سیما علی

لائبریرین
اکثر دعائیں رَبَّنَا سے شروع ہوتی ہیں۔ کس قدر اپنائیت ہے ربنا میں۔ ہمارا رب۔ اس کا رب۔ ان کا رب۔ تیرا رب۔ تم سب کا رب۔ اور میرا رب۔ ہم سب کا رب۔ ہماری ہر ہر ضرورت پوری کرنے والا۔ پل پل پرورش کرنے والا۔
سبحان اللہ!!!
سبحان اللہ
 

ظفری

لائبریرین
مختصر عرصہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر پاکستان آنا ہوا ہے ۔ ان شاءاللہ اس بار لاہور اور اسلام آباد آنے کا بھی پروگرام ہے ۔
 

جاسمن

لائبریرین
دو لیکچرز، امی کے گھر کا دورہ، ایک پروگرام، ایک ٹیسٹ جمع گھر داری
الحمدللہ ربّ العالمین!!
 

جاسمن

لائبریرین
IMG-20240220-145316.jpg

کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کیا لکھا ہے؟
سید عاطف علی
 

جاسمن

لائبریرین
میرے پسندیدہ ترین سویٹ پیز کے پھول اور ان کی پسندیدہ ترین خوشبو،کتاب ،چائے، اڑتے بادل
الحمدللہ رب العالمین۔
IMG20240302123320.jpg
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز دردناک اور المناک مناظر اور خبروں کو میڈیا پر مسلسل شیئر کرنا فلسطین کے کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے !
آج کل سوشل میڈیا میں ہرطرف یہی خبریں نظر آتی ہیں ۔ کون ایسا شخص ہوگا کہ جو اس غمناک صورتحال سے باخبر نہیں۔لیکن جب ایسی غمناک تصاویر اور خبروں کو مسلسل دیکھا اور سنا جائے تو وہ خبر نہیں رہتیں ۔ روزمرہ زندگی کا ایک عام ساحصہ اور واقعہ بن جاتی ہیں۔ پھر ان کا وہ اثر باقی نہیں رہتا کہ جو مطلوب و مقصود تھا۔ یہ تو حقیقت ہے کہ زندگی ہر حال میں جاری و ساری رہتی ہے۔ حد یہ کہ کوئی عزیز از جان ہستی بھی رخصت ہوجائے تو اس کی جدائی اور غم میں زندگی نہیں رکتی۔
ایسے واقعات اور خبریں کہ جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے ان کا مسلسل سامنے آنا ہمارے اندر ایک بے عملی اور بے حسی کی سی کیفیت پیدا کردیتا ہے کہ جسے نفسیات کی اصطلاح میں Learned -helplessness کہتے ہیں۔ غزہ کےواقعات کی مسلسل رپورٹنگ یہی کیفیت یا رد عمل پیدا کررہی ہے۔ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ بحیثیت عوام ہم اس معاملے میں بے بس ہیں ۔ ہم عملی طور پر ان مظالم کو روک نہیں سکتے ۔ بس زبان سے مذمت کرسکتے ہیں اور دل میں برا جان سکتے ہیں ۔ زبان اور قلم سے مذمت کرنے کے سلسلے میں سب سے اہم کام فلسطین اور اسرائیل کی تاریخ کو اجاگر کرنا ، عوام الناس بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو اس سے آگاہی بخشنا ہے ۔ اسرائیل کی صیہونی حکومت مسلسل بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی منظور کردہ قرادادوں کی خلاف ورزی کرتی آرہی ہے۔ اس بات کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو صیہونی مظالم کے خلاف ہموار کرنا بہت اہم ضرورت ہے ۔
سو اس موقع پر ہمارے کرنے کے جو کام ہیں وہ یہ ہیں کہ غزہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی جس قدر ممکن ہو مالی امداد کی جائے ، ایسے امدادی کاموں اور پراجیکٹس کا جس شکل میں بھی ممکن ہو حسبِ مقدور حصہ بنا جائے ۔ ان مظلوموں کو دن رات اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے ۔ مسجد وں میں مسلسل قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیا جائے۔ دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اس نازک وقت میں مسلمان معصیت سے پرہیز کریں اور تقرب الیٰ اللہ کے ذرائع اختیار کریں ۔
سب سے اہم اور انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو صیہونیوں اور ان جیسےدیگر دشمنوں کے مقابلے کے لیے تیار کیا جائے ۔ یہ تیاری صرف نمازروزے اورمحض مسجد میں بیٹھنے سےحاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے قرآن کے حکم کے بموجب وہی ہتھیار تیار کرنے ہوں گے کہ جو دشمن کے پاس ہیں اور جن سے مقابلہ ہے یعنی ٹیکنالوجی اور سائنس۔ جب تک مسلمان قوم فروعات اور غیر اہم چیزوں پر سے توجہ ہٹا کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی سرتوڑ کوششیں نہیں کرے گی ہم یونہی مار کھاتے رہیں گے۔ سو وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی اور اپنے بچوں کی توجہ جدید تعلیم کے حصول اور ٹیکنالوجی کی ترقی و ترویج پر مرکوز کریں ۔ کسی بھی قوم کی بقا کا واحد راستہ اب یہی ہے ۔ ورنہ خاکم بدہن ، غزہ کے بعد مکہ اور مدینہ زیادہ دور نہیں ہیں ۔ اللہ کریم ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین!
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز دردناک اور المناک مناظر اور خبروں کو میڈیا پر مسلسل شیئر کرنا فلسطین کے کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے !
آج کل سوشل میڈیا میں ہرطرف یہی خبریں نظر آتی ہیں ۔ کون ایسا شخص ہوگا کہ جو اس غمناک صورتحال سے باخبر نہیں۔لیکن جب ایسی غمناک تصاویر اور خبروں کو مسلسل دیکھا اور سنا جائے تو وہ خبر نہیں رہتیں ۔ روزمرہ زندگی کا ایک عام ساحصہ اور واقعہ بن جاتی ہیں۔ پھر ان کا وہ اثر باقی نہیں رہتا کہ جو مطلوب و مقصود تھا۔ یہ تو حقیقت ہے کہ زندگی ہر حال میں جاری و ساری رہتی ہے۔ حد یہ کہ کوئی عزیز از جان ہستی بھی رخصت ہوجائے تو اس کی جدائی اور غم میں زندگی نہیں رکتی۔
ایسے واقعات اور خبریں کہ جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے ان کا مسلسل سامنے آنا ہمارے اندر ایک بے عملی اور بے حسی کی سی کیفیت پیدا کردیتا ہے کہ جسے نفسیات کی اصطلاح میں Learned -helplessness کہتے ہیں۔ غزہ کےواقعات کی مسلسل رپورٹنگ یہی کیفیت یا رد عمل پیدا کررہی ہے۔ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ بحیثیت عوام ہم اس معاملے میں بے بس ہیں ۔ ہم عملی طور پر ان مظالم کو روک نہیں سکتے ۔ بس زبان سے مذمت کرسکتے ہیں اور دل میں برا جان سکتے ہیں ۔ زبان اور قلم سے مذمت کرنے کے سلسلے میں سب سے اہم کام فلسطین اور اسرائیل کی تاریخ کو اجاگر کرنا ، عوام الناس بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو اس سے آگاہی بخشنا ہے ۔ اسرائیل کی صیہونی حکومت مسلسل بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی منظور کردہ قرادادوں کی خلاف ورزی کرتی آرہی ہے۔ اس بات کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو صیہونی مظالم کے خلاف ہموار کرنا بہت اہم ضرورت ہے ۔
سو اس موقع پر ہمارے کرنے کے جو کام ہیں وہ یہ ہیں کہ غزہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی جس قدر ممکن ہو مالی امداد کی جائے ، ایسے امدادی کاموں اور پراجیکٹس کا جس شکل میں بھی ممکن ہو حسبِ مقدور حصہ بنا جائے ۔ ان مظلوموں کو دن رات اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے ۔ مسجد وں میں مسلسل قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیا جائے۔ دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اس نازک وقت میں مسلمان معصیت سے پرہیز کریں اور تقرب الیٰ اللہ کے ذرائع اختیار کریں ۔
سب سے اہم اور انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو صیہونیوں اور ان جیسےدیگر دشمنوں کے مقابلے کے لیے تیار کیا جائے ۔ یہ تیاری صرف نمازروزے اورمحض مسجد میں بیٹھنے سےحاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے قرآن کے حکم کے بموجب وہی ہتھیار تیار کرنے ہوں گے کہ جو دشمن کے پاس ہیں اور جن سے مقابلہ ہے یعنی ٹیکنالوجی اور سائنس۔ جب تک مسلمان قوم فروعات اور غیر اہم چیزوں پر سے توجہ ہٹا کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی سرتوڑ کوششیں نہیں کرے گی ہم یونہی مار کھاتے رہیں گے۔ سو وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی اور اپنے بچوں کی توجہ جدید تعلیم کے حصول اور ٹیکنالوجی کی ترقی و ترویج پر مرکوز کریں ۔ کسی بھی قوم کی بقا کا واحد راستہ اب یہی ہے ۔ ورنہ خاکم بدہن ، غزہ کے بعد مکہ اور مدینہ زیادہ دور نہیں ہیں ۔ اللہ کریم ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین!
درست فرمایا۔
اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین!
ثم آمین!
 

محمداحمد

لائبریرین
غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز دردناک اور المناک مناظر اور خبروں کو میڈیا پر مسلسل شیئر کرنا فلسطین کے کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے !
ظہیر بھائی آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن اگر خبریں شئر نہ کی جائیں تو لوگ بالکل ہی سب کچھ بھول بھال کر اپنی دنیا میں لگ جاتے ہیں۔ چونکہ ہمارا اُن کا زمینی فاصلہ کافی ہے سو خبریں آتی رہیں تو لوگ با خبر رہتے ہیں ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔

ہماری حکومتیں کھیل اور تفریح کے نہ جانے کتنے ہی پروگرام کر رہی ہیں۔ اور عوام ان میں لگ جاتی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بھارت سب کے لئے

یہ عبارت ہم نے ایک اشتہاری بینر پر پڑی جو ایک پیدل پُل کی جالیوں پر آویزاں تھا۔ چونکہ ہم سفر میں تھے تو چند ثانیوں بعد ہی ہم اس اشتہار کے قریب پہنچ گئے اور اب پتہ چلا کہ یہ بھارت نہیں بلکہ بصارت تھا۔ اس سے ہمیں بصارت کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ یوں تو ہماری دور کی نظر اچھی ہے لیکن پڑھنے کی یا اندازہ لگانے کی جلدی میں ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں۔

بہر کیف یہ اشتہار ایک ایسے فلاحی ادارے کی طرف سے تھا جو غالباً مستحق لوگوں کو آنکھوں کا علاج مفت فراہم کرتا ہے۔ اور اس اشتہار میں عوام سے زکواۃ صدقات کی مد میں چندے کی اپیل کی گئی تھی۔ آج کل چونکہ رمضان ہیں سو رمضان میں تقریباً سبھی فلاحی ادارے عطیات کی اپیل کرتے ہیں اور دینے والے دیتے بھی ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ جس بھی فرد یا ادارے کو اپنے عطیات دیں اس کی بھرپور تحقیق کر لیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق لوگ اس سے مستفیض ہو سکیں۔
 

علی وقار

محفلین
غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز دردناک اور المناک مناظر اور خبروں کو میڈیا پر مسلسل شیئر کرنا فلسطین کے کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے !
آج کل سوشل میڈیا میں ہرطرف یہی خبریں نظر آتی ہیں ۔ کون ایسا شخص ہوگا کہ جو اس غمناک صورتحال سے باخبر نہیں۔لیکن جب ایسی غمناک تصاویر اور خبروں کو مسلسل دیکھا اور سنا جائے تو وہ خبر نہیں رہتیں ۔ روزمرہ زندگی کا ایک عام ساحصہ اور واقعہ بن جاتی ہیں۔ پھر ان کا وہ اثر باقی نہیں رہتا کہ جو مطلوب و مقصود تھا۔ یہ تو حقیقت ہے کہ زندگی ہر حال میں جاری و ساری رہتی ہے۔ حد یہ کہ کوئی عزیز از جان ہستی بھی رخصت ہوجائے تو اس کی جدائی اور غم میں زندگی نہیں رکتی۔
ایسے واقعات اور خبریں کہ جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے ان کا مسلسل سامنے آنا ہمارے اندر ایک بے عملی اور بے حسی کی سی کیفیت پیدا کردیتا ہے کہ جسے نفسیات کی اصطلاح میں Learned -helplessness کہتے ہیں۔ غزہ کےواقعات کی مسلسل رپورٹنگ یہی کیفیت یا رد عمل پیدا کررہی ہے۔ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ بحیثیت عوام ہم اس معاملے میں بے بس ہیں ۔ ہم عملی طور پر ان مظالم کو روک نہیں سکتے ۔ بس زبان سے مذمت کرسکتے ہیں اور دل میں برا جان سکتے ہیں ۔ زبان اور قلم سے مذمت کرنے کے سلسلے میں سب سے اہم کام فلسطین اور اسرائیل کی تاریخ کو اجاگر کرنا ، عوام الناس بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو اس سے آگاہی بخشنا ہے ۔ اسرائیل کی صیہونی حکومت مسلسل بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی منظور کردہ قرادادوں کی خلاف ورزی کرتی آرہی ہے۔ اس بات کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو صیہونی مظالم کے خلاف ہموار کرنا بہت اہم ضرورت ہے ۔
سو اس موقع پر ہمارے کرنے کے جو کام ہیں وہ یہ ہیں کہ غزہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی جس قدر ممکن ہو مالی امداد کی جائے ، ایسے امدادی کاموں اور پراجیکٹس کا جس شکل میں بھی ممکن ہو حسبِ مقدور حصہ بنا جائے ۔ ان مظلوموں کو دن رات اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے ۔ مسجد وں میں مسلسل قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیا جائے۔ دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اس نازک وقت میں مسلمان معصیت سے پرہیز کریں اور تقرب الیٰ اللہ کے ذرائع اختیار کریں ۔
سب سے اہم اور انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو صیہونیوں اور ان جیسےدیگر دشمنوں کے مقابلے کے لیے تیار کیا جائے ۔ یہ تیاری صرف نمازروزے اورمحض مسجد میں بیٹھنے سےحاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے قرآن کے حکم کے بموجب وہی ہتھیار تیار کرنے ہوں گے کہ جو دشمن کے پاس ہیں اور جن سے مقابلہ ہے یعنی ٹیکنالوجی اور سائنس۔ جب تک مسلمان قوم فروعات اور غیر اہم چیزوں پر سے توجہ ہٹا کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی سرتوڑ کوششیں نہیں کرے گی ہم یونہی مار کھاتے رہیں گے۔ سو وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی اور اپنے بچوں کی توجہ جدید تعلیم کے حصول اور ٹیکنالوجی کی ترقی و ترویج پر مرکوز کریں ۔ کسی بھی قوم کی بقا کا واحد راستہ اب یہی ہے ۔ ورنہ خاکم بدہن ، غزہ کے بعد مکہ اور مدینہ زیادہ دور نہیں ہیں ۔ اللہ کریم ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین!
بالکل درست فرمایا آپ نے ظہیر بھائی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ظہیر بھائی آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن اگر خبریں شئر نہ کی جائیں تو لوگ بالکل ہی سب کچھ بھول بھال کر اپنی دنیا میں لگ جاتے ہیں۔ چونکہ ہمارا اُن کا زمینی فاصلہ کافی ہے سو خبریں آتی رہیں تو لوگ با خبر رہتے ہیں ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔

ہماری حکومتیں کھیل اور تفریح کے نہ جانے کتنے ہی پروگرام کر رہی ہیں۔ اور عوام ان میں لگ جاتی ہے۔
خبر نہ دینا اصل میں ایجنڈا ہی اُن کا ہے جو میڈیا کو کنڑول کرتے ہیں ، لہذا خبر دیتے رہنا ضروری ہے۔
 

عمار نقوی

محفلین
مجھے لگتا ہے ظہیر بھائی کا مقصد یہ کے کہ جنگ کی خبریں تو دیتے رہنا چاہئے تاہم جزئیات کو شیئر کرنے سے پرہیز کیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں مسلسل دیکھ کر ہم بے حس ہو جائیں
 
Top