خوبصورت نظمیں

فرخ

محفلین
میں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہونگا
چڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُوتو اُتر جا۔

توڑا نہیں جادو مری تکبیر نے تیرا؟
ہے تجھ میں مُکر جانے کی جرات تومُکرجا۔
 

عمر سیف

محفلین
رتجگوں کے صحرا میں خواب جب اُجڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
زندگی کے میلے میں ہم اگر بچھڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
جن پر نام لکھے ہوں، اُن اُجاڑ شاخوں پر
کب بہار آئی ہے
آرزو کی ٹہنی سے جب گلاب جھڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
جان کیا ضروری ہے، رشتے نارسائی میں
اک دعا بھی پوری ہو
ہم اگر رواجوں کی سولیوں پہ گڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
وقت اک درندہ ہے اور ہم سبھی اس کی
دہشتوں کی زد میں ہیں
جب یہ بے سکوں لمحے اپنی ضد پہ اڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
جبر کی فضاؤں میں، مسکرا کے جی لینا
یہ بھی اک عبادت ہے
چاہے قرض کے سائے میرے قد سے بڑھہ جائیں
تم اُداس مت ہونا
-----------------------------
نذیر تبسّم
 

سارہ خان

محفلین
ضبط نے کہا:
کتنے برس لگے
یہ جاننے میں
کہ تیرا ہونا میرے لیے کیا ہے
ایسا ہونا بھی چاہئے تھا
شام ہوتے ہی
چاند میں روشنی نہیں آجاتی
رات ہوتے ہی
رات کی رانی مہک نہیں اُٹھتی
شام اور خوشبو کے بیچ
ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے
جس کا ہماری زمیں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اس آسمانی لمحے نے
اب ہمیں چھو لیا ہے ۔۔۔!!!

پروین شاکر

خوب ۔۔۔۔
 

سارہ خان

محفلین
کبھی تم کتابوں میں کُچلی ہوئی کوئی تتلی جو دیکھو


کبھی تم کتابوں میں کُچلی ہوئی کوئی تتلی جو دیکھو
تو یہ جان لینا
مجھے آسمان اور زمیں نے کُچل کر تمھاری کتابوں میں
تتلی کی صورت بقا بخش دی
کبھی پھول ٹوٹا ہوا کوئی پاؤ
تو یہ جان لینا
مجھے میرے اندر نے خود توڑکر تیرے قدموں میں نقشِ وفا کر دیا ہے

کبھی کوئی ساگر اُمنڈتا جو دیکھو
تو یہ جان لینا
یہ میرے آنسو ہیں جو اب سمندر میں طوفاں بنے ہیں
کبھی پھول، تتلی، سمندر، کنارے
گزرتے ہوئے تیز قدموں کو تھامیں
تو یہ جان لینا
یہ میں ہوں جو تھک کر یہاں آ گیا ہوں
ہمارے لئے ایسے دن بھی لکھے تھے
کہ جن میں اَنا نے فنا کے سفر میں
کئی درد جھیلے
کئی روپ دھارے
کبھی پھول، تتلی سمندر کنارے
کبھی رنگ، خوشبو، اُجالا، ستارے

طارق عزیز
 

عمر سیف

محفلین
سارہ خان نے کہا:
ضبط نے کہا:
کتنے برس لگے
یہ جاننے میں
کہ تیرا ہونا میرے لیے کیا ہے
ایسا ہونا بھی چاہئے تھا
شام ہوتے ہی
چاند میں روشنی نہیں آجاتی
رات ہوتے ہی
رات کی رانی مہک نہیں اُٹھتی
شام اور خوشبو کے بیچ
ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے
جس کا ہماری زمیں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اس آسمانی لمحے نے
اب ہمیں چھو لیا ہے ۔۔۔!!!

پروین شاکر

خوب ۔۔۔۔

شکریہ
 

عمر سیف

محفلین
محبت جب لہو بن کر
رگوں میں سرسرائے تو
کوئی بھولا ہوا چہرہ، اچانک یاد آئے تو
قدم مشکل سے اُٹھتے ہوں
ارادہ ڈھمگائے تو، کوئی مدھم سے لہجے میں
تمھیں واپس بلائے تو، ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے

کبھی تنہائیوں کا درد آنکھوں میں سمائے تو
کوئی لمحہ گزشتہ چاہوتوں کا
جب ستائے تو، کسی کی یاد میں رونا تمھیں بھی خون رُلائے تو
اگر تمھارا دل تم سے، کسی دم روٹھ جائے تو
کبھی آنہونیوں کا ڈر پرندوں کو اُڑائے تو
ہوا جب پیڑ سے، زرد سا پتّہ گِرائے تو
ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے ۔۔۔
 

حجاب

محفلین
ایک خط۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

چمن زاروں سے کہنا
دل نے ایسے زخم کھائے ہیں
وہ صدمے آزمائے ہیں
کہ سخن ہوا میں وحشتِ تازگی ہے
اور نہ اندھی آنکھ خوابوں کو ترستی ہے
چمن زاروں سے کہنا
تم نے وہ باتیں بُھلا دی تھیں
تو اب کیوں دل کو خانوں میں مقیّد کر رہے ہو
جانتے ہو
ہم تو ذوق قیدِ ہستی کے پرانے خوشہ چیں ہیں
جانتے ہو
ہم نے صدیوں کی گراں خوابی کو خود اپنا مقدر کر لیا تھا
جانتے ہو وحشتِ افتادگی کی لذّت کیا ہے
اور لذّت تو زخموں کے عقب سے آنے والی
اس حرارت کو کہا کرتے ہیں
جو صدیوں کو کندن کر دیا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
خالد شریف ۔
 

سارہ خان

محفلین
ضبط نے کہا:
محبت جب لہو بن کر
رگوں میں سرسرائے تو
کوئی بھولا ہوا چہرہ، اچانک یاد آئے تو
قدم مشکل سے اُٹھتے ہوں
ارادہ ڈھمگائے تو، کوئی مدھم سے لہجے میں
تمھیں واپس بلائے تو، ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے

کبھی تنہائیوں کا درد آنکھوں میں سمائے تو
کوئی لمحہ گزشتہ چاہوتوں کا
جب ستائے تو، کسی کی یاد میں رونا تمھیں بھی خون رُلائے تو
اگر تمھارا دل تم سے، کسی دم روٹھ جائے تو
کبھی آنہونیوں کا ڈر پرندوں کو اُڑائے تو
ہوا جب پیڑ سے، زرد سا پتّہ گِرائے تو
ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے ۔۔۔
35.gif
 

عمر سیف

محفلین
سارہ خان نے کہا:
ضبط نے کہا:
محبت جب لہو بن کر
رگوں میں سرسرائے تو
کوئی بھولا ہوا چہرہ، اچانک یاد آئے تو
قدم مشکل سے اُٹھتے ہوں
ارادہ ڈھمگائے تو، کوئی مدھم سے لہجے میں
تمھیں واپس بلائے تو، ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے

کبھی تنہائیوں کا درد آنکھوں میں سمائے تو
کوئی لمحہ گزشتہ چاہوتوں کا
جب ستائے تو، کسی کی یاد میں رونا تمھیں بھی خون رُلائے تو
اگر تمھارا دل تم سے، کسی دم روٹھ جائے تو
کبھی آنہونیوں کا ڈر پرندوں کو اُڑائے تو
ہوا جب پیڑ سے، زرد سا پتّہ گِرائے تو
ٹھہر جانا، سمجھ لینا
کہ اب واپس پلٹنے کا سفر آغاز ہوتا ہے ۔۔۔
35.gif

شکریہ سارہ۔
 

عمر سیف

محفلین
[align=right:e1090209de]“آج پھر شام ڈھلے ۔۔۔۔ “
پھر وہی درد ساجاگا ہے رگوں میں میری
پھر وہی آہ سی نکلی ہے سینے سے
پھر وہی خواب سے ٹوٹے ہیں میری آنکھوں میں
پھر وہی درد کی تلخی ہے مری باتوں میں
پھر وہی اشک سے ٹھہرے ہیں میری پلکوں پہ
پھر وہی رات سی جیون میں اتر آئی ہے
پھر وہی آخری منظر ہے میری نظروں میں

آج پھر شام ڈھلے
“تم مجھے یاد آئے ہو“[/align:e1090209de]
 

عمر سیف

محفلین
[align=right:f2a7f0b263]جو تم نے ٹھان ہی لی ہے
ہمارے دل سے نکلو گے
تو اتنا جان لو پیارے
سمندر سامنے ہوگا
اگر ساحل سے نکلو گے
ستارے جن کی آنکھوں نے
ہمیں اِک ساتھ دیکھا تھا،
گواہی دینے آئیں گے
پُرانے کاغذوں کی بالکنی سے
بہت سے لفظ جھانکیں گے
تمھیں واپس بُلائیں گے
کئی وعدے
فسادی قرض خواہوں کی طرح
رستے میں روکیں گے
تمھیں دامن سے پکڑیں گے
تمھاری جان کھائیں گے
چُھپا کر کس طرح چہرہ
بھری محفل سے نکلو گے
ذرا پھر سوچ لو جاناں ۔۔۔
نکل تو جاؤ گے شاید
مگر مشکل سے نکلو گے
جو تم نے ٹھان ہی لی ہے
ہمارے دل سے نکلو گے
ذرا پھر سوچ لو جاناں !
نکل تو جاؤ گے شاید
مگر مشکل سے نکلو گے ۔۔۔
[/align:f2a7f0b263]
 

عمر سیف

محفلین
خواب اور خوشبو
دونوں ہی آزاد ہے
دونوں قید نہیں کئے جاسکتے
میرے خواب، تمھاری خوشبو ۔۔۔
 

سارہ خان

محفلین
روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے
زندگی کے رستے میں ۔ ۔ بچھنے والے کانٹوں کو
راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں
خوشبوئیں پکڑنے میں ۔ ۔ گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ھیں
عمر کاٹ دیتے ھیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ھیں
کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ھیں
درگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ھیں
صبر کے سمندر میں ۔ ۔ کشتیاں چلاتے ھیں


یہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی خواہش کا
کچھ صلہ نہیں ملتا
مرنے والی آسوں کا ۔ ۔ خون بہا نہیں ملتا


زندگی کے دامن میں ۔ ۔ جس قدر بھی خوشیاں ھیں
سب ھی ھاتھ آتی ھیں
سب ھی مل بھی جاتی ھیں
وقت پر نہیں ملتیں ۔ ۔ وقت پر نہیں آتیں


یعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ھے
لیکن اس طرح جیسے
قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے
اصل جو عبارت ھو ۔ ۔ پسِ نوشت ھو جائے

فصلِ گُل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ھیں
ان کے صحنوں میں سورج ۔ ۔ دیر سے نکلتے ھیں


(امجد اسلام امجد)
 

عیشل

محفلین
ہم خوابوں کے بیوپاری تھے
پر اس میں ہوا نقصان بڑا
کچھ اب کے غضب کا کال پڑا
کچھ راکھ لیئے جھولی میں
اور سر پہ ساہوکار کھڑا
جب دھرتی صحرا صحرا تھی
ہم دریا دریا روئے تھے
جب ہاتھ کی ریکھائیں چپ تھیں
اور سر سنگیت میں کھوئے تھے
تب ہم نے جیون کھیتی میں
کچھ خواب انوکھے بوئے تھے
کچھ خواب سجل مسکانوں کے
کچھ بول بہت دیوانوں کے
کچھ لفظ جنہیں معافی نہ ملے
کچھ گیت شکستہ جانوں کے
کچھ پر پاگل پروانوں کے!!!!
 
Top