1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

سخن آباد۔۔ منظور ہاشمی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 4, 2008

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گجرات I

    بس ایک آن میں منظر کی آنکھ بند ہوئی
    تمام رنگ مہکتی ہوئی فضاؤں کے
    تمام گیت بہکتی ہوئی ہَواؤں کے
    تمام لفظ بلکتی ہوئی دعاؤں کے
    تمام حرف وبیاں شوق کی نگاہوں کے
    تمام نور کے چشمےتمام دل کے دیار
    تمام خواب تمنّاؤں کے گل وگلزار
    تمام خاک ہوئے اور ایک ہی پل میں
    اتھاہ گہرے اندھیرے کی سرد کھائی میں
    فنا کی آخری ہچکی کے بعد
    ڈوب گئے!!

    اور اس کے بعد فضا نے غبار اوڑھ لیا
    سحر کی ٹھنڈی ہوا اپنے بال بکھرا کر
    نہ جانے کس کے لئے بین کرکے روتی رہی؟
    سیاہ سوگ کی تنہائی میں ڈبوتی رہی
    حقیقتوں کی نہ پوچھو کہ خواب بھی نہ رہے
    فقط سوال ہیں جن کے جواب بھی نہ رہے
    نہ جانے کون سا غم تھا کہ جس کے بوجھ تلے؟
    بلند وبالا مکانوں نے خود کشی کرلی
    جنوں میں صحرا نے کھیتوں نے سبزہ زاروں نے
    خود اپنے جیب وگریباں چاک کرڈالے
    زمین بھوک میں اپنے بدن کو کھانے لگی
    یہ لگ رہا تھا کہ جیسے قیامت آنے لگی

    مگر کسی کوکرشمہ دکھانا ہوتا ہے
    کرامتوں کا بھی کوئی زمانہ ہوتا ہے
    کہ یہ بھی تھاکہ اندھیرے کی سرد کھائی میں
    کہ خوف اور اذیت کی بے پناہی میں
    جو انتظار کی امید کی ڈھلان پہ تھے
    مگر یقین کا اپنے دیا جلائے ہوئے تھے
    اور اپنے پالنے والے سے لَو لگائے ہوئے تھے
    تو ان کو نیک فرشتے بچانے آئے ہوئے تھے
    کہ روشنی کی بہر حال جیت ہوتی ہے
    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک غزل امن کی پہل کے نام


    ہَوا کے ہاتھ میں منہدی لگانے نکلے ہیں
    غزالِ شوق کو دلہن بنانے نکلے ہیں
    وہ روٹھ جانے کے فن میں بہت پرانا ہے
    یہ جانتے ہوئے اس کو منانے نکلے ہیں
    کھلی فضا کی بھی کچھ دیر سیر کرنا ہے
    تو دیر تک کے سفر کے بہانے نکلے ہیں
    جو بجھ گئے ہیں ہواؤں کی سازشوں سے چراغ
    جلا سکے تو انہیں پھر جلانے نکلے ہیں
    کوئی ضرور زمیں کی دعائیں سنتا ہے
    دھویں کے ابر سے موسم سہانے نکلے ہیں
    جو سرحدوں کے سوا دل بھی بانٹ دیتی ہے
    اسی لکیر کو اب کے مٹانے نکلے ہیں
    جو آگ پھیل گئی جنگلوں سے بستی تک
    اب اس سے اپنے گھروں کو بچانے نکلے ہیں
    **
    باجپئی جی کی لاہور بس یاترا
    ****
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کاش


    کبھی تو یوں ہو!
    کہ دونوں چپ چاپ بیٹھے بیٹھے
    بس ایک دوجے کو دیکھے جائیں
    نہ آنکھ جھپکیں نہ لب ہلائیں
    بس اس کے بارے میں سوچے جائیں
    کہ ہوتے ہوتے بغیر حرف وصدا کا ہم پر
    طریقِ گویائی منکشف ہو!
    تو گفتگو ہو!!

    طرح طرح کی ہزار باتیں
    جو اس سے پہلے نہیں کہی تھی
    مزے مزے کے تمام قصے
    کہ جن کے پردے میں ہم چھپے تھے
    سنائیں ایسے
    بتائیں ایسے
    کہ خود ہمیں بھی خبر نہ ہو
    کبھی تو یوں ہو!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گھر

    عجیب گھر تھا
    کہ جس کے دیوار ودر ہوا کے بنے ہوئے تھے
    چہار اطراف روشنی کے حسین پردے پڑے ہوئے تھے
    فصیل ومحراب میں ستارے جڑے ہوئے تھے
    تمام اشجار دست بستہ کھڑے ہوئے تھے
    عجیب گھر تھا!

    دھنک کے سب رنگ
    اس کے نقش ونگار میں جگمگا رہے تھے
    فضا میں رقصاں طیور نغمے سنا رہے تھے
    سفیر خوشبو کی مملکت سے بھی آرہے تھے
    مہکتے پھولوں سے بام ودر کو سجارہے تھے
    وہ اس کا گھر تھا!!



    ہر ایک گوشے میں عکس اس کا چھپا ہوا تھا
    اسی بدن کی مہک سے یہ گھر بسا ہوا تھا
    بڑی سی تختی پہ نام اس کا لکھا ہوا تھا
    اسی کی خاطر یہ قصرِ زریں بنا ہوا تھا
    مگر کھلے جب کواڑ اس کے
    تو میں نے دیکھا
    کہ اس کے اندر تو میں ہی میں تھا!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ غزل تیستاسیتلواد *کے نام

    سنہری صبح کا روشن اشارا جیسا ہے
    کہیں کہیں کوئی جگنو ستارا جیسا ہے
    صنم کدے کا بھی ایمان جاگتا ہے کبھی
    کہ اس کے دل میں بھی اک رب ہمارا جیسا ہے
    ہَوا چلے ہے تو چنگاریاں سی اڑتی ہیں
    ہماری راکھ میں اک برق پارا جیسا ہے
    امید ٹوٹی نہیں ہے ابھی اجالوں کی
    چراغِ آخرِ شب بھی سہارا جیسا ہے
    یہ سرخ پھول لہو رنگ پھول رستے نے
    ہمارے نقشِ قدم کو ابھارا جیسا ہے
    بدن سے مہکی ہوئی چاندنی سی پھوٹتی ہے
    وہ آدمی ہے مگر ماہ پارا جیسا ہے

    *ظہیرہ شیخ کی مددگار

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    /////


    اختتام


    ****
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,431
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شاعرکے شکریے کے ساتھ
    ان پج سے تبدیلی ، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

    اردو لائبریری ڈاٹ آرگ، اور کتابیں ڈاٹ آئ فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام اور کتب ڈاٹ 250 فری ڈاٹ کام کی مشترکہ پیشکش
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کیا کہنے بابا جانی سبحان اللہ ، میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں اور فرصت سے پڑھتا ہوں ، بہت بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر