سخن آباد۔۔ منظور ہاشمی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 4, 2008

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں
    جنوں کی بھولی ہوئی رسم کا اعادہ کریں

    تمام اگلے زمانوں کو یہ اجازت ہے
    ہمارے عہدِ گذشتہ سے استفادہ کریں

    انہیں اگر مری وحشت کو آزمانا ہے
    زمیں کو سخت کریں دشت کو کشادہ کریں

    چلو لہو بھی چراغوں کی نذر کردیں گے
    یہ شرط ہے کہ وہ پھر روشنی زیادہ کریں

    سنا ہے سچی ہو نیّت تو راہ کھلتی ہے
    چلو سفر نہ کریں کم سے کم ارادہ کریں


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں
    وقت کی کوکھ میں اک لمحۂ آئندہ ہوں

    زندگی کتنی حسیں کتنی بڑی نعمت ہے
    آہ! میں ہوں کہ اسے پاکے بھی شرمندہ ہوں

    اجنبی جان کے ہر شخص گزر جاتا ہے
    اور صدیوں سے اسی شہر کا باشندہ ہوں

    زندگی تو جو سنے گی تو ہنسی آئے گی
    لوگ کہتے ہیں کہ میں تیرا نمائندہ ہوں

    آئی حصّے میں مرے ڈوبتے سورج کی کرن
    اس وراثت سے مگر آج بھی تابندہ ہوں

    تیز رفتار ہوائیں مجھے دہراتی ہیں
    حرفِ آخر ہوں میں اک نغمۂ پائندہ ہوں

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سحر کی پہلی کرن کو سہارا کرتے ہیں
    پھر اپنے اپنے دکھوں پر گزارا کرتے ہیں

    فراق بچھڑی ہوئی خوشبوؤں کا سہہ نہ سکیں
    تو پھول اپنا بدن پارا پارا کرتے ہیں

    سیاہ رات نے یہ بھی ہنر سکھایا ہے
    کہ جگنوؤں کو بھی کیسے ستارا کرتے ہیں

    بہت دنوں سے تو وہ یاد بھی نہیں آیا
    تو پھر یہ نیند میں کس کو پکارا کرتے ہیں؟

    نہا کے پنکھ سکھاتی ہے دھوپ میں تتلی
    تو رنگ اپنی نظر خود اتارا کرتے ہیں

    کبھی گلاب کبھی چاندنی کبھی خوشبو
    ہے ایک شخص جسے استعارا کرتے ہیں

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں
    بس ایک گوشۂ امن وامان مانگتے ہیں

    کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے
    درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں

    ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے
    پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں

    قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگ
    مرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں

    ہدف بھی مجھ کو بنانا ہے اور میرے حریف
    مجھی سے تیر مجھی سے کمان مانگتے ہیں

    نئی فضا کے پرندے ہیں کتنے متوالے
    کہ بال وپر سے بھی پہلے اڑان مانگتے ہیں

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آسماں کے آنگن میں بدلیاں نکلتی ہیں
    یا خلا کے جنگل کی ہرنیاں نکلتی ہیں؟

    چاندنی کے پردے میں چھپ کے رات کو اکثر
    روشنی کے مندر کی دیویاں نکلتی ہیں

    خوشبوؤں کو حاصل ہے اعتماد پھولوں کا
    رنگ کی سفارش پر تتلیاں نکلتی ہیں

    فتح کرکے آنا ہے رات کے سمندر کو
    خواب کے جزیروں سے کشتیاں نکلتی ہیں

    آس بھی ہو سینے میں راس آئے موسم بھی
    تب اداس شاخوں پر پتیاں نکلتی ہیں

    جانے پچھلے موسم میں کیسے بیج بوئے تھے؟
    اب ہری زمینوں سے سرخیاں نکلتی ہیں

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کبھی تو یوں ہو کہ دونوں کا کام چل جائے
    ہَوا بھی چلتی رہے اور دیا بھی جل جائے

    یہی لگے کہ حقیقت میں کچھ ہوا ہی نہ تھا
    جو سانحہ تھا کسی خواب میں بدل جائے

    ڈرو کہ وقت کے ہاتھوں میں ساری بازی ہے
    نہ جانے کون سی کس وقت چال چل جائے

    نشانیاں بھی ملیں گی پرانے موسم کی
    ذرا ہوا تو رکے برف تو پگھل جائے

    تمام باغ کو حیرت میں ڈال دے کوئی
    خزاں کے دور میں میرا درخت پھل جائے

    اترتے رہتے ہیں بیڑے اُدھر کنارے پر
    کبھی ہماری طرف کی ہَوا بھی چل جائے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئے سخن میں لفظ تو جادو بن کر رہتے ہیں
    اور معانی پھول کی خوشبو بن کر رہتے ہیں

    نیند کی ساری پونجی کرکے تعبیروں کے نام
    خواب ہماری آنکھ میں آنسو بن کر رہتے ہیں

    ذہن کے باغیچے میں رقصاں شعر وسخن کے پیکر
    دن کو تتلی رات کو جگنو بن کر رہتے ہیں

    دل کے کچھ ارمانوں کو یہ بھی معلوم نہیں
    جانے کس کے جوگ میں سادھو بن کر رہتے ہیں

    لطف و کرم کی آس میں اکثر اس کے دیوانے
    دشتِ طلب میں گھائل آہو بن کر رہتے ہیں



    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سر پہ تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا
    اُس شہر کے پیڑوں میں تو سایا ہی نہیں تھا

    پانی میں ذرا دیر کو ہلچل تو ہوئی تھی
    پھر یوں تھا کہ جیسے کوئی ڈوبا ہی نہیں تھا

    لکھے تھے سفر پاؤں میں کس طرح ٹھہرتے
    اور یہ بھی کہ تم نے تو پکارا ہی نہیں تھا

    اپنی ہی نگاہوں پہ بھروسہ نہ رہے گا
    تم اتنا بدل جاؤگے سوچا ہی نہیں تھا

    کندہ تھے مرے ذہن پہ کیوں اس کے خد و خال
    چہرہ جو مری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں تھا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جس شاخ کی فصل پک رہی ہے
    کٹنے کو وہ خود لچک رہی ہے

    اچھی ہے یہ زندگی کہ سر پر
    تلوار سی اک لٹک رہی ہے

    یا آج وہ لب کشا ہوا ہے؟
    یا کوئی کلی چٹک رہی ہے؟

    یا اور چراغ جل اٹھے ہیں؟
    یا آخری لَو بھڑک رہی ہے؟


    یا آسمان ہی پھٹ پڑا ہے؟
    یا آنکھ مری چھلک رہی ہے؟

    اک بات چبھی تھی دل میں ایسی
    سینے میں ابھی کھٹک رہی ہے

    اک پھول کھلا تھا اور اب تک
    یادوں کی گلی مہک رہی ہے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عجیب حال یہاں دھوپ کے دیار میں تھا
    شجر خود اپنے ہی سائے کے انتظار میں تھا

    نہ جانے کون سے موسم میں پھول کھلتے ہیں؟
    یہی سوال خزاں میں یہی بہار میں تھا

    ہر ایک سمت سے لشکر ہوا کے آئے تھے
    اور اک چراغ ہی میدانِ کار زار میں تھا

    کھنچی ہوئی تھی مرے گرد واہموں کی لکیر
    میں قید اپنے بنائے ہوئے حصار میں تھا

    کوئی مکیں تھا نہ مہمان آنے والا تھا
    تو پھر کواڑ کھلا کس کے انتظار میں تھا؟

    مرے شجر پہ مگر پھول پھل نہیں آئے
    وہ یوں تو پھلتے درختوں ہی کی قطار میں تھا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جانے کس کس کو مددگار بنا دیتا ہے؟
    وہ تو تنکے کو بھی پتوار بنا دیتا ہے

    ایک اک اینٹ گراتا ہوں میں دن بھر لیکن
    رات میں پھر کوئی دیوار بنا دیتا ہے

    وہ کچھ ایسا ہے گزرتا ہے اِدھر سے جب بھی
    شہر کو مصر کا بازار بنا دیتا ہے

    لفظ ان ہونٹوں پہ پھولوں کی طرح کھلتے ہیں
    بات کرتا ہے تو گلزار بنا دیتا ہے

    مسئلہ ایسا نہیں ہے مرا ہمدرد مگر
    کچھ اسے اور بھی دشوار بنا دیتا ہے

    جنگ ہو جائے ہواؤں سے تو ہر ایک شجر
    نرم شاخوں کو بھی تلوار بنا دیتا ہے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہر اک پتہ اگر پنکھا جھلے گا
    شجر بھی دھوپ میں پھولے پھلے گا

    کوئی لمحہ مری انگلی پکڑ کر
    سنہرے وقت کے گھر لے چلے گا

    انہیں کی روشنی زندہ رہے گی
    لہو بھی جن چراغوں میں جلے گا

    ہمارے ساتھ بھی چلتا ہے رستہ
    ہمارے بعد بھی رستہ چلے گا

    ہمیں کندن کرے یا راکھ کردے
    تبھی شاید یہ سورج بھی ڈھلے گا؟

    وہ موسم برکتوں والا تو آئے
    ہمارا باغ بھی پھولے پھلے گا

    **
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ تیر چھوڑا ہوا تو اسی کمان کا تھا
    اگرچہ ہاتھ کسی اور مہربان کا تھا

    گزر رہا تھا وہ لمحہ جو درمیان کا تھا
    مگر یہ وقت بڑے سخت امتحان کا تھا

    پتہ نہیں کہ جدا ہوکے کیسے زندہ ہیں
    ہمارا اس کا تعلق تو جسم وجان کا تھا

    وہی کہانی کبھی جھوٹ تھی کبھی سچ تھی
    ذراسا فرق اگر تھا تو بس بیان کا تھا

    قدم قدم پہ نئے منظروں کی حیرت تھی
    تِری گلی کا سفر تھا کہ اک جہان کا تھا؟

    ہم اپنے نام کے حصّے کو ڈھونڈھتے بھی کہاں؟
    زمیں کے پاس تو جو کچھ تھا آسمان کا تھا


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جلا دیا ہے چراغ ایسا کہ لوگ جس کی مثال دیں گے
    بری نظر سے ہوا نے دیکھا تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے

    سنا ہے پتھر کو موم کرنے کا بس وہی ایک راستہ ہے
    حرارتیں خونِ آرزو کی بھی اب کے اشکوں میں ڈال دیں گے

    سنا ہے سینے کی دھڑکنیں اس کی آہٹوں سے جڑی ہوئی ہیں
    تو ہم سماعت کو شوق کے آئینے میں اس بار ڈھال دیں گے

    سنا ہے منزل تلک نہیں ہے بنا بنایا سا کوئی رستہ
    چلو تو اب کے سفر میں اچھاسا راستہ بھی نکال دیں گے

    سنا ہے راہِ طلب کے راہی سے نقد جاں مانگنے لگے ہیں
    سوال ہم سے کیا کسی نے تو ہم تو سن کے بھی ٹال دیں گے


    سنا ہے اس رات کے سفر میں اگر چلیں گے وہ نام لے کر
    تو اتنا چمکیں گے حرف اس کے کہ راستوں کو اجال دیں گے

    سنا ہے پچھلی حکایتوں میں بھی نام اس کے بدل گئے تھے
    تو عصرِ نو کی کہانیوں سے بھی کیسے اس کو نکال دیں گے

    سنا ہے طرزِ ستمگری میں ہوا ہے اب کے نیا اضافہ
    کہ زخم کھانے کے بعد سب کو وہ مرہمِ اندمال دیں گے

    سنا ہے دورِ قبولیت کا پھر آرہا ہے کریم موسم
    تو اب کے ہم کاسۂ دعا میں تمام دکھ درد ڈال دیں گے

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آج تو فرطِ شوق میں ایسا کمال ہوگیا
    جنبشِ لب نہ ہو سکی اور سوال ہوگیا

    نرم ہوا کے لمس نے جیسے کھلا دیا گلاب
    چہرہ نگاہِ شوق سے اس کا بھی لال ہوگیا

    یہ بھی ہوا کہ رات جب تیز ہوا کا زور تھا
    برگِ شجر بھی ٹوٹ کر شاملِ حال ہوگیا

    عدل وپناہ کی رِدا پہلے تو سر پہ ڈال دی
    پھر یوں ہوا کہ میرا خوں اس پہ حلال ہوگیا

    راہِ طلب میں بس مرا ایک قدم غلط اٹھا
    پھر تو تمام راستہ راہِ ملال ہوگیا

    وقت عجیب پڑگیا اہلِ دل ونگاہ پر
    اور تو کیا کہیں کہ اب عشق محال ہوگیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خیال وشوق کو جب ہم تری تصویر کرتے ہیں
    تو دل کو آئینہ اور آنکھ کو تنویر کرتے ہیں

    نظر کے سامنے جتنا علاقہ ہے وہ دل کا ہے
    تو اس کی بے دلی کے نام یہ جاگیر کرتے ہیں

    ہَوا مِسمار بھی کردے اگر شہرِ تمنّا کو
    پھر اس ملبے سے قصرِ آرزو تعمیر کرتے ہیں

    ہوائیں پڑھ کے اپنے نام کے خط جھوم جاتی ہیں
    محبت سے جو پتّوں پر شجر تحریر کرتے ہیں

    ہمارے لفظ آئندہ زمانوں سے عبارت ہیں
    پڑھا جائے گا کل جو آج وہ تحریر کرتے ہیں





    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پتہ نشان تو اس نے نہیں بتایا تھا
    مگر وہ رات مرے خواب میں تو آیا تھا

    زمین سبز پری کی طرح سنور گئی تھی
    اور آسمان بھی جوڑا بدل کے آیا تھا

    نہا دیا تھا پرانے دنوں کی خوشبو میں
    کل اس کے شہر سے جھونکا ہوا کا آیا تھا

    اب اس کے پھولوں سے خوشبو کی نہر پھوٹتی ہے
    زمینِ شوق میں اک نخل جو لگایا تھا


    تو روشنی کو بھی اس بات پہ تھا ناز بہت
    کہ اپنے ہاتھ سے اس نے دیا جلا یا تھا

    دیارِ جاں کے علاقے میں نور کیسا ہے؟
    وہ آرہا ہے کہ اس کا خیال آیا تھا

    مہکتے پھول سی یادیں چمکتے چاند سے لوگ
    بس عمر بھر میں خزانہ یہی کمایا تھا
    ///
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آنکھوں سے ہوکے میری بہا ہی کچھ اور تھا
    اب کے تو آنسوؤں کا مزا ہی کچھ اور تھا

    زخموں کا رنگ دیکھ کے شرما گئے گلاب
    اس بار تو یہ باغ کھلا ہی کچھ اور تھا

    میں تو سمجھ رہا تھا کہ دل ہوگیا دھواں
    لیکن دیارِ جاں میں جلا ہی کچھ اور تھا

    یا تو جواب عرضِ تمنا ہی کچھ نہ تھا
    یا یہ ہوا کہ میں نے سنا ہی کچھ اور تھا

    سنگِ گراں بھی ہوتے گئے راستے کے دھول
    پہلے پہل سفر کا نشہ ہی کچھ اور تھا




    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے
    ہَوا اک راز رہنا چاہتی ہے

    نہ جانے کیا سمائی ہےکہ اب کی
    ندی ہر سمت بہنا چاہتی ہے

    سلگتی راہ بھی وحشت نے چن لی
    سفر بھی پا برہنہ چاہتی ہے

    تعلق کی عجب دیوانگی ہے
    اب اس کے دکھ بھی سہنا چاہتی ہے

    اجالے کی دعاؤں کی چمک بھی
    چراغِ شب میں رہنا چاہتی ہے

    بھنور میں آندھیوں میں بادباں میں
    ہَوا مصروف رہنا چاہتی ہے


    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کٹی پھٹی ہوئی تحریر لے کے آیا تھا
    عجب نوشتۂ تقدیر لے کے آیا تھا

    تھکن سے چور پرندہ نہ جانے کس کے لئے؟
    لہو میں ڈوبا ہوا تیر لے کے آیا تھا

    بلا کی کاٹ تھی اک ایک لفظ میں اس کے
    نیام نطق میں شمشیر لے کے آیا تھا

    تمام شہر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا
    عجیب جذبۂ تعمیر لے کے آیا تھا

    بدن کی چٹکی ہوئی چاندنی کی آنچ نہ پوچھ
    کہ برف آگ کی تاثیرلے کے آیا تھا

    اِدھر سے کھلتی اُدھر سے لپٹتی جاتی تھی
    میں اک عجیب سی زنجیرلے کے آیا تھا

    ***
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر