1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

شفیق خلش ::::::ضرُور پُہنچیں گے منزل پہ ،کوئی راہ تو ہو:::::: Shafiq-Khalish

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 9, 2019

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    [​IMG]
    غزل
    ضرُور پُہنچیں گے منزل پہ کوئی راہ تو ہو

    جَتن کو اپنی نظر میں ذرا سی چاہ تو ہو

    قیاس و خوف کی تادِیب و گوشمالی کو
    شُنِید و گُفت نہ جو روز، گاہ گاہ تو ہو

    یُوں مُعتَبر نہیں اِلزامِ بیوفائی کُچھ
    دِل و نَظر میں تسلّی کو اِک گواہ تو ہو

    سِسک کے جینے سے بہتر مُفارقت ہونَصِیب!
    سِتم سے اپنوں کے حاصِل کہِیں پَناہ تو ہو

    لِکھے پہ مشورہ دینا بُرا نہیں، لیکن!
    سُخن طرازی میں تھوڑی سی دست گاہ تو ہو

    خوشی نہ دی تو خوشی کے لیے دُعائیں د یں!
    کرَم نَواز نہیں تُم جو، خیر خواہ تو ہو

    ہمارے غم کو پرکھنے، موازنہ کے لیے!
    دُکھوں کا اُن کے حوالے سے داد خواہ تو ہو

    جہاں کہیں ہو خلشؔ ! ڈُوبنے کا اندیشہ
    نَوِشتہ ایسی جگہ پر اِک اِنتباہ تو ہو

    ضرور ہونگے مراسم بھی اُستُوار خلشؔ!
    قریب رہنے کو کُچھ دِن قیام گاہ تو ہو

    شفیق خلشؔ
     

اس صفحے کی تشہیر