میں ڈالا گیا تو وزیر نے ہی اسے سہارا دیا، بادشاہ نے اس کی ہر بات کو تسلیم کیا اور اس کے رہنمائی میں خود کو سدھارا۔ تحریک میں وزیر پیش پیش رہا، جنگ میں اپنی آنکھوں سے بھی محرورم ہوگیا، اور پتہ ہے فتح کے بعد بادشاہ نے جب وزیر کو وزیر اعظم بنایا تو کیا کہا؟

تم نے اپنی آنکھیں کھو دیں لیکن میری آنکھیں کھول دیں
[/quote]
اس طرح سات حصے تو ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں سب سے فعال اور زود گو تو امجد علی راجا ہیں اور @محمداسامہ سَرسَری۔ کوئی اور اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہے تو پہلے اطلاع دے دے۔ورنہ یہ دونوں ہی ایک کے بعد ایک حصہ لے لیں۔ محمد خلیل الرحمٰن کسی حصے پر کام کرنا چاہیں تو اطلاع دے دیں۔
 
مندرجہ بالا خبر (جواب نمبر 87) کا متن:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ایک نظم میں تین تین شاعر
انور سِن رائے
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آخری وقت اشاعت: اتوار 31 مارچ 2013 ,‭ 19:25 GMT 00:25 PST
Facebook
Twitter
دوست کو بھیجیں
پرنٹ کریں

