زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

حسان خان

لائبریرین
برادرم حسان خان ، فارسی میں مصدر ’آسودن‘ کا معنی استراحت، آرام کردن وغیرہ ہے۔ جن الفاظ میں آسودن کا بنِ مضارع ’آسا‘ آتا ہے، اصولاََ ان کے مطالب میں آرام کی کیفیت آنی چاہیے، لیکن اصلاََ ان کے مطالب میں ’مانند‘ آتا ہے۔ مثلاََ ’’خاطر آسا‘‘ کا اصولاََ معنی دل کو تسکین دینے والا، لیکن حقیقتاََ اس کا مطلب ’’دل جیسا‘‘ ہے۔ اس اختلاف کی علت کیا ہے؟
یہ دونوں "آسا" دو مختلف لفظ ہیں، لیکن ایک ہی امِلا اور ایک ہی تلفُّظ رکھتے ہیں۔ ایک "آسا" کلِمات مُرکّب کے آخر میں آ کر مِثل و مانند و شبیہ کا معنی دیتا ہے، جبکہ دوسرا "آسا" آسودن کا بُنِ مُضارع ہے اور کلماتِ مُرکّب میں "آسائش دینے والا" کا معنی دیتا ہے۔

"خاطرآسا" کا معنی بھی "وہ چیز/شخص جو خاطر کو آسائش دیتا ہے" ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مُحِبّانِ زبانِ فارسی کے ذہن سے یہ تاریخی حقیقت ایک لمحے کے لیے بھی دُور نہیں ہونی چاہیے کہ اِسلامی دور میں پاکستان کی جُملہ اقوام میں کشمیری قوم سے افزُوں‌تر کسی بھی دیگر قوم نے ہماری محبوب زبانِ فارسی کو نہیں اپنایا تھا، اور نہ کشمیریوں کے بقَدر فارسی تألیفات کسی دیگر پاکستانی قوم نے بطورِ یادگار چھوڑی ہیں۔ پاکستان کی دیگر جُملہ اقوام اپنی اپنی فارسی میراث کو باہم یکجا کر کے بھی کشمیریوں کی فارسی میراث کے ساتھ رقابت نہیں کر سکتیں۔ اسلامی دور میں مردُمِ کشمیر اور زبانِ فارسی لازم و ملزوم تھے۔۔۔ اِس لیے کوئی روز نہیں گُذرتا کہ میں مِلّتِ کشمیری کے لیے دل میں احساسِ تشُّکر و اِمتِنان محسوس کرتے ہوئے اُن پر سلام نہ بھیجوں! میں اگر خود کو «فرزندِ فارسی» کہتا اور سمجھتا ہوں تو میں انتہائی ناخلَف فرزند ہوؤں گا اگر میں خود کی ادبی و ثقافتی و شعری مادر (زبانِ فارسی) کو پانچ چھ صدیوں تک محبّت کے ساتھ سینے سے لگانے والے، اُس کی تعظیم میں خَم ہونے والے، اُس کی خِدمت کرنے والے، اور اپنی ہی زبان سمجھنے والے کشمیریوں کو محبوب نہ رکھوں! سلام بر ‌کشمیری‌ها! :in-love:

==========

پاکستانی ادبیات‌شناس مرحوم «خواجه عبدالحمید عِرفانی» نے اپنی فارسی کتاب «ایرانِ صغیر یا تذکرهٔ شُعَرایِ پارسی‌زبانِ کشمیر» میں کشمیریوں کی فارسی‌دانی کی سِتائش کرتے ہوئے یہ لِکھا ہے:

"در تاریخِ دنیا کم‌تر نظیر دارد که یک ملّت به وسیلهٔ تدریس و تعلیم زبانِ خارجی را یاد بگیرد و در آن زبان آثارِ پُرارزش مثلِ کشمیری‌ها به یادگار گُذارد."

ترجمہ: "دُنیا کی تاریخ میں کم‌تر ہی کوئی مثال ملے گی کہ کوئی مِلّت تدریس و تعلیم کے ذریعے سے [کشمیریوں جتنی مہارت کے ساتھ] کسی زبانِ بیرونی کو سیکھ لے اور اُس زبان میں کشمیریوں کی مانند بیش‌قیمت تألیفات بہ طورِ یادگار چھوڑے۔"

==========

خاطِرنشین رہے کہ کِشوَرِ «کشمیر» میں زبانِ فارسی کو خود «کشمیریوں» نے ختم نہیں کیا تھا، بلکہ ایک اجنبی و غاصِب غیرکشمیری «ڈوگرا» حاکِم نے فارسی کو کشمیر کی سرکاری و تدریسی و ادبی زبان کے طور پر معزول کر کے اُس کی جگہ پر اُردو کو جاگِرفتہ کر دیا تھا۔ اگر اُس وقت «کشمیریوں» کی اپنی رائے پوچھی جاتی تو شاید وہ ہرگز اپنی محبوب زبان فارسی سے دُور ہونے پر راضی نہ ہوتے! کیونکہ کشمیر کے ایک کشمیری‌الاصل «چک» شاہی خاندان کے دَور میں فارسی ہی اُن کے مُلکِ «کشمیر» کی سرکاری و ادبی زبان تھی۔
 

حسان خان

لائبریرین
آذربائجان و اناطولیہ کے تُرکی‌گویوں میں «مسیحی صلیب» کو «خاچ» کہا جاتا ہے، لہٰذا وہاں تُرکی گُفتار میں «مسیحی» کے لیے «خاچ‌پرست» بھی استعمال ہوتا ہے۔ «خاچ» در اصل ایک ارمَنی‌الاصل لفظ ہے اور زبانِ‌ ارمَنی سے یہ لفظ ایرانی فارسی بھی میں «خاچ» اور «خاج» کی شکل میں در آیا ہے (لیکن اُتنا زیادہ مُستَعمَل نہیں رہا)، اور کتابی ایرانی فارسی میں بھی چند بار «مسیحی» کے لیے «خاج‌پرست/خاچ‌پرست» استعمال ہو چکا ہے۔

ایران، جمہوریۂ آذربائجان، اور تُرکیہ کی ہم‌سایگی میں بسنے والی «قومِ ارمَنی» قرنِ چہارُمِ عیسوی سے تا حال مسیحی ہے (حالانکہ ساتویں عیسوی صدی سے بیسویں عیسوی صدی تک اُس قوم نے بیشتر زمانہ مختلف مُسلمان سلطنتوں کے زیرِ نِگیں گُذارا ہے) اور اپنی مسیحی دین‌داری کے لیے مشہور رہی ہے، بلکہ ایران و آذربائجان میں یہ قوم دینِ مسیحیت کی مُجسّم علامت رہی ہے۔ لہٰذا عجب نہیں ہے اگر تُرکوں اور فارسوں نے «صلیب» کے لیے ایک لفظ زبانِ ارمَنی سے بھی اخذ کر لیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
"فارسی کا اسلام سے تعلق: اسلام کی مذہبی زبان عربی ہے اور اسلام کی تمدنی و ادبی زبان فارسی ہے۔ فارسی بہت سادہ اور شیریں زبان ہے۔ اتنی سادہ کہ بحض محققین کے قول کے مطابق اس کی گرامر ہی نہیں ہے۔ یعنی گرائمر اتنی سادہ اور قلیل ہے کہ انسان آسانی سے اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ فارسی یاد کرنے سے کوئی دقت نہیں ہوتی اور آدمی چند مہینوں میں گفتگو میں مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ مگر فارسی کی سب سے بڑی قابل قدر صفت اس کے گرانبہا ادبیات کا ذخیرہ ہے۔ حافظ، سعدی، رومی، عطار، انوری، نظیری۔ یہ تو چند نام ہیں۔ فلک پیما اور ثریا بوس۔ ادیبوں کا ایک گراں تعداد گروہ ہے۔ ان میں سے ہر ایک یا تو فرشتہ کہلانے کا مستحق ہے یا جِن۔ چونکہ ہر ایک میں فوق العادہ صفات موجود ہیں۔ بس پڑھتے جاؤ اور جھومتے جاؤ۔ مزے لیتے رہو۔ اور روحانی لذت سے سرشار سر دھنتے رہو۔ ان میں نصائح بھی ہیں۔ زندگی کے حقائق بھی۔ [اور] علمِ نفسیات کے اصول بھی۔ شیعہ فرقے سے فارسی کو خاص تعلق ہے۔ چونکہ شیعہ اصولوں نے ایران میں فروغ پایا۔ بلتستان تو نوّے فیصدی شیعہ ہے اور خطۂ گلگت میں بھی بڑی تعداد شیعوں کی ہے۔ اسلام اور شیعہ اصولوں کے ساتھ فارسی بھی اس وطن میں داخل ہوئی۔ پامیر، واخان اور ترکستان کے بعض حصّوں میں تو فارسی مادری زبان ہے۔"

(گِلگِت اور شِنا زبان، ڈاکٹر شُجاع محمد ناموس، ۱۹۶۱ء)
 
السلام علیکم
میں ایک نیا قاری ہوں اس گروپ کا۔

فارسی زباں سے نابلد ہوں
آج امیر خسرو کا کلام نمی دانم چہ منزل بود پڑھا اور اسکا لفظی ترجمہ بھی کیا اس کے بعد نصرت فتح علی خان صاحب کی آواز میں سنا تو ادھر شروع میں بو علی کے اشعار تھے ۔ ایک شعر پیش ہے۔
غلامِ روئے اُو بُودَم، اسیرِ بُوئے اُو بودم

مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بودم کا استعمال فعل ماضی کے لئے ہوتا ہے تو پھر ادھر اسکا اردو ترجمہ فعل حال ظاہر کرتا ہے۔ اسکی کیا وجہ ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
«وِفاقِ پاکستان» کے مردُم سے «ایران» کے فارسی‌گویوں کی بہ نِسبت «افعانستان» کے فارسی‌گویان زیادہ جُغرافیائی قُربت رکھتے ہیں۔۔۔ پاکستانی «بلوچستان» کی سرحد ایران کے صوبۂ «سیستان و بلوچستان» کے ساتھ مُلحَق ہے جہاں کے باشندوں کی اکثریت زبانِ اوّل کے طور پر بلوچی و سیستانی زبانیں بولتی ہے، جبکہ «وِفاقِ پاکستان» کے ایک خِطّے «چِترال» کے بِالکُل ساتھ ہی «افغانستان» کا ضِلعِ «بَدَخشان» ہے جِس کے مردُم کی اکثریت فارسی‌زبان ہے۔۔۔
 
واژہ "تحقق یافتن" اور "تحقق پذیرفتن" کا کیا معنیٰ ہے؟

مرحوم محمد علی جناح، در اولین نطقِ خود پس از استقلالِ پاکستان، بیان می‌دارد که امروز آرزویِ مرحوم علامه‌اقبال تحقق یافته، ولی افسوس که او درمیانِ ما نیست تا شاهدِ این آزادی و استقلال باشد
ترجمه:مرحوم محمد علی جناح پاکستان کے استقلال(آزادی) کے بعد اپنی اولیں تقریر میں فرماتے ہیں کہ امروز مرحوم علامہ اقبال کی آرزو حقیقت‌پذیر ہوئی ، اما حیف کہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں تاکہ اس آزادی و استقلال کا مشاہدہ کرتے۔

علامه‌اقبال در ادبِ فارسی و فرهنگِ افغانستان----از دکتر اسد الله محقق-

بظاہر یہاں تحقق یافتن کا معنیٰ حقیقت میں بدل جانا لگتا ہے۔

جی، 'تحقُّق یافتن' اور 'تحقُّ پذیرفتن' کا معنی 'حقیقت میں تبدیل ہو جانا' ہی ہے۔
"خوشبختانه این آرزو هم تحقق پذیرفت۔۔۔"
سورہء اعراف کی آیت 137 ہے:
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا
اردو ترجمہ:
اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا
ترجمه‌ی فارسی ( اخذ شدہ از مختصر احیاء علوم الدین تالیفِ امام غزالی و ترجمه‌ی محمد صالح سعیدی):
« و وعده‌ی نیکِ پرودگارت بر بنی اسرائیل، به خاطرِ صبر و استقامتی که نشان دادند، تحقق یافت »
 

فہد اشرف

محفلین
السلام علیکم۔
ای دل به صبر کوش که هر چیز بگذرد
زبن حبس هم مرنج که این نیزبگذرد

بہار کے بالا شعر کے دوسرے مصرعے میں "زبن" کے کیا معنی ہیں۔ پہلے مجھے لگا تھا کہ شاید یہ "زین" ہو لیکن گنجور اور دوسرے کئی فارسی ویبگاہوں پہ زبن ہی تحریر پایا اس لیے یہاں پوچھ رہا ہوں۔ حسان خان محمد وارث اریب آغا
شکریہ
 

محمد وارث

لائبریرین
السلام علیکم۔
ای دل به صبر کوش که هر چیز بگذرد
زبن حبس هم مرنج که این نیزبگذرد

بہار کے بالا شعر کے دوسرے مصرعے میں "زبن" کے کیا معنی ہیں۔ پہلے مجھے لگا تھا کہ شاید یہ "زین" ہو لیکن گنجور اور دوسرے کئی فارسی ویبگاہوں پہ زبن ہی تحریر پایا اس لیے یہاں پوچھ رہا ہوں۔ حسان خان محمد وارث اریب آغا
شکریہ
یہ "زین" ہی ہے، زبن پڑھنے سے وزن بھی خراب ہوتا ہے۔ آپ گنجور پر اسی غزل کا حاشیہ دیکھیے، پہلے ہی کسی صارف نے اس ٹائپو کی نشاندہی کر رکھی ہے۔ باقی ویب سائٹوں نے شاید یہیں سے اٹھایا ہے اور کسی نے غلطی درست نہیں کی۔

شعر بہرحال عمدہ آپ نے نظر سے گزارا، شکریہ۔ :)
 
[QUOTE = "Hassan Khan, post: 1795963, member: 6137"] In Persian, the verb amar does not cause difficulty, because in Persian there is no separate substance for amar, but only the modal is used for amar. The 'b' is usually added at the beginning of it. [/ QUOTE]
<a href="https://www.sakoonedil.com"> Sakoonedil </a> <br />
فرحان خان صاحب ،
خوش آمدید
یہاں مراسلے اردو زبان میں لکھے جاتے ہیں ۔ اگر آپ کو اردو لکھنے میں مدد چاہیئے تو آپ یہاں متعلقہ مواد تلاش کر کے اردو رسم الخط (ٹیکسٹ) میں شریک کر سکتے ہیں ۔ شکریہ ۔
 
اردو كی مشہور كتاب "آبِ حیات" كے مصنف محمد حسین آزاد اپنی كتاب "سخن‌دانِ فارس" میں ایک جگہ فارسی نثر كے تناظر میں اس دور كے متعلق لكھتے ہیں جب نثرِ مسجع كے پردے میں صنائع و بدائع ، واژہ‌آرائی اور زیبائشِ کلام پر بہت زور دیا جانے لگا جس کی وجہ سے مطالبِ بیان غیر واضح بلکہ بعض اوقات نفہمیدنی ہوجاتے تھے۔ اسی تناظر میں بیدل دہلوی (جنہیں فارسی کا پیچیدہ ترین شاعر کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا) کے ایک خط کے تناظر میں لکھتے ہیں:

"جو اعلیٰ درجے کے خیال بند کہلاتے ہیں، ان کی تصنیفات میں مرزا بیدل کا "چار عنصر" اور "رقعات " وغیرہ ایک نامی نمونہ ہے۔ انہیں پڑھ کر عقل حیران ہوتی ہے۔اضافت پر اضافت۔ استعارہ پر استعارہ۔ فقروں پر فقرے۔خیال در خیال برابر چلے جاتے ہیں۔اس پر مقفیٰ اور مسجع اتنے باریک ہوئے ہیں کہ نظر نہیں آتے اور جو کچھ ان سے سمجھ میں آتا ہے وہ اصل میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔الفاظ بہت خوش‌نما مگر سراسر مضمون، مدعا غائب۔نہیں معلوم ہوتا کہ کیا کہتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں۔ آپ خیال فرمائیے کہ اس طرز میں اگر کوئی تاریخ یا اخلاق یا کسی علم کی کتاب لکھی جائے یا کوئی سلطنت کا فرمان جاری ہو تو پڑھنے والوں پر کیا گزرے۔
کسی دوست کو ایک عرصے کے بعد خط لکھا ہے۔ مطلب کچھ نہیں، فقط اتنی بات ہے کہ میں مدت سے سوچ رہا تھا کہ کس عذر کے ساتھ آپ کو خط لکھوں۔ اس سوچنے کو دیکھو:۔
مدتی‌ست بیدل متحیر غبارِ دامنِ تامل بود تا بوسیله‌یِ کدام طاعت سر از جیبِ تسلیم به‌در آرد یا بواسطه‌یِ چه خدمت قدم به عرصه‌یِ نیاز گذارد. انفعالِ نارسایی‌ها بسامانِ عرقی نه پرداخته که تری از جبه‌یِ تحریر تواند شست. و شرمِ ناتوانی بساطِ سرنگون طرح نه نموده که از خامه‌یِ جراتِ گردن‌افرازی توان جست.
طرز کے طرف‌داران فقروں کو پڑھتے اور لوٹ لوٹ جاتے ہیں کہ دیکھیے گا! کیا سوچ ہے! اور کیا عذر ہے! اور سلام بھی اسی میں آگیا اور نیاز بھی اور ندامت تو دیکھیے!اسی ڈھنگ کی ۱۵ سطریں اور ہیں۔مطلب مدعا ہیچ۔"

(سخن‌دانِ فارس از محمد حسین آزاد)
 
مولانا ابوالکلام آزاد کی فارسی‌دوستی:
امروز مولانا ابوالکلام آزاد کے روزِ درگذشت کے موقع پر ان کی فارسی زبان و ادبیات کے لئے علاقہ مندی کے حوالے سے ایک مقالے کا خلاصہ چند سطور میں ذکر کرتا چلوں۔ یہ مقالہ مجلہٗ قندِ پارسی میں شائع ہے، جس کا پیوند (لنک) آخر میں مذکور ہے۔ مقالے کی فراہم‌آوری کے لئے Markaz Tahghighat Farsi Delhi کا سپاس‌گذار ہوں۔
ایرانی افسانہ نویس سعید نفیسی مولانا ابوالکلام سے ملاقات کے بعد ان کے بہت گرویدہ ہوئے اور وہ کہتے ہیں کہ ابوالکلام بغیر کسی غلطی کے، فارسی روانی سے بولتے تھے۔ وہ اپنی سخن‌رانیوں اور نگارشات میں فارسی شاعروں اور دانشوروں کے اشعار و افکار بکثرت لاتے تھے ۔ دکتر نفیسی لکھتے ہیں کہ ایک بار انہوں نے ابوالکلام کے روبرو نحوی اور کشتی‌بان کا قصہ بیان کیا ۔ قصہ ختم ہونے کے بعد ابوالکلام ہنسے اور کہا کہ یہ حکایت تو مثنوی معنوی میں بیان ہے۔ پھراسی وقت ابوالکلام نے وہ ابیات بھی پڑھے جن میں یہ حکایت مذکور تھا۔
آزاد کا حافظہ نہایت دقیق تھا۔ ایک بار مولانا غلام رسول مہر نے آزاد کا امتحان لیتے ہوئے سعدی شیرازی کی شاعری کے ایک بیت کو اپنی اصل جگہ سے ہٹا دیا۔ آزاد نے ان کی اصلاح کی اور اس بیت کو درست پڑھا۔ بعد میں مولانا غلام کو اپنے ایک خط میں کہتے ہیں کہ اس بیت کو میں نے ۳۰ سال قبل پڑھا تھا۔ امروز میں نے اسے اصل کتاب میں کھول کر پڑھا تو خوش‌بختانہ، وہ شعر ویسا ہی موجود پایا جیسا میں نے اس وقت سنایا تھا۔
آزاد نے فارسی ادبیات کی تمام معروف کتب کو پڑھ رکھا تھا، اور ہزارہا فارسی اشعار انہیں از بر تھے۔ سال ۱۹۰۲ میں آزاد نے ایران کا سفر کیا۔بہت سے سیاستمداروں، دانشوروں، عالموں اور نویسندوں نے ان کا استقبال کیا۔ آزاد بغیر کسی کمک کے، تمام لوگوں سے براہِ راست باتیں کرتے رہے (یہ نقطہ اس لئے اہم ہے کیونکہ فارسی ادبیات و شعر کو پڑھنا دیگر چیز ہے، اور جب آپ کسی سے گفتگو کر رہے ہوں تو وہ قدرے مشکل ہوتی ہے کیونکہ بولتے ہوئے آپ کو زبان کے رائج محاورے کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے، اس لئے جس کو فارسی‌زباناں سے گفتگو کا تجربہ نہ ہو تو اسے بولتے وقت مشکل پیش آ سکتی ہے، لیکن آزاد بدونِ ہیچ مشکلے فارسی میں گفتگو کرتے رہے)
شیراز میں سعدی و حافظ کی آرامگاہوں کی سیر کرنے کے بعد وہ تہران آئے۔ تہران میں اپنی اقامت کے کوتاہ (کم) مدت میں انہوں نے اس وقت رائج فارسی کے ایرانی سبک کے نشیب و فراز سے نہ صرف یہ کہ آگاہی بھی حاصل کر لی تھی بلکہ لہجہٗ تہرانی بھی ساتھ ساتھ سیکھ رہے تھے۔ بسیار کم وقت کے فاصلے میں ان کے لئے ایک برنامہ (پروگرام) ترتیب دیا گیا جس میں انہوں نے تقریر کرنی تھی۔ ایرانی وزیرِ فرہنگ دکتر شہاب سنجانی نے ان کی تعریف میں ابرازِ نظر کیا۔ پس ازاں، مولانا نے اپنی تقریر فارسی میں شروع کی۔ ان کی تہرانی سبکِ نو میں خوش‌بیانی و خوش‌منظری دیدنی و شنیدنی تھی۔
دو روز بعد ایک اور جگہ تالارِ فرہنگ میں انہوں نے فارسی ہی میں تقریر کی جس کا عنوان تھا ’’روابطِ باستانیِ ایران و ہند‘‘۔ وہاں موجود ایرانیوں کو ایسا لگا جیسے آزاد کی زبان سے لعل و گہر برس رہے ہیں کیونکہ اس تقریر کی زبان علمی، معلوماتی، ادبی، فرہنگی اور تاریخی تھی۔ تقریر کا دورانیہ ایک ساعت (گھنٹا) سے کچھ اوپر تھا۔تقریر کے ختم ہونے کے بعد تمام دانش‌جُو (طالبِ علم) کیا لڑکا، کیا لڑکی، سب ان کے دست و بازو اور پا و پیشانی کو بوسہ دینے لگے اور اس وجہ سے اس قدر ہجوم بن گیا کہ وہاں موجود بہت سے ایرانی بڑوں کو مجبوراََ آزاد کی حفاظت کے لئے انہیں اپنے حصار میں لینا پڑا تاکہ وہ اس ازدحام و مزاحمت سے محفوظ نکل سکیں۔ بہت سے دانش‌جُو بعد میں آزاد کی طرف رجوع کرتے رہے تاکہ ان سے دستخط لے سکیں،
(اریب آغا ناشناس)
عنوانِ مقاله: علاقه‌مندیِ مولانا ابوالکلام آزاد به زبان و ادبیاتِ فارسی
 
عبید زاکانی کی کتاب "اخلاق الاشراف" سے ایک مزاحیہ حکایت ترجمے کے ساتھ:
حکایت:
در این روزها بزرگ‌زاده‌ای خرقه‌ای به درویشی داد. مگر طاعنان خبرِ این واقعه را به سمعِ پدرش سرانیدند. با پسر در این باب عتاب می کرد.
پسر گفت «در کتابی خواندم که هر که بزرگی خواهد باید هر چه دارد ایثار کند»؛ من بدان هوس این خرقه را ایثار کردم»
پدر گفت:«ای ابله! غلط در لفظِ ایثاری کرده‌ای که به تصحیف خوانده‌ای؛ بزرگان گفته اند:«هر که بزرگی خواهد باید هر چه دارد انبار کند تا بدان عزیز باشد؛ نبینی که اکنون همه بزرگان انبار داری می‌کنند» » و شاعر گوید:
اندک اندک به‌هم شود بسیار

دانه دانه است غله در انبار
ترجمہ:
انہی دنوں میں ایک بزرگ کے بیٹے نے ایک خرقہ ایک درویش کو دے دیا۔طعنہ‌زنوں نے اس واقعے کی خبر اس کے والد کو پہنچا دی۔ اس نے اپنے بیٹے پر اس بارے میں غصہ کیا۔ بیٹا بولا: "میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ جو کوئی بھی بزرگی چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، اسے ایثار کرے (وقف کرے)۔۔میں نے اسی طمع میں یہ خرقہ ایثار کردیا۔"
والد بولا: "اے نادان! تو نے لفظِ "ایثار" کو تصحیف (نقطوں کی کمی بیشی) کی وجہ سے غلط پڑھا ہے۔ (درحقیقت) بزرگوں نے (یہ) کہا تھا کہ جو کوئی بھی بزرگی چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، اُسے انبار (ذخیرہ) کرتا رہے تاکہ اس وجہ سے وہ معزز رہے۔تو نے نہیں دیکھا کہ اب تمام بزرگ لوگ انبار داری (ذخیرہ اندوزی) کرتے ہیں، اور شاعر کہتا ہے:
اندک اندک به‌هم شود بسیار
دانه دانه است غله در انبار
(تھوڑا تھوڑا جمع ہو کر زیادہ بنتا ہے۔ غلہ دانہ دانہ ہو کر ہی انبار بنتا ہے)۔
 

یاسر شاہ

محفلین
حسان بھائی طالب ہوں اس شعرکاترجمہ کرنے کی کوشش کی اغلاط پررہنمائی فرمادیں عنایت ہوگی
گرگ میراں سگ وزیراں موش را دیواں کند
ایں چنیں ارکانِ دولت ملک را ویراں کند
بھیڑیا حکمراں کتاوزیر چوہاوزیرخزانہ
اس جیسے حکومت کےارکان ہوں تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں
واہ بہت خوب۔
 
Top