سخن آباد۔۔ منظور ہاشمی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 4, 2008

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گزرے ہوئے تمام مناظر نظر میں ہیں
    گھر میں بھی اس طرح ہیں کہ جیسے سفر میں ہیں

    پتھراؤ کرنے والے بہت دور بین ہیں
    کچھ پھل ضرور اب بھی ہمارے شجر میں ہیں

    یا تنگ ہو گئی ہیں فضاؤں کی سرحدیں
    یا وسعتیں تمام مرے بال و پر میں ہیں

    تھا کس کا انتظار کہ اُجڑے مکان میں
    آنکھیں سی اب بھی چپکی ہوئی بام و در میں ہیں

    منظورؔ سب ہمیں ہیں ترے شہر کے عذاب
    محسوس تو کریں کہ ہم اپنے ہی گھر میں ہیں



    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اگر نہیں ہےمری پیاس کے مقدر میں
    تو خاک ڈال دے جاکر کوئی سمندر میں

    پہاڑ کاٹ کے نہریں نکالنے والے
    اُگا کے فصل دکھائیں ہمارے بنجر میں

    تمام رات اندھیرے سے جنگ کرنا ہے
    اور اک چراغ ہی باقی بچا ہے لشکر میں

    اسی لئے تو وہاں دل زیادہ لگتا ہے
    علاوہ کام کے کچھ اور بھی ہے دفتر میں

    کبھی کُلاہ کبھی تیغ ڈھونڈھتی ہے اسے
    عجب کشش ہے ہمارے اٹھے ہوئے سر میں

    انہیں بھی مژدہ سنائے کبھی تو صبحِ نشاط
    جو سو گئے ہیں لپٹ کر دکھوں کی چادر میں


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اداس لمحے کبھی اتنے خوف زاد نہ آئیں
    کہ ہاتھ اٹھائیں دعا کو تو حرف یاد نہ آئیں

    سروں پہ اس کا بھی سایا بہت غنیمت ہے
    وہ شاخِ خشک کہ جس میں گلِ مراد نہ آئیں

    سخن سرائے میں بس سرخ روشنائی ہے
    سمجھ کے سہل ادھر اب قلم نہاد نہ آئیں

    نظر سے دور سہی دل میں جاگزیں تو رہیں
    یہ کیا کہ ہجر زدہ ہوں تو گھر کو یاد نہ آئیں

    یہ خاک و خون کا قصّہ تمام ہو ہم پر
    ہمارے بچوں پہ یہ دکھ ہمارے بعد نہ آئیں


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دشت میں رہ کر چمن کی گفتگو کرتے رہے
    کس قدر دیوانہ پن کی گفتگو کرتے رہے

    دیکھ کر پھولوں کو صحرا میں بہت جی خوش ہوا
    دیر تک ہم باغ و بن کی گفتگو کرتے رہے

    تھا بیاں ایسا کہ لفظوں سے لہو بہنے لگا
    جانے کس کے بانکپن کی گفتگو کرتے رہے

    تھا کمالِ رنگ و بو کیف و طرف کا تذکرہ
    اور سب اس کے بدن کی گفتگو کرتے رہے

    ایک ہم ہی تھے کہ جو عریانیوں کے شہر میں
    احترامِ پیرہن کی گفتگو کرتے رہے

    /**
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    /////////////////


    روزنِ دل


    //////////////
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کھلے تھے ایسے کبھی موسمِ شباب کے پھول
    کہ سوکھ کر بھی مہکتے ہیں وہ گلاب کے پھول

    زمیں نہال ہوئی اب کے ایسی بارش میں
    کہ فرشِ خاک پہ کھلنے لگے حباب کے پھول

    مکالمہ تو چلے پھر تو مل ہی جائیں گے
    کبھی سوال کے پتھر کبھی جواب کے پھول

    اگر ان آنکھوں کو روشن چراغ ٹھہرائیں
    تو اس کے عارض و لب کو کہیں گلاب کے پھول

    بدل کے دھارے کا رخ بھی کہاں بٹا پانی
    کہ ملتے رہتے ہیں راویؔ میں بھی چناب ؔ کے پھول

    لکھا ہوا تھا جہاں میرے گلبدن کا نام
    تمام حرف بنے تھے وہاں کتاب کے پھول

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خطوط پتوں پہ لکھے ہوئے بھی آئے ہیں
    ہوا نے اور بھی پیغام کچھ سنائے ہیں

    ہوا سے سن کے بہت جھومنے لگیں شاخیں
    بلند پیڑوں نے خوش ہوکے سر ہلائے ہیں

    فضائے دشت کو ذوقِ نمو نے سمجھا کر
    اسی زمیں میں خزانے بہت اگائے ہیں

    کِھلی تو کون بچائے گا دشتِ گلچیں سے؟
    کلی کے سامنے یہ مرحلے بھی آئے ہیں

    ترا خیال تری یاد تیرا ذکر کیا
    تو رنگ ونور کی برسات میں نہائے ہیں

    ****
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس طرح نگاہوں پہ نہ چھا جائے کوئی اور
    آئینہ بھی دیکھیں تو نظر آئے کوئی اور

    اب شہر میں انصاف کی یہ رسم چلی ہے
    ہو جرم کسی کا تو سزا پائے کوئی اور؟

    اتنی تو ملے داد ہمیں لغزشِ پا کی
    گِر جائیں اگر ہم تو سنبھل جائے کوئی اور

    یہ آخری پردہ بھی اٹھانے تو چلے ہو
    ایسا نہ ہو پردے میں نکل آئے کوئی اور؟

    سچا ہے تعلق تو کبھی یوں بھی تو ہو جائے
    ہو درد ہمارے تو تڑپ جائے کوئی اور

    جب یہ کسی صورت بھی ہماری نہیں سنتا
    کیسے دلِ بیتاب کو سمجھائے کوئی اور


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یوں تو دیوار و دَر بھی کہتے ہیں
    ہیں ہمارے تو گھر بھی کہتے ہیں

    آسماں بھر اڑان رکھتا ہے
    وہ جسے مشتِ پر بھی کہتے ہیں

    ہاں کہا تھا یہ ہم نے پہلے بھی
    اور بارِ دگر بھی کہتے ہیں

    اوس سے ڈبڈبائی نرگس کو
    پھول کی چشم تر بھی کہتے ہیں

    زندگی کے طویل عرصے کو
    وقفۂ مختصر بھی کہتے ہیں

    گھر میں کرتے ہیں سیر دنیا کی
    اور اس کو سفر بھی کہتے ہیں


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اگر یہ منظر سراب ہوتا
    تو آنکھ ہوتی نہ خواب ہوتا

    سوال کرکے تو دیکھنا تھا
    ہوا کرے جو جواب ہوتا

    کبھی کبھی کتنا چاہتے ہیں
    یہ واقعہ کاش خواب ہوتا

    ہماری آنکھیں چراغ ہوتیں
    اور اس کا چہرہ کتاب ہوتا

    کہیں مرا نام لکھ تو دیتا
    بھلے سرِ موجِ آب ہوتا

    ہزار پردوں میں ہے یہ عالم
    وہ حسن اگر بے نقاب ہوتا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ سوچ کر بھی دل کو تسلّی ملی تو ہے
    جیسی بُری بھلی ہے مگر زندگی تو ہے

    تتلی کے واسطے نہ سہی اپنے بوجھ سے
    شاخِ گلاب شوق سے نیچے جھکی تو ہے

    یہ تو نشانیاں ہیں اسی شہسوار کی
    صحرائے جاں میں خاک سنہری اڑی تو ہے

    جلنے کی ٹھان لی ہے کہ بجھنا قبول ہے؟
    اکثر ہَوا چراغ سے یہ پوچھتی تو ہے

    کھل تو رہے ہیں ہاشمیؔ باغِ سخن میں پھول
    حرف و نوا کی شاخ ابھی تک ہری تو ہے




    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آباد نہیں ایسا کوئی شہر گماں اور
    اٹھ جائیں یہاں سے بھی تو جائیں گے کہاں اور

    ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہے آخری پردہ
    اٹھتا ہے تو کھلتا ہے کہ ہے کوئی نہاں اور

    گزرے ہوئے موسم کی نشانی کی طرح ہیں
    رکھتے ہی نہیں اس کے سوا نام ونشاں اور

    بوسیدہ حویلی کی الگ شان ہے اپنی
    ہونے کو تو بستی میں نئے بھی ہیں مکاں اور

    کِھل جائیں کبھی زخم کبھی پھول چمن میں
    یوں ہو تو نہیں آئے کوئی دورِ خزاں اور

    کیا کیجئے خواہش کا کہ سیراب بھی ہوکر
    بڑھ جاتی ہے آگ اور غبار اور دھواں اور


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    انہی پتوں پہ مٹی مل رہی ہے
    ہَوا جن کی بدولت چل رہی ہے

    عجب شے ہے یہ شمعِ زندگی بھی
    کہ بجھنے کے لیے ہی جل رہی ہے

    یہی تو پھیلتی ہے بستیوں میں
    وہی جو آگ دل میں جل رہی ہے

    کوئی ڈوبا تو گہرے پانیوں میں
    ذرا سی دیر تو ہلچل رہی ہے

    خبر بھی ہے تری شہرت کے پیچھے
    کہانی دوسری ہی چل رہی ہے

    اسے بھی دفن کرنا چاہتے ہیں
    ابھی تک سانس جس کی چل رہی ہے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جب دھوپ کے صید ہو گئے ہیں
    سب رنگ سفید ہو گئے ہیں

    زنجیر تو کٹ چکی ہے لیکن
    جھنکار میں قید ہو گئے ہیں

    جنگل سے وفا نہ کرنے والے
    شہروں میں بھی قید ہو گئے ہیں

    چاہت کی نظر سے اس کے عارض
    کیا سرخ وسپید ہو گئے ہیں

    بس ہم ہی نہیں شکار اس کے
    کچھ اور بھی صید ہو گئے ہیں


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کچھ خیالِ دلِ ناشاد تو کرلینا تھا
    وہ نہیں تھا تو اسے یاد تو کرلینا تھا

