'بستود' کا مطلب بتا دیجئے پلیز۔ ۔ ۔ ۔اگر یہ ایستادہ ہونے کے معنے میں استعمال ہوا ہے تو مصرع کی کچھ سمجھ نہیں آئی
ٰ

سلام علیکم
بستود کا مطلب، "سَراہا" یا "تعریف کی" ہے۔ یہ فعل، "ستودن" سے آیا ہے، جس کا مطلب سراہنا یا تعریف کرنا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم


(مولانا رومی)

میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
قلندر مَیلِ تقریرے نَدارَد
بجز ایں نکتہ اکسیرے ندارَد
از آں کشتِ خرابے، حاصلے نیست
کہ آب از خونِ شبّیرے ندارَد


(علامہ اقبال، ارمغانِ حجاز)

اس قلندر کو تقریریں کرنے کی کوئی حاجت و خواہش نہیں ہے، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ جو اکسیری نکتہ میرے پاس ہے کہ اس بنجر و ویران (اسلام کی) زمین سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں کہ جب تک اس کی آبیاری خونِ شبیر (ع) سے نہ کی جائے۔
 

مغزل

محفلین
مجلس تمام گشت و به پایاں رسید عمر
ما همچناں در اول وصفِ تو ماندهایم
( شیخ سعدی)
وارث صاحب، زحمت نہ ہوتو، مذکورہ شعر کا ترجمہ درکار ہے ، اور صحت بھی کہ مجھے یہ سعد ی کے نام سے ہی سننے کو ملا
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ محمود صاحب یاد آوری کیلیے، یہ شعر پہلے میری نظر سے نہیں گزرا، اور جو اعراب کا آپ نے کہا تھا تو میرے خیال میں اول اضافت کے ساتھ ہے یعنی

مجلس تمام گشت و به پایاں رسید عمر
ما همچناں در اوّلِ وصفِ تو ماندهایم

ترجمہ تو کوئی فارسی دان ہی کر سکتے ہیں :) مجھے جو کچھ سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ مجلس تمام ہو گئی اور عمر بھی اختتام کو پہنچی لیکن ہم ابھی تک تیرے پہلے وصف (کی ثنا) میں ہی اٹکے ہوئے ہیں۔
 

مغزل

محفلین
ایک اور شعر اسی کلام سے :؛
ای برتر از خیال و قیاس و گمان و وهم
وز هر چه گفته اند و شنیدیم و خوانده ایم
( سعدی)
ترجمہ:---------- (پلیز)
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ حمدیہ غزل لگ رہی ہے مغل صاحب

اے برتر از خیال و قیاس و گمان و وهم
وز هر چه گفته اند و شنیدیم و خوانده ایم

اے (تو کہ جو ہر) خیال و قیاس و گمان و وہم سے بر تر ہے اور ہر اس چیز سے بھی جو ہم نے کہی یا سنی یا پڑھی۔
 

مغزل

محفلین
یہ حمدیہ غزل لگ رہی ہے مغل صاحب

اے برتر از خیال و قیاس و گمان و وهم
وز هر چه گفته اند و شنیدیم و خوانده ایم

اے (تو کہ جو ہر) خیال و قیاس و گمان و وہم سے بر تر ہے اور ہر اس چیز سے بھی جو ہم نے کہی یا سنی یا پڑھی۔



بہت شکریہ وارث صاحب، یقیناً حمدیہ کلام ہی ہوگا، یوں بھی سعدی کے ہاں مجاز کے پردے میں حقیقی کا رنگ بھی بزرگوں سے سنتے آئے تھے ۔ زحمت کے لیےا یک بار پھر معذرت خواں، ترجمے کے لیے سراپا تشکر
 
فارسی کے جدید شعرا میں ایک جوان شاعر ہیں، جو اپنی عمر کی تیسری دہائی کے دوسرے نصف میں ہیں۔ ان کے تین مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ اور تینوں صرف غزلوں پر مشتمل ہیں۔
بہت عمدہ غزلیں ہیں ان کی، اور آجکل کافی مقبول ہیں۔ ان کا نام فاضل نظری ہے۔ یہاں ان کی ایک غزل میں سے دو شعر نمونے کے طور پہ پیش کرتا ہوں۔

ہم دعا کن گرہ از کار تو بگشاید عشق
ہم دعا کن گرہِ تازہ نیفزاید عشق


دعا کرو کہ عشق تمہاری مشکل حل کردے
یہ دعا بھی کرہ کہ عشق تمہاری مشکلوں میں اضافہ نہ کردے

شمع روشن شد و پروانہ در آتش گل کرد
می توان سوخت اگر امر بفرماید عشق


شمع جب روشن ہوئی تو تتلی اس میں جل گئی
ہاں، اگر عشق نے حکم دیا تو جلنا بھی ممکن ہے
 

مغزل

محفلین
تفاوت است میان شنیدن من و تو
تو بستن در و من فتح باب می شنوم

( شعر کے خالق کانام نہ مل سکا، روایت ہے کہ سرداعبد الرب نشتر سے یہ شعر منقول ہے)

ترجمہ :: ’’ تیرے اور میرے ( درمیان) سننے میں فرق ہے کہ، تو جسے دروازہ بند ہونے کی آواز سنتا ہے ( کہتا ہے) میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنتا ہوں ‘‘
 

محمد وارث

لائبریرین
مولانا شبلی نعمانی، 'شعر العجم' میں میرزا صائب تبریزی کے احوال میں، سرخوش کے تذکرہ 'کلمات الشعراء' کے حوالے سے لکھتے ہیں:

"ایک دفعہ راہ میں چلا جا رہا تھا، ایک کتے کو بیٹھا ہوا دیکھا، چونکہ کتا جب بیٹھتا ہے تو گردن اونچی کر کے بیٹھتا ہے، فوراً یہ مضمون خیال میں آیا

شوَد ز گوشہ نشینی فزوں رعونتِ نفس
سگِ نشستہ ز استادہ، سرفراز ترست"

ترجمے کی جسارت خاکسار کر رہا ہے

گوشہ نشینی سے رعونتِ نفس اور بھی بڑھ گئی کہ بیٹھے ہوئے کتے کا سر کھڑے ہوئے کتے سے بھی بلند ہوتا ہے۔ 'سرفراز' کا لفظ عجب لطف دے رہا ہے شعر میں۔

 
Top