فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. مشتاق احمد فاروقی

    مشتاق احمد فاروقی محفلین

    مراسلے:
    2
    السلام علیکم
    میرے پاس مولوی احمد حسن اختر کی ایک نایاب قوالی ہے۔
    دل و جاں فدائے تو،

    اس قوالی کے شروع میں کسی اور کلام کو پڑھا ہے۔ کیا یہاں ہر کوئی اسکا ترجمہ کر سکتا ہے؟

    شروع کا کلام اور قوالی کا گرہ بندی کے علاوہ
     
  2. مشتاق احمد فاروقی

    مشتاق احمد فاروقی محفلین

    مراسلے:
    2
    قوالی آڈیو میں ہے
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,830
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تسکیں نہ یافتیم پس از مرگ زیر خاک
    آخر غبار گشتہ بہ کوئے تو آمدیم
    میر
    ترجمہ
    تسکیں ملی نہ ہم کو پس از مرگ زیرِ خاک
    آخر غبار بن، ترے کوچے میں آ گئے
    فرخ منظور
     
    آخری تدوین: ‏مئی 15, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,034
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ایسا لگتا ہے یافتیم ہونا چاہیئے شاید معنی اور وزن دونوں کے لحاظ سے۔ فرخ بھائی ذرا ری چیک کیجیئے گا ۔ کمال کا شعر ہے ویسے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,830
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عاطف بھائی ایک دوست کی فیس بک وال سے فارسی شعر کاپی کیا ہے۔ عین ممکن ہے آپ بالکل درست فرما رہے ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,045
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خلقے ہمہ را چشمِ حسد بر گُلِ وصل است
    خارے کہ بوَد بر جگرِ مرد چہ دانند


    اہلی شیرازی

    تمام لوگوں کی حاسد نظریں صرف وصل کے پُھول پر لگی ہوتی ہیں، لیکن وہ کانٹا کہ جو عاشق کے جگر میں ہوتا ہے اُس کے بارے میں وہ کیا جانیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  7. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نامِ شتر به ترکی چه بود؟ بگو دوا
    نامِ بچه‌ش چه باشد؟ او خود پی‌اش دوا
    (مولوی رومی)

    شتر(اونٹ) کو ترکی میں کیا کہا جاتا ہے؟ بولو دوا (معاصر استانبولی ترکی میں اس کا تلفظ deve ہے جبکہ آذربائیجانی ترکی میں dəvə ہے)۔اس (اونٹ) کے بچے کا کیا نام ہے؟ وہ خود اس (اونٹ) کے پیچھے دوڑتا ہے(یعنے اس کا نام بھی وہی دوا ہی ہے)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,595
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    تو سایہ دشمنی کجا در گنجی
    جائے کہ خیالِ دوست زحمت باشد
    تم دشمن کا سایہ ہو تم کہاں سماو گے؟ اس جگہ جہاں خیال دوست تک زحمت ہوتا ہے؟
    اگر آپ کو یہ شعر کہنے والے شاعر کا نام معلوم ہو تو براہ کرم مطلع کیجیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. لاريب اخلاص

    لاريب اخلاص محفلین

    مراسلے:
    12,862
    بہت خوب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مثنوی معنوی میں مولوی رومیِ بلخی ایک قصہ بیان کرتے ہیں:۔

    آن یکی نحوی به کشتی در نشست
    رو به کشتی‌بان نهاد آن خودپرست
    گفت هیچ از نحو خواندی گفت لا
    گفت نیمِ عمر تو شد در فنا
    دل‌شکسته گشت کشتیبان ز تاب
    لیک آن دم کرد خامش از جواب
    باد کشتی را به گردابی فکند
    گفت کشتی‌بان بدان نحوی بلند
    هیچ دانی آشنا کردن بگو
    گفت نی ای خوش‌جوابِ خوب‌رو
    گفت کلِ عمرت ای نحوی فناست
    زانک کشتی غرقِ این گرداب‌هاست

    (مولوی رومی)

    ایک نحوی کشتی میں سوار ہوا۔اُس متکبر نحوی نے ملاح کا رخ کیا۔(اور) پوچھا کہ کیا تو نے (علمِ) نحو خوانا(پڑھا) ہے؟ اُس ملاح نے کہا کہ نہیں۔نحوی بولا کہ تیری آدھی عمر برباد ہوگئی۔رنج کی وجہ سے ملاح دل شکستہ ہوا لیکن اس وقت جواب سے خاموش رہا۔ہوا نے کشتی کو گرداب میں ڈال دیا۔ملاح نے اس نحوی سے بآوازِ بلند پوچھا کہ کیا تجھے کچھ تیراکی آتی ہے؟ نحوی بولا کہ نہیں اے خوب رُو خوش سخن!۔وہ ملاح بولا کہ اے نحوی! تیری پوری عمر برباد ہوگئی ہے کیونکہ کشتی ان گردابوں میں غرق ہونے والی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 8, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    از زلزله و عشق خبر کس ندهد
    آن لحظه خبر شوی که ویران شده‌ای
    (شفيعی كدكنی)

    زلزلہ اور عشق کے بارے میں(پہلے سے) کوئی خبر نہیں دیتا. تمہیں (ان دو چیزوں کے بارے میں) خبر اس وقت ملتی ہے جب تم ویران ہوگئے ہوتے ہو.
     
    آخری تدوین: ‏مئی 12, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    استاد رازق فانی کی ایک فوق العادہ نظم:

    همه کار و بار یک‌سو ،غمِ زلفِ یار یک‌سو
    کشدش صبا به‌ یک‌سو ، زندش نگار یک‌سو

    سارے کاروبار ایک طرف، (اور) زلفِ یار کا غم ایک طرف۔اس (زلفِ یار) کو بادِ صبا ایک طرف کھینچتی ہے (جبکہ) معشوق (یار) اس کو ایک طرف پھیرتا ہے۔

    به شبِ فراقِ جانان، تو بساطِ عیشِ ما بین!
    مَیِ نابِ اشک یک‌سو ، گلِ انتظار یک‌سو

    جانان سے جدائی کی رات میں تو ہمارا بساطِ عیش دیکھ! اشکوں کا خالص شراب ایک طرف، انتظار کا گُل ایک طرف

    به گذرگهِ خیالت ، شب و روز می‌نشینند
    نگهِ خموش یک‌سو ،دلِ بی‌قرار یک‌سو

    تیرے خیال کی گذرگاہ میں نگاہِ خاموش ایک طرف، بے قرار دل ایک طرف شب و روز بیٹھتے ہیں۔

    نتوان به فصلِ مستی ، ز شرابِ دل بریدن
    هوسِ گناه یک‌سو ، نفسِ بهار یک‌سو

    مستی کے موسم میں شرابِ دل سے دور نہیں ہوا جاسکتا۔گناہ کی ہوس ایک طرف، بہار کی سانس ایک طرف۔

    پَیِ صیدِ آهویِ دل ، دو بلا کمین گرفته
    نگهش نهان ز یک‌سو ، مژه آشکار یک‌سو

    دل کے آہو (ہرن) کے شکار کے لئے دو بلائیں گھات میں بیٹھی ہیں:۔ اس (یار) کی نگاہ ایک طرف چُھپی ہوئی ہے، (جبکہ) پلک ایک طرف ظاہر ہے۔

    به بساطِ شوقِ «فانی » دوحریفِ سخت‌جان بین!
    منِ دل شکسته یک‌سو ، غمِ کهنه کار یکسو

    «فانی» کے بساطِ شوق میں دو سخت جان دشمنوں کو دیکھ! میں دل شکستہ ایک طرف، باتجربہ غم ایک طرف
    (استاد رازق «فانی»)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,045
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خاطرِ بے آرزو از رنجِ یار آسودہ است
    خارِ خشک از منتِ ابرِ بہار آسودہ است


    رھی معیری

    جس دل میں کوئی آرزو نہ ہو وہ دل رنجِ یار سے فارغ اور آسودہ ہوتا ہے، جیسے کہ خشک کانٹا بہار کے بادل کے احسانوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  14. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    افغانستان کے ایک نوزائیدہ بچوں کے شفاخانے میں حالیہ پُرتاسف حملے کی مناسبت سے تاجیکستانی شاعر لائق شیر علی کا ایک برمحل شعر:
    درونِ سینه‌ی تنگم دلِ صدپاره می‌گرید
    میانِ خانه‌ی بی‌کودکم گهواره می‌گرید
    (لایق شیرعلی)

    میرے تنگ سینہ میں سو ٹکڑے ہوا دل روتا ہے. میرے بغیر بچوں والے گھر کے درمیان جھولا روتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,045
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    نقوش میر نمبر میں میر کا فارسی دیوان موجود ہے۔ اس میں مذکورہ شعر کا عکس ملاحظہ کیجیے۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جسمِ خاکی مانعِ عمرِ سَبُک‌رفتار نیست
    پیشِ این سیلاب کَی دیوار می‌ماند بجا؟
    (صا‌ئب تبریزی)

