شام، شفق، تنہائی ۔۔ خالد علیم

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 3, 2006

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دلِ بے خواب یہ کیا قصّۂ جاں ہے
    چارسُو یہ جو ترا حلقۂ جاں ہے
    کتنا گنجان ہے اس دل کا خرابہ
    کتنا ویران یہ معمورۂ جاں ہے
    کیسا ہنگامہ بپا ہے کہ جہاں میں
    دو قدم چلیے تو اندیشۂ جاں ہے
    کیا کہوں اے دل آسودۂ جاناں
    ہر کوئی شہر میں آزردۂجاں ہے
    سر پہ جو ہجر کی یہ رات ہے خالد
    فقط اک شام کا افسانۂ جاں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نقش کچھ اور سرِ خاک ابھارا جائے
    آسمانوں سے ستاروں کو اتارا جائے
    آ مجھے تو ہی بتا، وقت ٹھہر جائے تو
    دشت تنہائی میں کس طرح گزارا جائے
    کشتیاں ڈوب چکیں اور وہ اس سوچ میں ہے
    اب سمندر ہی کنارے پہ اتارا جائے
    ہم تو جاں سے بھی گزر جائیں، ہمارا کیا ہے
    اور تم خوش کہ ابھی کچھ نہ تمہارا جائے
    کیا کریں، خوئے نگاراں ہی کچھ ایسی ہے کہ بس
    دل بھی پہلو سے سوا، چین بھی سارا جائے
    ایسا تنہا بھی نہیں ہوں لب دریا خالد
    دور تک ساتھ مرے ایک کنارا جائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ( غالب کی نذر)
    رہینِ کرب ہے دل، چشم تر میں خاک نہیں
    بُنِ شجر میں ہے، برگِ شجر میں خاک نہیں
    رواں ہے پارۂ سیماب کی طرح دل میں
    مرا وجود جو اس کی نظر میں خاک نہیں
    سفر ہی ٹھہرا ہے درماندہ رہرووں کا نصیب
    سوائے رنجش بے سود، گھر میں خاک نہیں
    یہاں تو سب ہیں کلاہ جنوں سجائے ہوئے
    عجیب کیا ہے اگر ان کے سر میں خاک نہیں
    وہ دھول اڑی ہے کہ چہروں کی اٹھ گئی پہچان
    یہ کس نے کہہ دیا خالد! سفر میں خاک نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سوچ، دشت ہجر کی ویرانیوں میں گم رہی
    زندگی اپنی جنوں سامانیوں میں گم رہی
    رات سورج کے تعاقب میں رہی گرم سفر
    دل کی وحشت چاند کی تابانیوں میں گم رہی
    آسماں کے طاق میں جلتی ہوئی شام شفق
    چشم نم کی آئنہ سامانیوں میں گم رہی
    عکس آئینہ سے کیا کھلتا طلسم آگہی
    یہ وہ حیرانی تھی جو حیرانیوں میں گم رہی
    تیرے جلووں کے ستارے ہوں کہ بارش ہجر کی
    دل کی یہ بستی تو بس طغیانیوں میں گم رہی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ ترے ہجر نے پیدا کیے اسباب ایسے
    ہم زمیں زاد کہاں کے تھے سفر یاب ایسے
    اس قدر زور تو دریا کی روانی میں نہ تھا
    آبجو سے نکل آئے کئی گرداب ایسے
    آنکھ میں ہجر کا جاں سوز لہو جاگ اٹھا
    کر دیا اب کے تری یاد نے شاداب ایسے
    اب یہ خوش لہجہ صداؤں سے کہاں جاگتے ہیں
    ایک مدت سے ہوئے لوگ گراں خواب ایسے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سقف سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
    سایۂ زلف اگر نہیں، دھوپ کا سائباں تو ہے
    آنکھ کے طاق میں وہ ایک، جل اٹھا نجم نیم جاں
    درد کی رات ہی سہی کوئی سحر نشاں تو ہے
    جاگ رہا ہوں رات سے لذت خواب کے لیے
    نیند نہیں جو آنکھ میں جوئے شب رواں تو ہے
    پاؤں ہیں زخم زخم اگر دل ہے اگر فگار عشق
    تیرے حصول کا مجھے وہم تو ہے گماں تو ہے
    دل ہے اگر بجھا ہوا جاں ہے اگر لٹی ہوئی
    چشم سحر فریب کا آئنہ ضو فشاں تو ہے
    عشق و جنوں کے باب میں چاہیے کار رفتگاں
    اے مرے جذبۂ وفا! جی کا ذرا زیاں تو ہے
    شہر ستمگراں وہی، پھر صف دشمناں وہی
    خالدِ خستہ جاں کے پاس تیر نہیں، کماں تو ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
    ذروں میں دیکھتے ہیں ستاروں کے خواب ہم
    اک موجِ تہ نشیں ہیں تہِ بحر جستجو
    چلتے ہیں آسمان پہ پا در رکاب ہم
    وابستۂ شب غم ہجراں ہوئے تو کیا
    کچھ تو لگا ہی لیں گے سحر کا حساب ہم
    پھرتے ہیں کوئے دیدہ وراں میں لیے ہوئے
    پابستگی دربدری کا عذاب ہم
    اس عہد دلفریب میں شاید کہ بھول جائیں
    ایامِ رفتگاں کی شکستہ کتاب ہم
    کیا رات تھی کہ دن بھی اندھیروں میں کھو گیا
    شاید کہ رہ گئے ہیں پس آفتاب ہم
    خالد سواد ہجر سے نکلے تو ہو گئے
    آوارۂ دیارِ شب ماہتاب ہم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
    ذروں میں دیکھتے ہیں ستاروں کے خواب ہم
    اک موجِ تہ نشیں ہیں تہِ بحر جستجو
    چلتے ہیں آسمان پہ پا در رکاب ہم
    وابستۂ شب غم ہجراں ہوئے تو کیا
    کچھ تو لگا ہی لیں گے سحر کا حساب ہم
    پھرتے ہیں کوئے دیدہ وراں میں لیے ہوئے
    پابستگی دربدری کا عذاب ہم
    اس عہد دلفریب میں شاید کہ بھول جائیں
    ایامِ رفتگاں کی شکستہ کتاب ہم
    کیا رات تھی کہ دن بھی اندھیروں میں کھو گیا
    شاید کہ رہ گئے ہیں پس آفتاب ہم
    خالد سواد ہجر سے نکلے تو ہو گئے
    آوارۂ دیارِ شب ماہتاب ہم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خوابیدگی درد کی محرم تو نہیں ہے
    یہ شب ہے، ترا کاکل پرخم تو نہیں ہے
    اک ابر کی ٹھنڈک میں اسے بھول ہی جائیں
    یادوں کی تپش اتنی بھی مدھم تو نہیں ہے
    اس عہد میں وابستگی موسم گل بھی
    اب حلقۂ زنجیر سے کچھ کم تو نہیں ہے
    ہر ایک گل اندام کی چوکھٹ پہ ٹھہر جائے
    دل ہے، کوئی آوارۂ عالم تو نہیں ہے
    پھر دشت تمنا میں ہے لرزاں کوئی آواز
    خالد یہ صدائے جرس غم تو نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    قریۂ دل میں ہے کس کا کف پا آوارہ
    پھر رہی ہے قفس جاں میں صدا آوارہ
    آنکھ کو یورش سیلاب کی حسرت ہے ابھی
    کھل کے برسی نہیں جذبوں کی گھٹا آوارہ
    قفل احساس کوئی کھول کے دیکھے تو سہی
    کتنے جذبے ہیں سر دشت وفا آوارہ
    کس کی فرقت میں اترتا ہے غبار شبنم
    کوبکو پھرتی ہے کس غم میں صبا آوارہ
    جانے کس کس کے لیے پھرتی رہی خاک بدوش
    رات بھر کوچۂ جاناں میں ہوا آوارہ
    ہجر کی رات یہ منظر تھا نہ جانے کیسا
    چاند بے نور تھا، بادل بھی رہا آوارہ
    خالد اب کوئے نگاراں سے نکل آئی ہے
    حجلۂ درد کے روزن میں ضیا آوارہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پاؤں کیا وقت کی دہلیز پہ ہم رکھتے ہیں
    اک قدم روز سر دشت عدم رکھتے ہیں
    اے مرے راہرو دل ذرا آہستہ چل
    عرصۂ ہجر میں آہستہ قدم رکھتے ہیں
    ٹھہر اے قافلۂ ہم نفساں آہستہ
    ساتھ چلنا ہو تو رفتار کو کم رکھتے ہیں
    دل سے آنے لگی زنجیر چھنکنے کی صدا
    قفس درد میں ہم لذت رم رکھتے ہیں
    تیز رفتاری ہر موج نفس سے خالد
    دل میں جینے کی تمنا ہے، سو ہم رکھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تمام عمر بچھڑنے کا اک بہانہ ہوا
    جو تیرے شہر سے اک قافلہ روانہ ہوا
    سواد ہجر کی تاریکیوں میں کھو گئی شام
    جو دل اسیر تمنائے زلف شانہ ہوا
    نہ اپنے زخم کی خوشبو، نہ اس کے حسن کا رنگ
    وصال و ہجر کا موسم گئے زمانہ ہوا
    نہ خواہش غم جاناں، نہ کاہش جاں ہے
    ہر ایک جذبۂ عشق بتاں فسانہ ہوا
    نہ جانے کس کے لیے چشم نم سلگنے لگی
    اسے تو بھولے ہوئے ہم کو اک زمانہ ہوا
    غبار ہجر سے دل کی کدورتیں نہ دُھلیں
    اس آب صاف سے شفاف، آئنہ نہ ہوا
    ہر ایک صبح، نگہ پر تھا قرض ماتم شب
    دل اس کی یاد سے جب تک گریز پا نہ ہوا
    سو اَب یہ ہے کہ ترا ذکر چھیڑتے نہیں ہم
    نگاہ میں ترے جانے پہ ورنہ کیا نہ ہوا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    صحرا میں ہم اترے تو لب جو نکل آئے
    اس میں بھی تری یاد کے پہلو نکل آئے
    یوں گھر سے وہ نکلا ہے کہ جیسے شب تیرہ
    زندان گل ہجر سے خوشبو نکل آئے
    اے کاش کبھی دشت نظر میں کسی صورت
    تو مثل گل و غنچۂ خود رو نکل آئے
    یا دل ہی بکھر جائے سر وسعت صحرا
    یا صورت آرائش گیسو نکل آئے
    آوارگی شوق کی منزل نہیں کوئی
    گھر چھوڑ دیا ہم نے بہر سو نکل آئے
    کیا راحت جاں، اب تو فقط جی کا زیاں ہے
    اس دل کے خرابے میں اگر تو نکل آئے
    اک عمر کے بعد آئنۂ خواب سے خالد
    دیکھا جو اسے، آنکھ سے آنسو نکل آئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہم کہ منزل کا تصور نہ نظر میں رکھتے
    یہ تو ہوتا کہ ترا ساتھ سفر میں رکھتے
    ہم اسیران جنوں اپنی رہائی کے لیے
    عزم پرواز کہاں جنبش پر میں رکھتے
    ابر گریہ سے تھی خود چاندنی افسردہ جمال
    عکس مہتاب کو کیا روزن و در میں رکھتے
    یا تو ہم چادر عزم اوڑھ کے چلتے گھر سے
    یا کوئی سایۂ دیوار نظر میں رکھتے
    ایک سودائے محبت کے سوا ہم خالد
    اور کیا سلسلۂ شام و سحر میں رکھتے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ کیسی خوئے شب تابی دل خود سر میں رہتی ہے
    کہ اک پرہول ویرانی مرے بستر میں رہتی ہے
    نگاہوں کے افق پر شام کے پہلو بدلنے سے
    سحر تک خوں فشانی رات کے منظر میں رہتی ہے
    تری چشم تمنا سے گزرنے کی کوئی خواہش
    مسلسل درد بن کر میری چشم تر میں رہتی ہے
    مشام جاں سے جب بھی پھوٹتی ہے شام تنہائی
    سمٹ کر رات کے تاریک تر پیکر میں رہتی ہے
    بہر سو مرتعش ہے اس کے آنے کی صدا خالد
    عجب اک خامشی سی دل کے بام و در میں رہتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    (احمد فراز کی نذر)
    کسی کی یاد سے ہم بے نیاز ہو جائیں
    مگر یہ ڈر ہے کہیں رتجگے نہ سو جائیں
    فضا اداس، ستارے اداس، رات اداس
    یہ زندگی ہے تو ہم بھی اداس ہو جائیں
    وہ سیل تند سے بچ کر نکل تو آئے ہیں
    یہ خوف ہے نہ کنارے کہیں ڈبو جائیں
    اسی لیے تو یہ آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں
    کہ کشت شب میں اجالوں کے بیج بو جائیں
    سکون کا کوئی پل ہو کہ نیند آئے ہمیں
    نہیں تو درد کے کہرام ہی میں سو جائیں
    یہ سوچتے ہیں کہ دشت فریب سے چل کر
    مسافران جنوں کس دیار کو جائیں
    یہی ہے کوچۂ جاناں کی رسم اگر خالد
    تو آؤ ہم بھی خموشی سے قتل ہو جائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تیرے لیے میں ساری عمر گنوا سکتا ہوں
    تو کہہ دے تو یہ دھوکہ بھی کھا سکتا ہوں
    تیری چاہت کے جذبوں کی خوشبو لے کر
    بجھی ہوئی شاموں کو بھی مہکا سکتا ہوں
    لمحوں کے پرکیف سکوت پہ حیراں کیوں ہے
    تیرے لیے میں صدیوں کو ٹھہرا سکتا ہوں
    کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے، تیری خاطر
    جنگل کے اس پار اکیلا جا سکتا ہوں
    دھول اڑاتی آنکھوں میں جذبوں کو بہا کر
    دریاؤں کو صحراؤں میں لا سکتا ہوں
    خالد اپنے جذبوں کی زرخیزی سے میں
    کشت سخن میں ہریالی مہکا سکتا ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عمر گزاری تو کیا نکلا
    عشق ہی آخر جھوٹا نکلا
    ساری رات سفر میں کاٹی
    گھور اندھیر سویرا نکلا
    جو رستہ معلوم نہیں تھا
    دل اس رستے پر جا نکلا
    جس رستے سے گھر تک جاتے
    کوئی نہ ایسا رستہ نکلا
    ماں کا رشتہ ہی سچا تھا
    باقی سب کچھ جھوٹا نکلا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    (حادثۂ ہائلہ - 29 اکتوبر 1998 کے حوالے سے)
    کیا کہیں اے عزیز جاں! ہم پہ یہ کیا گزر گئی
    زخم ادھیڑتے ہوئے موجِ صبا گزر گئی
    خواہش یک نفس کہ جو، آنکھ میں تھی رکی ہوئی
    قریۂ درد سے کہیں آبلہ پا گزر گئی
    دل ہے کہ داغ داغ ہے، گھر ہے کہ بے چراغ ہے
    دشت شبِ سیاہ سے آئی ہوا، گزر گئی
    رات ہزار جا چکی، اپنی بساط اٹھا چکی
    رات تو رات ہی رہی، جا کے بھی کیا گزر گئی؟
    آج بھی تھا افق پہ دور پارۂدل لہو لہو
    آج بھی زرنگار شام ، کرب نوا گزر گئی
    اے غم جاں ٹھہر ذرا، تجھ کو بھی ہے خبر ذرا؟
    دل کا لہو اچھال کر دل کی صدا گزر گئی
    اب تمہیں کیا بتائیں ہم ، کیسے تمہیں دکھائیں ہم
    سینے میں کیا اتر گیا، آنکھ پہ کیا گزر گئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دل کی آواز کو الفاظ میں لانے کا ہنر
    نہیں آتا، اگر آئے نہ زمانے کا ہنر
    ذہن میں آئے تو تھے لفظ تراشیدہ خیال
    دل نے بس چھین لیا بات بنانے کا ہنر
    ہم کہ گم کردۂ دشت سفر شوق رہے
    ہم کو آیا نہ تری راہ پہ آنے کا ہنر
    جسم کا پیرہن خاک کہاں تک رہتا
    بس وہاں تک کہ جہاں تک تھا زمانے کا ہنر
    بات سے بات نکل آئے گی، معلوم نہ تھا
    ورنہ ہم اور کہاں ربط بڑھانے کا ہنر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر