غزل۔۔ ۔اوس کہتی ہے رات روئی ہے۔۔۔ محمد احمدؔ

کیا بات ہے احمد بھائی ! بہت ہی خوب!!! چھوٹی زمین میں بڑی باتیں !
کیا اُنہیں حالِ دل بتا دوں میں
وہ جنہیں زعمِ اشک شوئی ہے

کیا اچھا کہا ہے ! زندہ باد!
 

محمداحمد

لائبریرین
کیا بات ہے احمد بھائی ! بہت ہی خوب!!! چھوٹی زمین میں بڑی باتیں !
کیا اُنہیں حالِ دل بتا دوں میں
وہ جنہیں زعمِ اشک شوئی ہے

کیا اچھا کہا ہے ! زندہ باد!

بہت شکریہ ظہیر بھائی!

آپ کی حوصلہ افزائی سے دل بڑھ گیا ۔

محفل پر آپ کو پھر سے متحرک دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ :in-love:
 

یاسر شاہ

محفلین
واہ احمد بھائی شاندار غزل -


میں تمھاری طرح نہ بن پایا
میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے
------

خود کلامی کی خُو نہیں جاتی
کچھ نہیں ہے تو شعر گوئی ہے

بہت خوب -:)


دیکھیے آپ کی زمین میں ایک شعر میرا بھی ہوگیا:

بےتحاشا دروغ گوئی ہے
اہل نقد و نظر بھی کوئی ہے ؟
 

محمداحمد

لائبریرین
میں تمھاری طرح نہ بن پایا
میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے
------

خود کلامی کی خُو نہیں جاتی
کچھ نہیں ہے تو شعر گوئی ہے

بہت خوب -:)

بہت شکریہ یاسر بھائی!

دیکھیے آپ کی زمین میں ایک شعر میرا بھی ہوگیا:

بےتحاشا دروغ گوئی ہے
اہل نقد و نظر بھی کوئی ہے ؟

اچھا شعر ہے۔

مزید اشعار بھی کہیے ۔
 
دیکھیے آپ کی زمین میں ایک شعر میرا بھی ہوگیا:
بےتحاشا دروغ گوئی ہے
اہل نقد و نظر بھی کوئی ہے ؟

یاسر بھائی ، کچھ ستم ظریفانہ سا شعر ہوگیا یہ تو ۔ :):):)
اہلِ نظر اور اہلِ علم جمع کا صیغہ ہیں ۔ یہ کبھی واحد کے لئے استعمال نہیں ہوتے ۔ واحد کے لئے صاحبِ نظر اور صاحبِ علم مستعمل ہیں ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
یاسر بھائی ، کچھ ستم ظریفانہ سا شعر ہوگیا یہ تو ۔ :):):)
اہلِ نظر اور اہلِ علم جمع کا صیغہ ہیں ۔ یہ کبھی واحد کے لئے استعمال نہیں ہوتے ۔ واحد کے لئے صاحبِ نظر اور صاحبِ علم مستعمل ہیں ۔
ظہیر بھائی -حیرت ہوئی آپ کی بات پر -صاحب اور اہل کا فرق میری نظر میں ملکیت و اہلیت کا ہے -کچھ چیزیں ہمارے پاس ہوتی تو ہیں مگر ہم ان کے اہل نہیں ہوتے -صاحب اور اہل کے فرق کے لیے لطیفے کے طور پر ایک بات عرض کرتا ہوں کہ کچھ مرد اپنی اہلیہ کے صاحب تو ہوتے ہیں اہل نہیں ہوتے کیونکہ انھیں بیگم سے زیادہ حکیم کی ضرورت ہوتی ہے -:):)

فرہنگ آصفیہ صفحہ ٣٣٠ پر اگر آپ <اہل> کے معانی دیکھیں تو وہیں ایک مصرع بطور سند درج ہے جو میرے اس شعر کا حاصل ہے :

<اے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی >

اس کے علاوہ یہ اسناد ہیں جن میں اہل نظر کو بطور واحد باندھا ہے :

اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
----------------------------------میر تقی میر

ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے

------------------------------------ذوق

چہرے پہ سجا لایا ہوں میں دل کی صدائیں
دنیا میں کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں ہے
--------------------------------قتیل


آنکھ پڑتی ہے ہر اک اہل نظر کی تم پر
تم میں روپ اے گل و نسرین و سمن کس کا ہے
----------------------------------حالی

اہل دل کے بھی دو شعر دیکھ لیجیے :

اہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگ
کاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ
-------------------------------میر تقی میر

اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے
اک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہے

--------------------------------مصحفی
 
آخری تدوین:
ظہیر بھائی -حیرت ہوئی آپ کی بات پر -صاحب اور اہل کا فرق میری نظر میں ملکیت و اہلیت کا ہے -کچھ چیزیں ہمارے پاس ہوتی تو ہیں مگر ہم ان کے اہل نہیں ہوتے -صاحب اور اہل کے فرق کے لیے لطیفے کے طور پر ایک بات عرض کرتا ہوں کہ کچھ مرد اپنی اہلیہ کے صاحب تو ہوتے ہیں اہل نہیں ہوتے کیونکہ انھیں بیگم سے زیادہ حکیم کی ضرورت ہوتی ہے -:):)

فرہنگ آصفیہ صفحہ ٣٣٠ پر اگر آپ <اہل> کے معانی دیکھیں تو وہیں ایک مصرع بطور سند درج ہے جو میرے اس شعر کا حاصل ہے :

<اے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی >

اس کے علاوہ یہ اسناد ہیں جن میں اہل نظر کو بطور واحد باندھا ہے :

اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
----------------------------------میر تقی میر

ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے

------------------------------------ذوق

چہرے پہ سجا لایا ہوں میں دل کی صدائیں
دنیا میں کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں ہے
--------------------------------قتیل


آنکھ پڑتی ہے ہر اک اہل نظر کی تم پر
تم میں روپ اے گل و نسرین و سمن کس کا ہے
----------------------------------حالی

اہل دل کے بھی دو شعر دیکھ لیجیے :

اہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگ
کاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ
-------------------------------میر تقی میر

اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے
اک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہے

--------------------------------مصحفی

یاسر بھائی ، میں نے توصرف اہلِ نظر اور اہلِ علم کی بات کی تھی ۔ لگتا ہے کہ آپ نے تعمیم سے کام لیتے ہوئے میری بات کو اہل کی تمام تراکیب پرمنطبق کرلیا اور اہلِ بزم اور اہلِ دل کی مثالیں بھی دے ڈالیں ۔ میں نے تو ایسی کوئی عمومی بات نہیں کی ۔ خیر ۔
آپ کو اہلِ نظر کے بطور واحد استعمال پر شعر مل گئے ۔ اچھی بات ہے ۔ آپ کے شعر کو سند مل گئی ۔ البتہ میں اہلِ علم اور اہلِ نظر کو ہمیشہ جمع کے صیغے میں سنتا اور پڑھتا آیا ہوں ۔ آپ کے مراسلے کے بعد لغات دیکھیں تو اپنی بات کی تصدیق پائی ۔ نوراللغات نے اہل کا پہلا معنی ایسا ہی لکھا ہے ۔ نقل کرتا ہوں :
اہل (ع) صاحب ، خداوند۔ جیسے اہل علم ۔ ان معنوں میں جمع کے لئے مخصوص ہے ۔ یہ نہ کہیں گے کہ فلاں شخص اہل قلم ہے یا اہلِ علم ہے بلکہ کہیں گے کہ اہلِ قلم میں سے ہے ۔

اسی طرح مقتدرہ کی آنلائن لغت میں اہلِ نظر کے معنی جمع کے دیئے گئے ہیں ۔ یہ ربط دیکھئے:
اردو لغت - Urdu Lughat - اہل نظر

اس کے علاوہ درجنوں اشعار اور سینکڑوں نثر پارے ایسےہیں کہ جن میں یہ دو الفاظ جمع کے صیغے ہی میں استعمال کئے گئے ہیں ۔ مثال دینےکی ضرورت نہیں ہے ۔ ذرا سی تلاش پر مل جائیں گے ۔ اب یہاں فصیح اور غیر فصیح کی بحث میں پڑنا فضول ہے ۔ آپ نے جو شعر واحد کی نظیر میں دیئے ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اردو بہت لچکدار اور زندہ زبان ہے ۔ زبان میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں ۔ شاعر حضرات اکثر شعری ضرورت یا کسی اور وجہ سے لفظوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں ۔ یہ زبان کی وسعت پذیری اور زندہ ہونے کی نشانی ہے ۔ اور یہ کہ لغت نویسی کو جاری و ساری رہنا چاہئے اور لغات کو زبان کے بدلتے رنگوں کا آئینہ دار ہونا چاہئے ۔
میں البتہ اہلِ علم اور اہلِ نظر کو جمع ہی استعمال کرتا ہوں ۔ مجھے اس طرح لکھنے سے پہلے ہزار تردد ہوگا کہ: علامہ اقبال اہلِ نظر تھے یا غالب بہت بڑے اہلِ علم تھے ۔ میں صاحبِ علم اور صاحبِ نظر ہی لکھوں گا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
پس نوشت: یاسر بھائی ، ویسے جو مصرع آپ نے فرہنگ آصفیہ سے نقل کیا :اے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی: اس میں تو اہل بزم بطور جمع ہی استعمال ہوا ہے ۔ بزم تو ہے ہی اسمِ جمع ۔ ایک آدمی کو تو بزم نہیں کہتے ۔ مزید وضاحت کے لئے یہ جملہ دیکھئے: اے اہلِ وطن ، کوئی تو بولو اس ظلم کے خلاف یا اے شہر والو! کوئی تو بولو۔ اس پیرائے سے اہل وطن یا اہلِ شہر کا واحد ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔
 
Top