    خاکی بدن زودگذر عمر کی راہ میں مانع نہیں ہے۔اس سیلاب کے آگے دیوار کب باقی رہتی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ظالمان را مهلت از مظلوم چرخ افزون دهد
    بیش‌تر از مور اینجا مار می‌ماند بجا
    (صائب تبریزی)

    چرخِ فلک مظلوم سے زیادہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے۔چیونٹی سے زیادہ سانپ یہاں (دنیا میں) باقی رہتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    من از وَرَع می و مطرب ندیدمی زین پیش
    هوایِ مغ‌بچگانم در این و آن انداخت
    (حافظ شیرازی)

    پرہیزگاری کی وجہ سے میں اس سے پہلے شراب اور مطرب کو کبھی نہ دیکھتا۔ مغ‌بچوں کی خواہش نے مجھے اِس (شراب) اور اُس (مطرب) میں مبتلا کردیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,045
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    دوست بر ما نگراں از سرِ شفقت بگذشت
    خاک بُودیم ز فیضِ نظر اکسیر شدیم

    نظیری نیشاپوری

    دوست ہم پر شفقت کی نظر ڈالتا ہوا گذرا، ہم خاک تھے لیکن اس فیضِ نظر سے اکسیر ہو گئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  20. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    936
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    معاصر افغانستانی شاعر نجیب بارور کی ایک زیبا غزل ترجمے کے ساتھ:

    با وجودِ آن‌که لطفِ باغبان بسیار بود
    سرنوشتِ هرچه گُل دیدم کنارِ خار بود

    اس کے باوجود کہ باغبان کا لطف اور مہربانی بہت تھی، جتنے بھی پھول میں نے دیکھے، وہ کانٹے کے ہمراہ تھے۔
    آن‌که را دشمن تلقی کرده بودم، دوست شد
    وانکه دشمن شد به قصد جانِ من، دلدار بود

    جس کو میں دشمن سمجھتا تھا، وہ دوست ہوگیا۔اور جو میری جان کے ارادے کے لئے دشمن بن گیا، وہ دلدار تھا۔
    پایِ عشقش مانده بودم تا همین اکنون ولی
    حال می‌دانم که عاشق‌پیشه نه، غدار بود

    میں نے ابھی اِس وقت تک اس کے عشق کا (قدم رکھنے کے لئے) پاوٗں رکھا تھا، لیکن اب میں جانتا ہوں وہ عاشق پیشہ نہیں غدار تھا۔
    راحتم از رفتنش، بیزارم از عشق و جنون
    او که رویِ شانه‌هایِ خسته‌یِ من بار بود

    وہ کہ جو میرے خستہ کندھوں پر ایک بوجھ تھا، اس کے جانے سے میں آرام و راحت میں ہوں، عشق و جنون سے میں بےزار ہوں۔
    درکِ او از عشقِ من مثلِ خودش ناچیز بود
    بینِ احساسات من با عشقِ او دیوار بود

    میرے عشق کے بارے میں اس کا ادراک خود اس کی مانند بےقدر اور بےارزش تھا۔اس کے عشق اور میرے احساسات کے درمیان دیوار تھی۔
    اعتمادش مثلِ قولِ بی‌ثباتش سست بود
    آنکه می‌گفت از خیانت، خود خیانت‌کار بود

    اس کا اعتماد اس کے ناپائیدار و نامحکم قول اور وعدے کی مانند بےاساس اور سست تھا۔ وہ جو (اوروں کی) خیانت کے بارے میں بولتا تھا، خود خیانتکار تھا۔
    از زلیخایی مگو دیگر که در سودایِ عشق
    یوسفِ احساسِ شاعر غیرتِ بازار بود

    کسی زلیخا کے بارے میں مزید مت بولو کہ (وہ وقت گزر گیا جب) عشق کے سودے میں شاعر کے احساس کا یُوسُف (یعنے حسن اور زیبائی) بازار (یعنے لوگوں) کے لئے مایہٗ رشک تھا (یعنے لوگوں کو رشک میں مبتلا کردیتا تھا)۔
    کاش می‌شد هرچه بود و هست را بیرون کشید
    از دلی که از نخستین روز یک آوار بود

    کاش جو کچھ بھی موجود تھا اور موجود ہے، اس کو اُس دل سے باہر نکالا جاسکے، جو اولیں روز سے ہی ویرانہ تھا۔
    (نجیب بارور)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر