شفیق خلش ::::::خواہش حصُولِ یار کا اِک زِینہ ہی تو ہے::::::Shafiq -Khalish

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 9, 2019

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    [​IMG]
    غزل
    خواہش،حصُولِ یار کا اِک زِینہ ہی تو ہے
    سُود و زیاں کا زِیست میں تخمینہ ہی تو ہے

    حاصل ہو حُسنِ نسواں کو جس سے غضب وقار
    ملبُوس سردیوں کا وہ پشمینہ ہی تو ہے

    ایسا نہیں کہ آج ہی آیا ہَمَیں خیال
    پانا اُنھیں ہی خواہشِ دیرینہ ہی تو ہے

    بڑھ چڑھ کے ہے دباؤ غمِ ہجر کے شُموُل
    ڈر ہے کہ پھٹ نہ جائے کہیں، سینہ ہی تو ہے

    اچھّے بُرے سبھی رہیں اعمال سے یہاں
    کِردار، شخصیت کا اِک آئِینہ ہی تو ہے

    اچھّا کیے کو ، اچھّا نہ کہنا بُرا بہت!
    تم نام کچھ بھی دو اِسے، یہ کِینہ ہی تو ہے

    اُن سے ہمارے عِشق کی اب داستاں خلشؔ !
    کہنے کو ایک قصۂ پارینہ ہی تو ہے

    شفیق خلشؔ

    ---0---
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد فہد

    محمد فہد محفلین

    مراسلے:
    1,490
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Inspired
    طارق بھائی بہت عمدہ اور لاجواب غزل
    محفل شراکت پر آپ کا مشکور ہوں
     
  3. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ڈر ہے کہ پهٹ نہ جائے کہیں سینہ ہی تو ہے
     

اس صفحے کی تشہیر