مسعود قمر نے تقریب کی صدر تنویر انجم کو کتاب پیش کی، ساتھ میں عذرا عباس اور پروفیسر سحر انصاری
بدھ کی شام کراچی آرٹس کونسل میں ایک ایسے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں شامل ہر نظم میں تین تین شاعروں نے مل کر حصہ لیا۔
’قہقہہ انسان نے ایجاد کیا‘ حسین عابد، سمعود قمر اور جاوید انور ہیں، اور اس سے پہلے سویڈن کے رہنے والے مسعود قمر کا مجموعہ ’سوکھی گھاس کا نظم پڑھنے سے انکار‘ کے نام سے، حسین عابد (جرمنی) کے مجموعے ’اتری کونجیں‘ اور ’دھندلائے دن کی جدت‘ کے ناموں سے اور جاوید انور (آسٹریا) کے مجموعے ’شہر میں شام‘، ’اشکوں میں دھند‘، ’بھیڑیے سوئے نہیں‘ اور ’برزح کے پھول‘ کے ناموں سے آ چکے ہیں۔
اسی بارے میں
صابر ظفر کا اکتیسواں شعری مجموعہ
سندھی میں عشق کی نئی دکان
بالوں کا گچھا، عقیدے اور محبت
متعلقہ عنوانات
فن فنکار
تقریب رونمائی کی صدارت تنویر انجم نے کی جو شاعری کے چار اور غزلوں کے ایک مجموعے کی خالق ہیں۔ وہ عالمی ادب سے اردو میں تراجم بھی کرتی ہیں۔ انھوں نے کراچی سے انگریزی ادب پڑھنے کے بعد امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کا نیا شعری مجموعہ ’نئے نام کی محبت‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔
تنویر کا کہنا تھا کہ تین لوگوں کا مل کر شعر کہنا ان معنوں میں نیا واقعہ ہے کہ تین لوگوں یہ کام طے کر کے کیا ہے، ورنہ تو اردو ہی میں نہیں دنیا کی کم و بیش ہر زبان کا فوک ادب اور شاعری انفرادی نہیں اجتماعی تخلیق ہوتے ہیں۔
ان کہنا تھا کہ یہ کوشش فرد اور اس کی انفرادیت پر سوال اٹھاتی ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا اشتراک کی اس حد کو چھوا جا سکتا ہے جہاں کوئی ایک، کسی دوسرے کی تخلیق میں شریک ہو سکے۔ لیکن یہاں تو ایک دوسرے میں دوسرا، تیسرے میں اور تیسرا، پہلے میں اس طرح شریک ہیں کہ انھیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔
تنویر کا کہنا تھا کہ مجموعے میں شامل نظموں میں تلازماتی تسلسل کو محسوس کیا جا سکتا ہے اور یہی ان نظموں کی ساخت بھی ہے جس کے ذریعے آپ چاہیں تو نظم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان نظموں سے استہزا کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ استہزا صرف رسم و رواج کے خلاف نہیں خود ان کے خلاف بھی ہے جو ان نظموں کو لکھ رہے ہیں۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی شاعرہ، کہانی کار اور ناول نگار عذرا عباس نے ان دنوں کو یاد کیا جب تیس سال قبل نثری شاعری نے کراچی سے ایک تحریک کی صورت ابتدا کی تھی۔
ان دنوں کی یاد
تقریب کی مہمانِ خصوصی شاعرہ، کہانی کار اور ناول نگار عذرا عباس نے ان دنوں کو یاد کیا جب تیس سال قبل نثری شاعری نے کراچی سے ایک تحریک کی صورت ابتدا کی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ تب قمر جمیل کے گرد نوجوانوں کا ایک گروہ تھا۔ کچھ سینیئر بھی تھے لیکن نوجوانوں کے لیے قمر جمیل زیادہ پُر کشش تھے، وہ شاعری کا الاؤ جلائے بیٹھے تھے اور جو بھی آتا وہ اس الاؤ سے اس کے اندر اس کی اپنی آگ کو روشن کر دیتے۔
عذرا نے بتایا کہ وہ بھی ان نوجوانوں میں شامل تھیں۔ تب قمر جمیل کو شاعری کے لیے اپنے تصورات کی وجہ سے کیا کیا سہنا اور سننا پڑا اس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آج ان کے جلائے ہوئے الاؤ کی روشنی اور حرارت ہر نثری نظم میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ تب قمر جمیل کے گرد نوجوانوں کا ایک گروہ تھا۔ کچھ سینیئر بھی تھے لیکن نوجوانوں کے لیے قمر جمیل زیادہ پُر کشش تھے، وہ شاعری کا الاؤ جلائے بیٹھے تھے اور جو بھی آتا وہ اس الاؤ سے اس کے اندر اس کی اپنی آگ کو روشن کر دیتے۔
عذرا نے بتایا کہ وہ بھی ان نوجوانوں میں شامل تھیں۔ تب قمر جمیل کو شاعری کے لیے اپنے تصورات کی وجہ سے کیا کیا سہنا اور سننا پڑا اس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آج ان کے جلائے ہوئے الاؤ کی روشنی اور حرارت ہر نثری نظم میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انفرادی طور پر خود شعر کہنے میں کوئی مشکل نہیں لیکن دوسروں کو یہ احساس دلانا کہ شاعر ہونا اور شاعری کرنا اور وہ بھی ایک ایسی فارم میں جسے قبول عام کی بجائے شدید مخالفت کا سامنا ہو اتنا آسان نہیں جتنا سننے میں محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آج یہ تمام باتیں جو کسی تاریخ میں نہیں ہیں ہر اُس کے لیے شاعری کا وہ راستہ کھول چکی جس کے لیے کسی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت نہیں۔
عذرا نے بتایا کہ وہ اس کتاب میں شامل اکثر نظموں کو شائع ہونے سے پہلے پڑھ چکی ہیں اور مسعود قمر انھیں یہ نظمیں تب تب بھیجتے رہتے تھے جب جب یہ لکھی جاتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے وہ نظمیں بھی پڑھی ہیں جو اس کتاب میں شامل نہیں ہیں اور ان کے لیے یہ بات اہم نہیں کہ انھیں کسی ایک نے لکھا ہے، تین نے لکھا ہے یا تین ہزار نے۔ آپ یہ نظمیں پڑھیں تو آپ کے لیے یہ بات اہم نہیں رہے گی کہ انھیں ایک نے یا کئی ایک نے مل کر لکھا ہے۔
پروفیسر سحر انصاری کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نثری شاعری کے حق میں نہیں ہیں، جو درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب شاعری کا ترجمہ کیا جاتا ہے تو جو ترجمہ نثر میں کیا جاتا ہے وہ اصل سے قدرے قریب لے جاتا ہے اور جب ترجمے منظوم کیے جاتے ہیں ان پر رابرٹ فراسٹ کی یہ بات زیادہ صادق آتی ہے کہ شاعری کا ترجمہ کرنے کے بعد جو چیز ترجمے سے باہر رہ جاتی ہے وہ شاعری ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مجموعے میں موجود شاعری میں شاعروں کا انداز روایت سے ہٹا ہوا ہے۔
جذبوں سے زیادہ دلچسپی
نوجوان اور دو شعری مجموعوں کے خالق کاشف رضا کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ شعری مجموعے کی بجائے مسعود قمر کے مجموعے ’سوکھی گھاس کا نظم پڑھنے سے انکار‘ پر بات کریں گے۔
انھوں نے کہ مسعود قمر زندگی کو ایک رخ اور ایک ترتیب میں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انھیں اپنے جذبوں سے زیادہ دلچسپی ہے اور ان کے ہاں زندگی کو بے دریغ صرف کرنے کا روّیہ محسوس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ امام نے اپنے ڈاکٹر ہونے کی توضیح کرنے کے بعد کہا کہ تجربہ برائے تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، تجربے میں فکر بھی شامل کر دی جائے تو بات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تین شاعروں کا مل کر لکھنے کی بات، سننے میں ہی عجیب سے لگتی ہے۔ لیکن جب مقصد ایک ہوتا ہے تو الگ الگ ہونے کا فرق مٹ جاتا ہے اور یوں بھی سفر میں سفر نہیں سمت اہم ہوتی ہے۔
نوجوان اور دو شعری مجموعوں کے خالق کاشف رضا کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ شعری مجموعے کی بجائے مسعود قمر کے مجموعے ’سوکھی گھاس کا نظم پڑھنے سے انکار‘ پر بات کریں گے۔
انھوں نے کہ مسعود قمر زندگی کو ایک رخ اور ایک ترتیب میں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انھیں اپنے جذبوں سے زیادہ دلچسپی ہے اور ان کے ہاں زندگی کو بے دریغ صرف کرنے کا روّیہ محسوس ہوتا ہے۔
توقیر چغتائی کا کہنا تھا کہ اس مجموعے میں شامل نظموں سے انسانوں کی ٹوٹ پھوٹ کو ہم تک پہنچایا گیا ہے اور کچھ نظمیں ضرور ایسی ہیں جن میں کچھ شعری ٹکڑی مل جاتے ہیں۔
نصیر سومرو کا کہنا تھا کہ یہ شاعری تضادات سے آراستہ ہے۔ اگرچہ یہ تین لوگوں کی شاعری ہے لیکن اسلوب اور بیان ایک سا ہے اور وحدتِ فکر ہے۔ نظموں سے وجودیت اور ابہام کا ادراک ہوتا ہے۔
تقریب کی نظامت عزل کے سینیئر اور معروف شاعر صابر ظفر نے کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
محمد اسامہ سَرسَری بھیا، محمد خلیل الرحمٰن بھیا کو استادِ محترم الف عین نے اپنا حصہ چننے کا اختیار دے دیا ہے، اس لئے میری طرح آپ بھی انتظار فرمائیئے۔ محمد خلیل الرحمٰن بھیا اپنے حصہ کی ذمہ داری اٹھالیں، اس کے بعد "چوہدری" صاحبان لڑیں گے۔
لڑنے کا طریقہ بہت خوب ہوگا، بقول مشہور و معروف شاعر محترم امجد علی راجا:
دوست ہیں ہم کیوں لڑیں اس کے لئے
وہ تری ہے یا مری، چل ٹاس کر:biggrin:
 
