1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جگر غزل-دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد (جگر مراد آبادی

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 23, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

    چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
    اب تک ہے وہ اک نغمہء بے ساز و صدا یاد

    کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں
    کیجیئے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

    جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش
    اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

    کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو
    مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

    مدت ہوئی اک حادثہ ء عشق کو لیکن
    اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

    جگر مراد آبادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد نعمان

    محمد نعمان محفلین

    مراسلے:
    1,100
    احمد ندیم قاسمی نے بھی کیا خوب شعر کہا ہے

    موت سے کس کو مفر ہے مگر انسانوں کو
    پہلے جینے کا قرینہ تو سکھایا جا ئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,057
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

    بہت خوب ۔ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    شکریہ پیاسا صحرا صاحب۔
    برادرم وارث صاحب کے حکم پر اس غزل کے باقی اشعار جو میسر آ سکے یہاں بھی حاضر کیے دے رہا ہوں۔

    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

    میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد
    شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد

    چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
    اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد

    کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں
    کیجیے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

    جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرمِ نوازش
    اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

    کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو
    مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

    میں ترکِ رہ و رسمِ جنوں کر ہی چکا تھا
    کیوں آ گئی ایسے میں تری لغزشِ پا یاد

    مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن
    اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  5. محمد نعمان

    محمد نعمان محفلین

    مراسلے:
    1,100
    بہت شکریہ فاتح بھائی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. امر شہزاد

    امر شہزاد محفلین

    مراسلے:
    225
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوب!
    اس غزل کو اختری بیگم نے گایا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    نعمان صاحب! محبتیں ہیں آپ کی۔

    امر شہزاد صاحب! شاید آپ کی نظر اس دھاگے پر نہیں پڑی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    بہت شکریہ جناب پیاسا صحرا صاحب اور جناب فاتح صاحب ۔

    عمدہ انتخاب ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ فاتح صاحب، غزل مکمل کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

    میں شکوہ بہ لب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد
    شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد

    چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
    اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد

    جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم ِنوازش
    اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

    کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب ِجنوں کو
    مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

    (قطعہ)
    مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو، لیکن
    اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

    ہاں تجھے کیا کام مری شدتِ غم سے
    ہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد

    میں ترکِ رہ و رسمِ جنوں کر ہی چکا تھا
    کیوں آ گئی ایسے میں تری لغزشِ پا یاد

    کیا لطف کہ میں اپنا پتا آپ بتاؤں
    کیجیے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

    (جگر مراد آبادی)
     
    • زبردست زبردست × 1
  11. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد


    (جگر مُراد آبادی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر