1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 22, 2014

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,378
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یہ دونوں "آسا" دو مختلف لفظ ہیں، لیکن ایک ہی امِلا اور ایک ہی تلفُّظ رکھتے ہیں۔ ایک "آسا" کلِمات مُرکّب کے آخر میں آ کر مِثل و مانند و شبیہ کا معنی دیتا ہے، جبکہ دوسرا "آسا" آسودن کا بُنِ مُضارع ہے اور کلماتِ مُرکّب میں "آسائش دینے والا" کا معنی دیتا ہے۔

    "خاطرآسا" کا معنی بھی "وہ چیز/شخص جو خاطر کو آسائش دیتا ہے" ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,378
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مُحِبّانِ زبانِ فارسی کے ذہن سے یہ تاریخی حقیقت ایک لمحے کے لیے بھی دُور نہیں ہونی چاہیے کہ اِسلامی دور میں پاکستان کی جُملہ اقوام میں کشمیری قوم سے افزُوں‌تر کسی بھی دیگر قوم نے ہماری محبوب زبانِ فارسی کو نہیں اپنایا تھا، اور نہ کشمیریوں کے بقَدر فارسی تألیفات کسی دیگر پاکستانی قوم نے بطورِ یادگار چھوڑی ہیں۔ پاکستان کی دیگر جُملہ اقوام اپنی اپنی فارسی میراث کو باہم یکجا کر کے بھی کشمیریوں کی فارسی میراث کے ساتھ رقابت نہیں کر سکتیں۔ اسلامی دور میں مردُمِ کشمیر اور زبانِ فارسی لازم و ملزوم تھے۔۔۔ اِس لیے کوئی روز نہیں گُذرتا کہ میں مِلّتِ کشمیری کے لیے دل میں احساسِ تشُّکر و اِمتِنان محسوس کرتے ہوئے اُن پر سلام نہ بھیجوں! میں اگر خود کو «فرزندِ فارسی» کہتا اور سمجھتا ہوں تو میں انتہائی ناخلَف فرزند ہوؤں گا اگر میں خود کی ادبی و ثقافتی و شعری مادر (زبانِ فارسی) کو پانچ چھ صدیوں تک محبّت کے ساتھ سینے سے لگانے والے، اُس کی تعظیم میں خَم ہونے والے، اُس کی خِدمت کرنے والے، اور اپنی ہی زبان سمجھنے والے کشمیریوں کو محبوب نہ رکھوں! سلام بر ‌کشمیری‌ها! :in-love:

    ==========

    پاکستانی ادبیات‌شناس مرحوم «خواجه عبدالحمید عِرفانی» نے اپنی فارسی کتاب «ایرانِ صغیر یا تذکرهٔ شُعَرایِ پارسی‌زبانِ کشمیر» میں کشمیریوں کی فارسی‌دانی کی سِتائش کرتے ہوئے یہ لِکھا ہے:

    "در تاریخِ دنیا کم‌تر نظیر دارد که یک ملّت به وسیلهٔ تدریس و تعلیم زبانِ خارجی را یاد بگیرد و در آن زبان آثارِ پُرارزش مثلِ کشمیری‌ها به یادگار گُذارد."

    ترجمہ: "دُنیا کی تاریخ میں کم‌تر ہی کوئی مثال ملے گی کہ کوئی مِلّت تدریس و تعلیم کے ذریعے سے [کشمیریوں جتنی مہارت کے ساتھ] کسی زبانِ بیرونی کو سیکھ لے اور اُس زبان میں کشمیریوں کی مانند بیش‌قیمت تألیفات بہ طورِ یادگار چھوڑے۔"

    ==========

    خاطِرنشین رہے کہ کِشوَرِ «کشمیر» میں زبانِ فارسی کو خود «کشمیریوں» نے ختم نہیں کیا تھا، بلکہ ایک اجنبی و غاصِب غیرکشمیری «ڈوگرا» حاکِم نے فارسی کو کشمیر کی سرکاری و تدریسی و ادبی زبان کے طور پر معزول کر کے اُس کی جگہ پر اُردو کو جاگِرفتہ کر دیا تھا۔ اگر اُس وقت «کشمیریوں» کی اپنی رائے پوچھی جاتی تو شاید وہ ہرگز اپنی محبوب زبان فارسی سے دُور ہونے پر راضی نہ ہوتے! کیونکہ کشمیر کے ایک کشمیری‌الاصل «چک» شاہی خاندان کے دَور میں فارسی ہی اُن کے مُلکِ «کشمیر» کی سرکاری و ادبی زبان تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,378
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آذربائجان و اناطولیہ کے تُرکی‌گویوں میں «مسیحی صلیب» کو «خاچ» کہا جاتا ہے، لہٰذا وہاں تُرکی گُفتار میں «مسیحی» کے لیے «خاچ‌پرست» بھی استعمال ہوتا ہے۔ «خاچ» در اصل ایک ارمَنی‌الاصل لفظ ہے اور زبانِ‌ ارمَنی سے یہ لفظ ایرانی فارسی بھی میں «خاچ» اور «خاج» کی شکل میں در آیا ہے (لیکن اُتنا زیادہ مُستَعمَل نہیں رہا)، اور کتابی ایرانی فارسی میں بھی چند بار «مسیحی» کے لیے «خاج‌پرست/خاچ‌پرست» استعمال ہو چکا ہے۔

    ایران، جمہوریۂ آذربائجان، اور تُرکیہ کی ہم‌سایگی میں بسنے والی «قومِ ارمَنی» قرنِ چہارُمِ عیسوی سے تا حال مسیحی ہے (حالانکہ ساتویں عیسوی صدی سے بیسویں عیسوی صدی تک اُس قوم نے بیشتر زمانہ مختلف مُسلمان سلطنتوں کے زیرِ نِگیں گُذارا ہے) اور اپنی مسیحی دین‌داری کے لیے مشہور رہی ہے، بلکہ ایران و آذربائجان میں یہ قوم دینِ مسیحیت کی مُجسّم علامت رہی ہے۔ لہٰذا عجب نہیں ہے اگر تُرکوں اور فارسوں نے «صلیب» کے لیے ایک لفظ زبانِ ارمَنی سے بھی اخذ کر لیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر