سخن آباد۔۔ منظور ہاشمی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 4, 2008

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ جو منظر ہیں اگر آنکھوں میں بس جائیں گے
    آئینے عکس کی صورت کو ترس جائیں گے

    سیرِ دنیا کا ہمیں شوق تو تھا وقت نہ تھا
    بس یہی ہوتا رہا اگلے برس اگلے برس جائیں گے

    یہ ہوا تشنگیٔ شوق کو بھڑکائے گی
    اور بادل بھی کہیں اور برس جائیں گے

    جب پلٹتے ہیں ہمیں اجنبی گردانتا ہے
    اب یہ سوچا ہے اسی کوچے میں بس جائیں گے

    عشق کی راہ میں اک یہ بھی سفر لکھا ہے
    چار و نا چار سبھی شہر ہوس جائیں گے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہی نہیں کہ بس اک سائبان ٹوٹتا ہے
    پھر اس زمین پہ مرا آسمان ٹوٹتا ہے

    خطا تو اور زمینیں بھی کرتی رہتی ہیں
    تو صرف ہم پہ ہی کیوں آسمان ٹوٹتا ہے؟

    پھر ایک دوسری دیوار درمیاں آئی
    پھر ایک سلسلہِ جسم و جان ٹوٹتا ہے

    ہوائیں تیز ہیں پھر بھی سفر تو کرنا ہے
    تو ٹوٹ جائے اگر بادبان ٹوٹتا ہے

    بتانے والا ہی ہوتا ہے جب کوئی تعبیر
    ہمارا خواب اسی درمیان ٹوٹتا ہے


    **
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اپنا احساس چھوڑ جاتا ہے
    میری خلوت میں کون آتا ہے؟

    لمحہ لمحہ تری رفاقت کا
    سالہا سال کام آتا ہے

    جب بھی میرا چراغ جلتا ہے
    اور کچھ روشنی بڑھاتا ہے

    جم کے پیڑوں پہ برف کا موسم
    دھوپ میں سردیاں مناتا ہے

    اس کی آہٹ سے گھر کا سارا بدن
    ریل کے پُل سا تھر تھراتا ہے

    دیکھ کر دکھ مری زمینوں کا
    آسماں بھی تو کانپ جاتا ہے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کبھی تو اتنا بڑھایا وفورِ تنہائی
    کہ اس کو کھینچ بلایا حضورِ تنہائی

    خیال و خواب کی دنیا کو جگمگاتا ہے
    نئے جہان دکھاتا ہے نورِ تنہائی

    یہ بے جہات کا عالم کہاں ہے سب کے لئے
    کسی کسی کو ملا ہے شعورِ تنہائی

    کئی ہیں اور بھی کیف ونشاط کے عالم
    الگ ہے اپنے نشے میں سرورِ تنہائی

    جسے بھی دیکھئے بدنام کرتا رہتا ہے
    مگر بتاتا نہیں ہے قصورِ تنہائی

    اُدھر بھی کُھلتے گئے شور وغل کے دروازے
    اِدھر بھی بڑھتا گیا اور زورِ تنہائی

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے
    اس امتحاں میں مگر سرخرو تو ہونا ہے

    ہمارے پاس بشارت ہے سبز موسم کی
    یقیں کی فصل لگائیں نمو تو ہونا ہے

    میں اس کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتا ہوں
    کہ ایک روز اسے رو برو تو ہونا ہے

    لہو لہان رہیں ہم کہ شاد کام رہیں
    شریک قافلۂ رنگ و بو تو ہونا ہے

    کوئی کہانی کوئی روشنی کوئی صورت
    طلوع میرے افق سے کبھو تو ہونا ہے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس دل کے خونی دریا میں ہم پہلی بار نہیں اترے
    دکھ لیکن اب کے بھاری تھے ڈوبے تو پار نہیں اترے

    سنسان افق تکتے تکتے اب آنکھیں ہمت ہار گئیں
    جس صبح کا ہم سے وعدہ تھا اس کے آثار نہیں اترے

    ہر صبح چمکتے سورج کی تھالی میں بھر کر آتے ہیں
    اب تک ان خالی شاخوں پر کرنوں کے ہار نہیں اترے

    اب آنکھ کی سوکھی جھیلوں پر گزرے وقتوں کے نوحہ گر
    آنسو کے غول نہیں آئے اشکوں کے ڈار نہیں اترے

    اب کوئی نہ ایسا موسم ہو جب نخل سخن کی شاخوں پر
    معنی کے پھول نہیں آئیں حرفوں کی بہار نہیں اترے

    اک اچھی ساعت آئے گی پھر تیز ہوا بتلائے گی
    پانی زنجیر بنا کیسے ہم کیسے پار نہیں اترے؟

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ آس پاس نہیں پھر یہ سلسلہ کیسا؟
    اجاڑ دشت میں خوشبو کا قافلہ کیسا؟

    غبار ہو تو گئے ہم مگر یہ سچ کہنا
    ہوا کے ساتھ رہا تھا مقابلہ کیسا؟

    کسی کے بارے میں دن رات سوچتے رہنا
    ہمارے ہاتھ بھی آیا ہے مشغلہ کیسا؟

    جو زیرِ اب کہیں کوئی کشمکش ہی نہ تھی
    تو سطحِ اب پہ پھوٹا تھا بلبلہ کیسا؟

    ہمارے کام بگڑتے سنورتے رہتے تھے
    مگر ہوا ہے یہ اب کے معاملہ کیسا؟



    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دلوں کی ساری کدورت کو صاف کرنے کو
    وہ آئے گا میرا سینہ شگاف کرنے کو

    یہ راستہ تو اسی شہر کو پلٹ آیا
    ادھر تو آئے تھے ہم انحراف کرنے کو

    اٹھے وہ آنکھ تو کھل جائیں بند دروازے
    کھلیں وہ لب تو کوئی انکشاف کرنے کو

    اگر حساب میں کچھ اور ماجرا نکلا
    تو کون کس سے کہے گا معاف کرنے کو؟

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہوائے تازہ چلی ہے اِدھر بھی آئے گی
    کُھلے رہیں گے دریچے تو گھر بھی آئے گی

    دلوں میں اونچی اڑانوں کا خواب زندہ رہے
    تو فصلِ حوصلۂ بال و پر بھی آئے گی

    کبھی اِدھر تو کبھی اس طرف ملیں گے ہم
    سفر بھی ہوتا رہے گا خبر بھی آئے گی

    سکون ملتا ہے یہ بار بار کہنے سے
    کہ رات ہے تو یقینا سحر بھی آئے گی

    گزر کے دشتِ جنوں سے مری قبائے شوق
    کبھی سفید کبھی خوں میں تر بھی آئے گی

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    لفظوں کی تصویریں اور صدا کے رنگ بکھرتے ہیں
    اکثر میں اور تنہائی جب اس کی باتیں کرتے ہیں

    اک آہٹ سی اک سایا سا جلتے بجھتے کچھ جگنو
    ساری رات مرے آنگن میں کھیل تماشے کرتے ہیں

    دل کیسا ویران کھنڈر ہے ارمانوں کا اب بھی جہاں
    روتے رہتے ہیں سناٹے سائے آہیں بھرتے ہیں

    اور پروں کو مل جاتا ہے تیز اڑانوں کا ورثہ
    بال وپر اڑنے والوں کے جتنی بار کترتے ہیں

    صبح زمینِ دل پہ کچھ قدموں کے نشاں تو ملتے ہیں
    لیکن آخر کون ہیں جو دل کی بستی سے گزرتے ہیں؟

    موجوں کی یلغار سے اکثر کشتی ڈوب بھی جاتی ہے
    اور جزیرے کھوئے ہوئے بھی ان موجوں سے ابھرتے ہیں



    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دکھوں کے جتنے ہیں منظر اگر شمار سکو
    تو تم بھی میری طرح روز و شب گزار سکو

    یہ کہتے رہتے ہو کتنا برا زمانہ ہے
    تو پھر سدھار لو اس کو اگر سدھار سکو

    وفورِ شوق کی دیوانگی میں ممکن ہے
    کہ اپنی جان سی شے بھی کسی پہ وار سکو

    عجیب موڑ پہ آکر رکی ہے یہ بازی
    کہ جس کو جیتنا ممکن نہ جس کو ہار سکو

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہریالی کی آس جگادی جنگل میں
    برف رتوں نے آگ لگادی جنگل میں

    اچھی سی اک خبر اڑادی جنگل میں
    اسی بہانے دھوم مچادی جنگل میں

    شہروں کی وحشت کا رخ اس جانب تھا
    پیڑوں نے دیوار اٹھادی جنگل میں

    شاخ پہ یا تو سرخ کلی ہے یا اپنا
    گھونگھٹ کاڑھے ہے شہزادی جنگل میں

    اپنا رنگ اور اپنی مستی مانگتے ہیں
    وحشی خواہش اور آزادی جنگل میں

    سب آوازیں سنّاٹے میں ڈوب گئیں
    آج ہوئی پھر کوئی منادی جنگل میں؟


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اگر سچّا سخنور ہے بولتا ہے
    تو لفظوں کا پیمبر بولتا ہے

    مری تخئیل کے پہلو میں اکثر
    نہ جانے کس کا شہپر بولتا ہے؟

    دھوئیں کی ہیں بہت لمبی زبانیں
    پسِ منظر سے منظر بولتا ہے

    کبھی کلیوں کو کِھلتے وقت سنیے
    کوئی لہجہ بدل کر بولتا ہے

    میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں
    جو میرے دل کے اندر بولتا ہے

    عجب جادو ہے اس کی گفتگو میں
    مخاطب ہو تو پتھر بولتا ہے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہی پرانا نئے میں ڈھل کر آجاتا ہے
    ایک ہی منظر بھیس بدل کر آجاتا ہے

    جب وہ چہرہ خواب میں چل کر آجاتا ہے
    کوئی چراغ سا رات میں جل کر آجاتا ہے

    رنگ دکھائے گا وحشی اس کوچے میں بھی
    ابھی تلک تو صرف ٹہل کر آجاتا ہے

    سنّاٹے میں خوف کی آہٹ سنتے ہی بس
    منھ میں سارا خون اچھل کر آجاتا ہے

    آنے والا آندھی بارش کہرے میں بھی
    دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل کر آجاتا ہے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سراغ اس کا اب ایسے لگاکے دیکھوں گا
    میں اک چراغ ہَوا میں جلاکے دیکھوں گا

    پسِ خیال یہ کیا ہے؟ جو جھلملاتا ہے
    میں اس خیال کا پردہ اٹھاکے دیکھوں گا

    لہو ضرور دکھائے گا اپنا رنگ کبھی
    تو بار بار نیا زخم کھاکے دیکھوں گا

    کچھ اور آئینہ ماضی کا صاف ہو جائے
    تو اپنے حال سے آگے بھی جاکے دیکھوں گا

    بنا تو کیسے بنے گا وہ آرزو کا محل؟
    خیال ہی میں مرقع بناکے دیکھوں گا

    چھپائے رہتے ہیں اس کو حواس کے پردے
    تو اپنا ہوش بھی اب کے گنواکے دیکھوں گا


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اثر دعا کا کبھی یوں بھی آشکار کیا
    کہ اس نے دھوپ کی چادر کو سایہ دار کیا

    یقین میں بھی نہ کرتا تو اور کیا کرتا؟
    چراغ نے بھی ہواؤں کا اعتبار کیا

    نقاب ہی نہیں الٹی کلی کے چہرے کی
    صبا نے پیرہنِ گل بھی تار تار کیا

    اُدھر پہنچ کے تو حیران رہ گئے ہم بھی
    کہ وہ تو سرخ سمندر تھا جس کو پار کیا

    وہ جان دے کے بھی زندہ رہا کہ اس کا نام
    تمام اہلِ قبیلہ نے اختیار کیا

    ہمارے کام کی نکلیں تو ہم نے آنکھوں کو
    کبھی خوشی میں کبھی غم میں اشکبار کیا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہیں شہرِ سبا آباد ہو جائے
    تو ہر بندہ سلیماں زاد ہو جائے

    کہاں شیریں کہاں مٹّی کی چاہت
    یہ جس کا نام لے فرہاد ہو جائے

    مقابل سے مخاطب ہوکے دیکھیں
    کبھی تو عکس بھی ہم زاد ہو جائے

    کچھ ایسا ہو اڑانوں کا تصوّر
    پروں کی قید سے آزاد ہو جائے


    بہ مجبوری یہ احساسِ تشکّر
    لبوں تک آئے تو فریاد ہو جائے

    پرانے زخم پھر بھرنے لگے ہیں
    کوئی تازہ ستم ایجاد ہو جائے

    میں اس کو اتنا پڑھنا چاہتا ہوں
    کہ وہ مجھ کو زبانی یاد ہو جائے
    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ///////

    روزنِ ملال


    //////
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اسعدؔ ! یہ نظم تمہارے لئے


    سخن کی مجلسِ ماتم میں کس کا ذکر ہوتا ہے؟
    کہ سب حرف وبیاں کالی ردا میں منھ چھپائے ہیں
    کہ نطق ولب کا بھی رشتہ شکستہ ہوگیا ہے
    تکلّم ساکت وجامد پڑا ہے!!
    خموشی بین کرتی ہے!

    کوئی جھونکا ہَوا کا یا صدا کا یا دعا کا
    دکھا دیتا ہے ان لفظوں کا چہرہ
    تو وہ ہے اس قدر نمناک ونمدیدہ
    فسردہ اور رنجیدہ
    جسے رنج والم کی زرد بارش تر بتر کردے
    بدن کو چشمِ تر کردے!!
    نہیں کھلتا کہ پانی ہے کہ آنسو ہیں؟
    کہ خونِ دل کے قطرے ہیں؟
    جو ان بھیگے ہوئے لفظوں کی نس نس سے ٹپکتے ہیں!
    وہی نخلِ سخن خوش رنگ خوشبو دار جس میں پھول کھلتے تھے
    معانی کی نئی سرسبز روشن نہر جن سے پھوٹتی تھی
    سخن کی وادیوں میں فکر تازہ گونجتی تھی
    اچانک دھوپ کی شدت سے خاکستر ہوا ہے
    وہ رنگ وروپ پھیکا پڑگیا ہے
    غبارِ وقت بن کر اڑ گیا ہے!!
    بلانے والے سب الفاظ گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں
    سماعت کے چمن میں ایک لمبی چپ کا ڈیرہ ہے
    کوئی آہٹ نہ دستک صرف سناٹے کا پہرہ ہے!!

    کسی دن حرفِ غم ہی بند دروازے کو کھولے گا
    طلسمِ خامشی ٹوٹے گا اک اک حرف بولے گا
    بیاں قربان ہوگا منفرد لہجے کی ندرت پر
    رہے گا وقت بھی حیران اس کے فن کی عظمت پر
    کرے گا آسماں شبنم فشانی اس کی تربت پر
    زمینِ شوق کا سارا علاقہ سلطنت اس کی
    یہاں اس کی حکومت قائم ودائم رہے گی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک غزل اسعدؔ کے نام


    نہیں تھا کوئی ستار ترے برابر بھی
    ہوا غروب ترے ساتھ تیرا منظر بھی

    پگھلتے دیکھ رہے تھے زمیں پہ شعلے کو
    رواں تھا آنکھ سے اشکوں کا ایک سمندر بھی

    کہیں وہ لفظ میں زندہ کہیں وہ یادوں میں
    وہ بجھ چکا ہے مگر ہے ابھی منور بھی

    عجب گھلاوٹیں شہد ونمک کی نطق میں تھی
    وہی سخن کہ تھا مرہم بھی اور نشتر بھی

    منافقوں کی بڑی فوج اس سے ڈرتی تھی
    اور اس کے پاس نہ تھا کوئی لاؤ لشکر بھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر