محمد وارث

لائبریرین
فرزانہ بگفتارم، دیوانہ بہ کردارَم
از بادۂ شوقِ تو، ہشیارم و مستم من

(اقبال)

گفتار میں، میں عقل مند ہوں اور کردار میں دیوانہ، تیرے عشق کی شراب سے میں ہوشیار بھی ہوں اور مست بھی۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
نمی یابم تو را در دل، نہ در عالم، نہ در گیتی
کُجا جویم تو را آخر، منِ حیراں؟ نمی دانم

فخرالدین عراقی

نہ تُو دل میں ملتا ہے نہ جہان و کائنات میں، میں حیران بیچارہ، آخر تجھے کہاں ڈھونڈوں، نہیں جانتا۔
 
حیات است در آتشِ خود تپیدن
خوش آں دم کہ ایں نکتہ را بازیابی

زندگی دراصل اپنی آگ میں (جذبہ و جدوجہد کی آگ) میں جلنے کا نام ہے ، مبارک ہو گا وہ وقت جب تو اس نکتے کو سمجھ لے گا ۔ (اقبال )
 

محمد وارث

لائبریرین
بجز غم خوردنِ عشقَت، غمے دیگر نمی دانم
کہ شادی در ہمہ عالم ازیں خوشتر نمی دانم


(شیخ فریدالدین عطار نیشاپوری)

تیرے عشق کے غم کے سوا مجھے کوئی اور غم نہیں ہے اور سارے جہان میں اس سے بہتر میں خوشی کی کوئی اور بات نہیں جانتا (کہ فقط تیرا غم ہے)۔
 
دل در سخنِ محمدی بند
اے پورِ علی ز بو علی چند

چوں دیدہ ء راہ بیں نداری
قاید قرشی بہ از بخاری

اے اولاد علی ( خلیفہ راشد حضرت علي رضي اللہ عنہ ) تو کب تک بوعلی (سینا) کے فلسفے سے چمٹا رہے گا ؟ تو اپنا دل سخن محمدی ۔۔۔۔ حدیث رسول ۔۔۔۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لگا ۔
چونکہ تیرے پاس راستہ پہچاننے والی آنکھ نہیں ، اس لیے کسی بخاري( بوعلی سینا) کوراہبر بنانے سے بہتر ہے کہ قریشی ( صلى اللہ عليہ وسلم ) کو راہنما بنا ۔

فارسی شاعرافضل الدین خاقانی کی مثنوی تحفہ العراقین کے ان اشعار کو اقبال نے اپنی نظم ’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام ‘ کے آخر میں شامل کیا ہے ۔
 
بجز غم خوردنِ عشقَت، غمے دیگر نمی دانم
کہ شادی در ہمہ عالم ازیں خوشتر نمی دانم


(شیخ فریدالدین عطار نیشاپوری)

تیرے عشق کے غم کے سوا مجھے کوئی اور غم نہیں ہے اور سارے جہان میں اس سے بہتر میں خوشی کی کوئی اور بات نہیں جانتا (کہ فقط تیرا غم ہے)۔

لغوی اور فنی زاویے سے تو اہل علم جانیں ، مگر یہ شعر معنوی لحاظ سے مجھےبہت ہی عمدہ لگا ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ہمی دانم کہ روز و شب جہاں روشن بہ روئے تُست
ولیکن آفتابے یا مہِ تاباں؟ نمی دانم

(فخر الدین عراقی)

میں یہ تو ضرور جانتا ہوں کہ دنیا کے روز و شب تیرے ہی چہرے (کی روشنی) سے روشن ہیں، لیکن تو آفتاب ہے یا چمکدار چاند یہ نہیں جانتا۔
 

یونس عارف

محفلین
نواے من از آن پر سوز و بیباک و غم انگیز است
بخاشاکم شرر افتاد و باد صبحدم تیز است​

علامہ اقبال ،زبور عجم



میری شاعری سوز غم سے بھری ہوئی ،بےخوف اور ابھارنے والی ہے
کیونکہ میرے حسن وخاشاک میں چنکاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے اور اس تیز ہوا سے آگ
بھڑک اٹھےگی۔
 

کاشفی

محفلین
کریما بہ بخشائے بر حالِ ما
کہ ہستیم اسیرِ کمندِ ہوا

اے کریم (اللہ) ہمارے حال (پر کرم کر) بخش دے، کہ ہم تو حرص و ہوا اور خود غرضی کی ڈوریوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
(شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ)
 
میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
تو خود حجابِ خودی حافظ از میاں بر خیز


(حافظ شیرازی)


عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے اے حافظ تو خود اپنے لیے اپنا پردہ ہے سو درمیان سے اٹھ جا۔

وارث صاحب السلام علیکم
آداب عرض ہے جناب لکھنو والے ساتھ فرشی سلام عرض کرنے کے بعد عرض خدمت ہے کہ حافظ کے اس شعر کو ہم نے کچھ اسطرح پڑھا ہے یا اسطرح جانتے ہیں
تو خود حجاب خودی حافظ از میان برخیز
خوشا کسے کہ در ایں راہ بے حجاب رود
جواب کا منتظر رہیں گے
 

محمد وارث

لائبریرین
وارث صاحب السلام علیکم
حافظ کے اس شعر کو ہم نے کچھ اسطرح پڑھا ہے یا اسطرح جانتے ہیں
تو خود حجاب خودی حافظ از میان برخیز
خوشا کسے کہ در ایں راہ بے حجاب رود
جواب کا منتظر رہیں گے

وعلیکم السلام
حافظ کے تخلص ولا مصرع حافظ کی دو غزلوں میں دو مختلف مصرعوں کے ساتھ آیا ہے، ایک غزل سے میں نے لکھا تھا دوسری سےآپ نے لکھ دیا۔
 
میان عاشق و معشوق رمزیست
کراما کاتبیں را ہم خبر نیست

ترجمہ:
عاشق اور معشوق کے درمیان ایک ایسا (قلبی) تعلق ہوتا ہے جس کی کراما کاتبین کو بھی خبر نہیں ہوتی ۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
حسن ز بصرہ، بلال از حبَش، صہیب از روم
ز خاکِ مکہ ابوجہل، ایں چہ بوالعجبیست؟


(حافظ شیرازی)

بصرہ کی خاک سے حسن بصری (رض)، افریقہ سے بلال حبشی (رض) اور روم سے صہیب رومی (رض) جیسے عظیم صحابی اور تابعی پیدا ہوئے اور شہروں کے شہر مکہ کی خاک سے ابوجہل، یہ کیا بوالعجبی ہے مولا؟
 

محمد وارث

لائبریرین
یادِ رخسارِ ترا در دل نہاں داریم ما
در دلِ دوزخ، بہشتِ جاوداں داریم ما

(صائب تبریزی)

تیرے رخسار کی یاد دل میں چھپائے ہوئے ہیں یعنی دوزخ جیسے دل میں ایک دائمی بہشت بسائے ہوئے ہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ہم کعبہ و ہم بُت کدہ سنگِ رہِ ما بُود
رفتیم و صنم بر سرِ محراب شکستیم

(ملک الشعراء ابوالفیض فیضی)

کعبہ بھی اور بُت کدہ بھی، دونوں ہی ہماری راہ کے پتھر تھے، (لیکن) ہم ان دونوں سے گزر گئے اور صنم (بُت) کو محراب پر مار کر (دونوں کو) توڑ دیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
لبم خموش ز آوازِ مدّعا طلبیست
کہ مدّعا طلَبیدَن ز یار بے ادبیست


میرے لب خاموش ہیں کہ مدعا طلب کرنے کی آواز نہ نکلے کیونکہ یار سے مدعا طلب کرنا بے ادبی ہے۔

بہ یک کرشمۂ چشمِ فسونگرِ تو شوَد
یکے ہلاک، یکے زندہ، ایں چہ بوالعجبیست


تیری فسوں گر چشم کے ایک ہی کرشمے سے، ایک ہلاک ہو گیا اور ایک زندہ، یہ کیا بوالعجبی ہے۔

برَد دل از ھمہ کس نظمِ اُو کہ ھاتف را
ملاحتِ عجمی و فصاحتِ عرَبیست


ھاتف کے کلام نے ہر کسی کا دل چھین لیا کہ (اسکے کلام میں) عجم (فارسی) کی ملاحت اور عربی فصاحت ہے۔

(ھاتف اصفہانی)
 

محمد وارث

لائبریرین
شاہ بازِ فضائے لاہوتم
مستِ صہبائے مرتضیٰ ھستم


(شیخ شرف الدین پانی پتی معروف بہ بوعلی قلندر)

میں لاہوتی فضا کا شہباز ہوں (ّکیونکہ) صہبائے (بادۂ) مرتضیٰ (ع) کا مست ہوں۔
 
Top