چودھری صاحبان ، ہمیں بھی اپنا حصہ چاہیے:)
خلیل، پہلے اپنا حصہ الگ کر لو، اور باقی کے لئے دونوں چودھریوں کو لڑنے دو
جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب! اب ہم آپ کی طرف سے تقسیم کار کے منتظر ہیں۔
 
بہت دنوں بعد یہاں آیا ہوں دوبارہ پڑھ کر بہت اچھا لگا تو یہ سلسلہ آگے کب چلے گا

جناب امجد علی راجا صاحب بیمار ہیں اللہ انھیں صحت کاملہ عاجلہ نصیب فرمائے۔
اور محترم جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب بہت مصروف ہیں، کہانی تو امجد بھائی نے تیار کرلی ہے، بس اسے نظمانے کے لیے خلیل بھائی کی طرف سے تقسیمِ کار کا انتظار ہے۔
 
یہ مسئلہ بہت دنوں سے ہمارے ذہن میں اٹکا ہوا ہے۔ راجا بھائی اللہ کرے جلد صحت یاب ہوکر محفل میں واپس اجائیں تو بات بڑھے
 
آخری تدوین:

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
بہت دنوں سے یہ مسئلہ ہمارے ذہن میں اٹکا ہوا ہے۔ راجا بھائی اللہ کرے جلد صحت یاب ہوکر محفل میں واپس اجائیں تو بات بڑھے
جناب امجد علی راجا صاحب بیمار ہیں اللہ انھیں صحت کاملہ عاجلہ نصیب فرمائے۔
اور محترم جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب بہت مصروف ہیں، کہانی تو امجد بھائی نے تیار کرلی ہے، بس اسے نظمانے کے لیے خلیل بھائی کی طرف سے تقسیمِ کار کا انتظار ہے۔
الحمداللہ راجا بھائی اب کافی بہتر ہیں کل ہی ہماری ملاقات ہوئی ہے ان سے اللہ تعالیٰ مکمل صحتِ کاملہ عطا فرمائے آمین
 
مدیر کی آخری تدوین:

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
تقریباً تین ماہ کی پریشانی کے بعد یہ خوش خبری سننے کو ملی ہے۔ بہت شکریہ خرم شہزاد خرم بھائی۔ اللہ امجد علی راجا بھائی کو صحتِ کاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرمائے۔ ہم محفل میں ان کی آمد کے منتظر ہیں۔
امجد علی راجا صاحب سے ملاقات کل ایک افطار پارٹی میں ہوئی جس کی روداد نرنگ خیال بھائی نے لکھی ہے
 
ارے اب مری بھی ذرا بات سن لو
بحور اسکی جو منتخب ہیں، وہ چن لو

یہ بحر اصل میں مثنوی کی نہیں ہے
توگویا یہ اب مثنوی ہی نہیں ہے

تو محذوف بحرِ تقارب ہی حل ہے
×جو! فعولن فعولن فعولن فعَل ہے

×یہ "جو" کا اضافہ ایک زحاف کے تحت کیا گیا ہے۔


مثنوی کی مخصوص بحور ہیں جن میں مثنوی کہی جاتی ہے۔ ان کے نام اور اوزان:
1۔ بحرِ متقارب مثمن محذوف:
فعولن فعولن فعولن فعل

2۔ بحرِ ہزج مسدس محذوف:
مفاعیلن مفاعیلن فعولن

3۔ بحرِ ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف:
مفعولُ مفاعلن فعولن

4۔ بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف:
فاعلاتن مفاعلن فعِلن

5۔ بحر رمل مسدس محذوف:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

6۔ بحرِ رمل مسدس مخبون محذوف:
فعلاتن فعلاتن فعلن

7۔ بحرِ سریع مسدس محذوف:
مفتعلن مفتعلن فاعلن
لکھا جو لکھا خوب عمدہ لکھا
جواب اس کا مجھ کو بھی اب دو ذرا
کہ کیا مثنوی کے یہی وزن ہیں؟
روا ہے اگر حصر کرکے لکھیں؟
 
Top