    کچھ اڑانوں کے لئے اپنے پروں کو پہلے
    جنبش وجست سےٓزاد تو کر لینا تھا

    پھر ذرا دیکھتے تاثیر کسے کہتے ہیں
    دل کو بھی شاملِ فریاد تو کرلینا تھا

    کوئی تعمیر کی صورت بھی نکل ہی آتی
    پہلے اس شہر کو برباد تو کرلینا تھا

    قیس کے بعد غزالاں کی تسلّی کے لئے
    ہاشمیؔ دشت کو آباد تو کرلینا تھا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جیب میں درہم و دینار ہوا کرتے تھے
    ساتھ کچھ حاشیہ بردار ہوا کرتے تھے

    یہ جو بازار میں بکنے کے لئے بیٹھے ہیں
    کل یہ لوگ خریدار ہوا کرتے تھے

    کیا ہوا صرف چراغوں پہ ہی اب راضی ہیں
    جو ستاروں کے طلبگار ہوا کرتے تھے؟

    اک یقیں منزلیں آسان کیا کرتا تھا
    راستے پہلے بھی دشوار ہوا کرتے تھے

    سوکھتے پتوں سے یہ سن کے بہت رنج ہوا
    ’’وہ کبھی زینتِ گلزار ہوا کرتے تھے‘‘

    اُن دنوں کیسا امنگوں کا نشہ رہتا تھا
    صرف بارش سے ہی سرشار ہوا کرتے تھے

    ہو گئے ساتھ زمانے کے وگرنہ پہلے
    ہم بھی غالبؔ کے طرفدار ہوا کرتے تھے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خوشبوئیں جس کا گھر بساتی ہیں
    تتلیاں بھی وہیں سے آتی ہیں

    شب کو کنجِ چمن کے بستر پر
    پھول کو رنگ سے ملاتی ہیں

    دن کو تقریبِ رونمائی میں
    بلبلیں زمزمے سناتی ہیں

    رنگ و بو چھپ کے دیکھتے ہیں انہیں
    چشمۂ گل میں جب نہاتی ہیں

    وہ جو باتیں ہیں کچھ رقیبوں کی
    پھول کے کان میں سناتی ہیں


    پھول سے مَے کشید کرتی ہیں
    باغ کو میکدہ بناتی ہیں

    لمس کا نقش جگمگاتا ہے
    ہاتھ میں رنگ چھوڑ جاتی ہیں

    حسن پر جاں نثار کرتی ہیں
    عشق کو چاہنا سکھاتی ہیں

    **/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہاں وہاں مجھے حیران کرتی رہتی ہے
    ہے اک صدا جو پریشان کرتی رہتی ہے

    خطا تو اپنی جگہ ہے کبھی کبھی لیکن
    اک اور بات پشیمان کرتی رہتی ہے

    ہماری آنکھ بھی نکلی کرامتوں والی
    کہ ایک قطرے کو طوفان کرتی رہتی ہے

    رُخ اس بَلاکا ہوا میرے شہر کی جانب
    جو بستیوں کو بیابان کرتی رہتی ہے

    ہمارے زخم بھی کچھ اور ہی طرح کے ہیں
    کچھ اس کی آنکھ بھی احسان کرتی رہتی ہے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے تو بس اک شعلہ نکلتے ہوئے دیکھا
    پھر شہر کو اس آگ میں جلتے ہوئے دیکھا

    اُس پار جدھر سے کوئی امید نہیں تھی
    کل ایک ستارہ بھی نکلتے ہوئے دیکھا

    تفریق نہ کی جس نے کبھی کھوٹے کھرے کی
    سکّہ بھی اسی شخص کا چلتے ہوئے دیکھا

    رہتی ہے جہاں تیز ہواؤں کی حکومت
    دم تھا تو چراغوں کو بھی جلتے ہوئے دیکھا

    پانی کا کبھی نام بھی جس نے نہ سنا تھا
    اس دشت سے چشمہ بھی اُبلتے ہوئے دیکھا


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وفا کے نام پہ یہ امتحان بھی دے دوں
    اگر کہو تو میں قدموں پہ جان بھی دے دوں

    ہو اختیار مرا اور وہ اگر مانگے
    تو یہ زمیں ہی نہیں آسمان بھی دے دوں

    چکاؤں کتنی میں اک اعتبار کی قیمت
    یقین تو ٹوٹ چکا ہے گمان بھی دے دوں؟

    اگر حریف مجھی سے توقع رکھتا ہے
    تو اس کے ہاتھ میں تیر وکمان بھی دے دوں

    کبھی جو نطق کو اظہار کی ملے جرأت
    تو حرفِ شوق کو اپنی زبان بھی دے دوں



    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر