1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل ۔ وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 14, 2011

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل

    وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
    گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

    نئی رُتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
    وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

    یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
    کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے

    ہزار مجھ سے وہ پیمانِ وصل کرتا رہا
    پر اُس کے طور طریقے مُکرنے والے تھے

    تمھیں تو فخر تھا شیرازہ بندیء جاں پر
    ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے

    تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
    وہ رنگ اُتر ہی گئے جو اُترنے والے تھے

    اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں
    وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے

    جمال احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 5
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    عمدہ اور بہت ہی خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,169
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ احمد صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ کاشفی بھائی اور وارث بھائی۔ 8)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں​

    وہ رنگ اُتر ہی گئے جو اُترنے والے تھے​


    اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں​

    وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے​


    بہت خوب۔
    بہت شکریہ احمد! :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ فرحت صاحبہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,777
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
    وہ رنگ اُتر ہی گئے جو اُترنے والے تھے

    واہ احمد بھائی۔ لاجواب :) عمدہ (y)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    :aadab:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. فرخ انیق

    فرخ انیق محفلین

    مراسلے:
    43
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ’’کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے‘‘ میں میرا خیال ہے کہ دوسرے ’کہ‘ کی جگہ ’کے‘ آتا ہے ۔۔۔
    بہت اچھا انتخاب ہے احسانی صاحب کی کیا بات ہے۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ فرخ صاحب،

    جہاں تک بات "کہ" کے استعمال کی ہے تو وہ میرا خیال ہے کہ ٹھیک ہی ہے۔ یہاں پر "کہ" سبب کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ لغت میں "کہ" کے معنی یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ایک اور شعر دیکھیے:

    نہ کھا سکیں گی نگاہیں مری فریبِ سکوں
    کہ دھڑکنوں ہی سے پائی ہی زندگی میں نے
    یہاں بھی یہی صورتحال ہے۔
     
  11. فرخ انیق

    فرخ انیق محفلین

    مراسلے:
    43
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    احمد بھائی پہلا کہ ٹھیک ہے میرا اشارہ دوسرے والے کہ کی طرف تھا۔۔۔ "اب تو جا کے کہیں"
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت معذرت ! میں نے غور نہیں کیا۔

    یہاں واقعی تدوین کی ضرورت ہے۔ نشاندہی کا شکریہ۔۔۔!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کے یا کہ سے قطع نظر اِس شعر :

    نئی رُتوں میں دُکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
    وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

    کا پہلا مصرع :
    " نئی رُتوں میں دُکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے"
    غلط ہے کہ دوسرے مصرع اسے بخوبی زمانہ حال ظاہر کر رہا ہے
    دوئم: ایسا لکھنے یا کہنے سے، کئی رتوں کا ایک ساتھ آنا ظاہر ہوتا ہے ۔
    جبکہ رُتوں میں ہر رُت کی اپنی آمد یکتا اور معین ہے

    اسے یوں، یا کچھ اس طرح کا لکھنا چاہیے تھا کہ :
    نئی ہے رُت تو دکھوں کے ہیں سلسلے بھی نئے

    یا پھر 'ہیں' کو، " ہوں" کردینا چاہیے تھا :

    نئی رُتوں میں دُکھوں کے بھی سلسلے ہوں نئے

    ویسے ہی اپنا خیال لکھ دیا، شاید احسانی صاحب دیکھ لیں :)
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 1, 2013
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    بہت اچھی غزل ہے۔۔
     
  15. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں
    وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے
    بہت خوب
    شکریہ
     
  16. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    زبردست
    عمدہ انتخاب
     
  17. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,889
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
    کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے!
    ہائے!!
     
  18. ہادیہ

    ہادیہ محفلین

    مراسلے:
    5,092
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ۔۔ عمدہ ۔زبردست
    محمد احمد بھائی آپ کہاں چلے گئے ہیں؟؟؟ آپ بھی نہیں آرہے:(
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,169
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    احمد صاحب کا تو حال ہی میں شادی شریف کا وقوعہ پیش آیا ہے سو ان کی غیر حاضری کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر