زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 22, 2014

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فارسی میں واحد حاضر کے لیے «خوش آمدی» استعمال ہوتا ہے، جبکہ اردو میں مُفرد و جمع دونوں ہی کے لیے «خوش آمدید» استعمال میں آتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چابهار که «نگین توسعه شرق ایران» نام گرفته روز پنجشنبه با بمبگذاری مورد حمله قرار گرفت.

    قرار گرفتن کا ویسے تو معنی استوار شدن، محکم گشتن اور ساکن شدن ہے، لیکن مندرجہ بالا جملے میں اس کا معنی کیا ہوگا؟
     
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اِس جملے میں یہ "موردِ حملہ بنا/واقع ہوا" کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مُعاصر ایران میں اِس چیز کو «مَتَرْسَک» (متَرْس + کافِ تصغیر) کہتے ہیں۔ ماوراءالنہر میں یہ لفظ رائج نہیں ہے (اِلّا ایرانی فارسی سے مُتأثر ادیبوں کی تحریروں میں)۔ ماوراءالنہر کے مختلف فارسی گو خِطّوں میں مختلف علاقائی فارسی و تُرکی الفاظ استعمال ہوتے ہیں، لیکن معیاری کتابی زبان کا لفظ «خوسه» (хӯса) ہے۔
    ماوراءالنہر میں استعمال ہونے والے مختلف الفاظ کے لیے یہ گُفتگو دیکھیے۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فرهنگِ تفسیریِ زبانِ تاجیکی میں «خوسه» کے مدخل کے ذیل میں یہ معنی درج ہے:
    "هیکلِ آدم‌مانندی، که از چوب و لتّه ساخته، در باغ‌ها و پالیزها برایِ ترساندنِ پرندگان می‌شِنانند"
    ترجمہ: وہ مثلِ انسان پُتلا کہ جس کو چوب اور کپڑے سے بنا کر باغوں اور کِشت زاروں میں پرندوں کو ڈرانے کے لیے نصب کیا جاتا ہے۔

    «خوسه» لُغت نامۂ دہخُدا میں بھی موجود ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  6. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    [​IMG] کرسی کے لئے افغانستانی فارسی میں یہی واژہ یعنے "کرسی" ہی کاربردہ ہوتا ہے جبکہ ایرانی فارسی میں "صندلی" استعمال ہوتا ہے ". وہ تخت، جس کے گرد کمبل بچھایا جائے اور اندر زغال(کوئلیں) رکھیں جائیں، اسے اردو اور افغانستانی فارسی میں ’’صندلی‘‘ اور ایرانی فارسی میں ’’کرسی‘‘ کہا جاتا ہے۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرے محلّے میں کام کرنے والے ایک فارسی گو افغان مہاجر بچّے - جس کا آبائی تعلق ولایتِ تخار سے ہے - سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ اُن کے فارسی زبانچے میں «بِلّی» کے لیے «گُربه» کی بجائے «پِشَک» استعمال ہوتا ہے، جو بہ احتمالِ اغلب کُل افغانستان میں رائج ہے۔ یہ شاید تُرکی الاصل لفظ ہے، اور یہ لفظ ماوراءالنہری زبانچوں میں بھی دیر زمانے سے «پِشَک» اور «پُشَک» کی شکلوں میں رائج ہے۔
    آذربائجانی، عراقی، اور مشرقی اناطولیائی تُرکی زبانچوں میں «گُربه» کو «پیشیک» کہتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 16, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    افغانستان کی وہ ولایتیں، جو پاکستان کی سرحد پر واقع ہے، وہاں پاکستانی روپے مستعمل ہے اور اسے کالدار کہا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دوستِ محترم علی صہیب نے چند روز قبل یہ سوال بھیجا تھا۔ اب وقت مِلا ہے تو جواب دے رہا ہوں۔

    "سلام برادر۔۔۔ میں سوال پوچھنے سے ہچکچا رہا تھا کہ آپ کا قیمتی وقت صرف کرنے کے بجائے خود "فضائے مجازی" میں گھوم پھر کر جوئے زبانِ شیرین سے اپنی پیاس بجھاتا رہوں بلکہ طلب و تشنگی میں اضافہ کروں مگر "دنیائے مجازی" پر مختلف مقامات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اس کتابچے کا مطالعہ کیا تو ماضی و مضارع استمراری میں "مے" اور "می" وغیرہ نے چونکا دیا۔۔۔
    کیا قدیم فارسی میں "ے" استعمال ہوتا تھا؟
    آج کل مختلف علاقہ جات میں فقط تلفظ کا فرق ہے (e/i) یا معنیٰ میں بھی فرق ہے؟
    ایک افغانی دوست کے بقول (اگر میں اس کو سمجھنے میں خطا نہیں کر رہا) "می" دری میں متکلم کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں شاید۔۔۔ اس نے غالباََ کچھ یوں مثال دی کہ "می کنید" اور ایرانی فارسی میں "می کنیدم" (آپ وضاحت کر دیجیے اس سے دوبارہ گفت و شنید کر لوں گا)۔۔۔
    مزید اینکہ آپ اس "علامتِ استمرار و امتداد و تکرار" کے متعلق مزید لبِ گہر فشاں وا کیجیے یا اپنے کسی مضمون کا حوالہ ارسال کر دیجیے۔۔۔
    (یا اگر میں کم فہمی کے باعث سوال میں کوئی غلطی کر رہا ہوں تب بھی بتا دیں)"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    وعلیکم السلام!
    اگر آپ کا اشارہ یائے مجہول کی آواز (e) کی جانب ہے، تو یہ آواز قدیم زمانے میں کُل فارسی گو خِطّے کی فارسی میں موجود تھی، اور تا ہنوز افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کی فارسی میں یہ آواز رائج ہے، لیکن اگر آپ اُس حَرف کے بارے میں پوچھ رہے تھے جس کو اردو میں «بڑی یے» کہا جاتا ہے، تو نہیں، یہ حَرف کبھی معیاری فارسی حروفِ تہجّی کا حصّہ نہیں رہا، اور فقط فارسی خطّاطی میں 'ی' کی ایک مُتبادل شکل کے طور پر، یا پاکستان میں اردو رسم الخط اور طرزِ نوِشتار میں لکھی جانے والی فارسی میں استعمال ہوا ہے۔
    «می» میں فقط تلفُّظ کا فرق ہے۔
    یہ سوال میں سمجھ نہیں پایا۔ «می» تو ہر طرح کی فارسی میں متکلّم کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً: می‌روم، می‌گُفتم وغیرہ۔
    مُختصراً یہ کہ «می» کلاسیکی فارسی میں عموماً اِن معنوں کے لیے استعمال ہو سکتا تھا:
    جو کام ماضی/حال میں تکراراً کیا جاتا ہو (میں جاتا تھا/ہوں)
    جو کام ماضی/حال میں در حالِ انجام ہو، یا کیا جا رہا ہو (میں جا رہا تھا/میں جا رہا ہوں)
    جو کام ماضی/حال میں یکے بعدِ دیگرے یا مُسلسل وُقوع پذیر ہوتا تھا/ہو/ہو رہا ہو (میں کیے جا رہا ہوں)
    جو کام مُستقبِل میں انجام پانے جا رہا ہو (میں کرنے جا رہا ہوں/میں کروں گا)

    مُستقبِل کا مفہوم عموماً سیاق و سباق کی مدد سے لایا جاتا تها/ہے۔

    «می» بُنیادی طور پر فعل کی ناتمامیت ظاہر کرتا تھا/ہے، یعنی وہ عمل یا حالت جو اِتمام تک نہ پہنچ گئی ہو۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 16, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ایرانی فارسی میں دھماکے کے لئے ’’انفجار‘ کاربردہ ہوتا ہے جبکہ اس قاموس کے مطابق افغانستانی فارسی میں ’’اِنفلاق‘‘ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. احمد وصال

    احمد وصال محفلین

    مراسلے:
    161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت عمدہ علمی لڑی ہے۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «مولانا جلال‌الدین رومی» کی «مثنویِ معنوی» کی ایک بیت میں "گِرِہ بر آب بستن" (آب بر گِرہ باندھنا) عبارت نظر آئی ہے جس کا مفہوم "کوئی کارِ مُحال انجام دینا" ہے۔ کیونکہ آب پر گِرہ باندھنا نامُمکِن کار ہے۔

    او وزیری داشت گبر و عِشوه‌دِه
    کو بر آب از مکر بربستی گِرِه
    (مولانا جلال‌الدین رومی)

    اُس کے پاس ایک کافر و حیلہ‌گر و فِریب‌کار وزیر تھا جو اپنی شِدّتِ مکّاری و حیلہ‌گری سے آب پر گِرِہ باندھتا تھا۔ یعنی ایسے کار انجام دیتا تھا کہ جو دیگروں کی نظر میں مُحال ہوتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    معلوم ہوا ہے کہ ہماری زبانِ فارسی میں مسیحی کتابِ مُقدّس «اِنجیل» کے لیے لفظِ «اَنگَلیُون» بھی استعمال ہوا ہے۔ «مولانا جلال‌الدین رومی» نے «مثنویِ معنوی» میں ایک داستان میں لِکھا ہے:
    "صد هزاران مردِ ترسا سُویِ او
    اندک اندک جمع شد در کُویِ او
    او بیان می‌کرد با ایشان به راز
    سِرِّ اَنگَلیون و زُنّار و نماز"

    (مولانا جلال‌الدین رومی)
    صد ہزاراں مسیحیان بہ تدریج اُس کے کُوچے میں اُس کے گِرد و اطراف میں جمع ہو گئے۔۔۔ وہ اُن مردُم کو مخفیانہ و رازدارانہ، اِنجیل و زُنّار و [مسیحی] نماز کے اَسرار و و حقاق بیان و تشریح کرتا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,384
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اگرچہ «یحییٰ خان» کی شخصیت پاکستان وَ پاکستانیوں کے لیے قابلِ افتخار نہیں ہے، اور پاکستانی تاریخ میں اُن کو خوب الفاظ سے یاد نہیں کیا جاتا، لیکن اُن کی شخصیت کا ایک جالِب پہلو ایسا ہے جس سے بیشتر پاکستانیان ناواقف ہیں۔ وہ پہلو یہ ہے کہ وہ ایک فارسی‌گو قِزِلباش خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور فارسی بولتے تھے۔ «روئداد خان» نے اپنی انگریزی کتاب «پاکستان: ایک تُرش‌شُدہ خواب» میں صراحتاً لکھا ہے کہ اُن کی زبان فارسی تھی۔ یعنی پاکستان پر ایک فارسی‌گو قِزِلباش شخص حُکومت کر چکا ہے۔ مُتَأسّفانہ، جس قدر ہماری اور «یحییٰ خان» کی زبانِ فارسی شیریں ہے، اُسی قدر «یحییٰ خان» کی شخصیت اور اُن کا دورِ اِقتِدار اکثر پاکستانیوں کی نظر میں تلخ رہا ہے!
     
    آخری تدوین: ‏جون 18, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    معاصر نوشتاری فارسی میں ڈرون کے لئے واژہ "پَهپاد" کاربردہ کیا جاتا ہے جو مخفف ہے "پرنده‌ی هدایت‌پذیر از دور" کا۔
    یک هواپیمایِ دیگرِ آمریکایی در لحظه‌ی ساقط شدنِ پهپاد در آسمان بود
    ڈرون گرتے وقت ایک دیگر امریکی طیاره آسمان میں موجود تھا۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 26, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ہماری زبانِ فارسی میں «غُلام و چاکَر» کے لیے لفظِ «رَهی» بھی استعمال ہوا ہے۔ کلاسیکی فارسی شاعری میں اِس کے استعمال کی دو مِثالیں دیکھیے:

    =========

    «جمشید» کی پادشاہی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بیت میں جنابِ «فردوسی طوسی» کہتے ہیں:


    کمر بست با فرِّ شاهنشهی
    جهان سر به سر گشت او را رهی
    (فردوسی طوسی)


    اُس نے جلال و شُکوہِ شاہنشاہی کے ساتھ کمر باندھی۔۔۔ کُل کا کُل جہان اُس کا چاکَر [و فرمان‌بردار] ہو گیا۔

    =========

    «سُلطان محمود غزنوی» کے لیے جنابِ «فرُّخی سیستانی» کی ایک دُعائیہ بیت:

    ایزد کامِ تو به حاصل کُناد
    ما رهِیان را شب و روز این دُعاست
    (فرُّخی سیستانی)


    ہم غُلاموں کی شب و روز یہ دُعا ہے کہ خُدا تمہاری مُراد و آرزو کو برآوردہ کرے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    معلوم ہوا ہے کہ ہماری زبانِ فارسی میں شبِ پانزدہُمِ شعبان یعنی «شبِ برات» کو «شبِ چَک» کہہ کر بھی یاد کیا گیا ہے۔ کیونکہ «برات» کی مانند «چک» بھی فرمان‌نامہ و پروانہ و سنَد کو کہتے تھے، اور یہ باور رہا ہے کہ اِس شب میں جہنّم سے آزادی و رہائی کا پروانہ مِل جاتا ہے۔ «برات» اور «چک» میں تفاوُت صرف یہ تھا کہ اوّل‌الذکر لفظ عرَبی ہے، جبکہ ثانی‌الذکر لفظ فارسی۔

    اِس نام کی مثال دینے کے لیے عموماً «رودَکی سمرقندی» سے منسوب یہ بیت پیش کی جاتی ہے:

    چراغان در شبِ چک آن‌چُنان شد

    که گیتیِ رشکِ هفتُم آسمان شد
    (رودکی سمرقندی)

    شبِ برات میں چراغاں اِس قدر [زیادہ] ہوا کہ دُنیا آسمانِ ہفتُم کے لیے باعثِ رشک ہو گئی (یعنی دُنیا پر آسمانِ ہفتُم رشک کرنے لگا)۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 13, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    897
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    برادرم حسان خان ، فارسی میں مصدر ’آسودن‘ کا معنی استراحت، آرام کردن وغیرہ ہے۔ جن الفاظ میں آسودن کا بنِ مضارع ’آسا‘ آتا ہے، اصولاََ ان کے مطالب میں آرام کی کیفیت آنی چاہیے، لیکن اصلاََ ان کے مطالب میں ’مانند‘ آتا ہے۔ مثلاََ ’’خاطر آسا‘‘ کا اصولاََ معنی دل کو تسکین دینے والا، لیکن حقیقتاََ اس کا مطلب ’’دل جیسا‘‘ ہے۔ اس اختلاف کی علت کیا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر