غزل: طلوعِ صبح کا پیغام آیا ٭ تابش

ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر

طلوعِ صبح کا پیغام آیا
شبِ ظلمت کٹی، اسلام آیا

نہ پوچھو اپنی سرشاری کا عالم
مئے وحدت کا جس دم جام آیا

پڑی جب بھی تعارف کی ضرورت

تمھارا ہی حوالہ کام آیا

محبت زخم ہی ایسا ہے ہمدم
نمک چھڑکا تو کچھ آرام آیا

چھڑا جب بھی جفا کیشی کا قصہ
سرِ فہرست تیرا نام آیا

نہیں کہہ پایا ’مجرم‘ اس کو تابشؔ
جو بھولا صبح کا تھا، شام آیا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
 
ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر

طلوعِ صبح کا پیغام آیا
شبِ ظلمت مِٹی، اسلام آیا

نہ پوچھو اپنی سرشاری کا عالم
مئے وحدت کا جس دم جام آیا

محبت زخم ہی ایسا ہے ہمدم
نمک چھڑکا تو کچھ آرام آیا

چھڑا جب بھی جفا کیشی کا قصہ
سرِ فہرست تیرا نام آیا

پڑی جب بھی تعارف کی ضرورت
تمھارا ہی حوالہ کام آیا

نہیں کہہ پایا مجرم اس کو تابشؔ
جو بھولا صبح کا تھا، شام آیا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
خوبصورت خوبصورت
 

ماشاءاللہ۔
شاندار غزل۔

بے شک۔
بہت خوب تابش بھائی

یہ اسلامی غزل لکھی ہے، تابش بھائی؟
یہ شعر اچھا لگا:
آپ جو نام دے لیں۔ :)
ارے اتنی خوبصورت غزل!
کب کہی؟
اگر پہلے تو اب تک کہاں چھپائی ۔۔۔کیوں چھپائی,؟
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا :)

تمام احباب کی محبتوں پر سپاس گزار ہوں۔
 
واہ واہ! کیا بات ہے تابش بھائی ! ہماری غیر موجودگی میں آپ نے اچھے گل کھلائے ہیں ۔ :D

محبت زخم ہی ایسا ہے ہمدم
نمک چھڑکا تو کچھ آرام آیا

اس شعر کی الگ سے داد! بہت خوب!!!
 
واہ واہ! کیا بات ہے تابش بھائی ! ہماری غیر موجودگی میں آپ نے اچھے گل کھلائے ہیں ۔ :D

محبت زخم ہی ایسا ہے ہمدم
نمک چھڑکا تو کچھ آرام آیا

اس شعر کی الگ سے داد! بہت خوب!!!
پسند فرمانے پر ممنون ہوں۔
اساتذہ کی داد سے حوصلہ دو چند ہو جاتا ہے۔ :)
 
پسند فرمانے پر ممنون ہوں۔
اساتذہ کی داد سے حوصلہ دو چند ہو جاتا ہے۔ :)
پھر گھسیٹ دیا نا آپ نے مجھے بھی اساتذہ میں۔ تابش بھائی ، میں تو اساتذہ کے خوشہ چینوں میں سے ہوں ۔ شرمندہ کردیتے ہیں آپ ۔
ہمارے ایک دوست منظور جمالی کے بقول: اساتذہ اب کہاں ۔ اب تو اَساں تُساں ہی رہ گئے ہیں ۔ :):):)
 
Top