تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں ۔ شبلی نعمانی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 31, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غزل

    تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں

    واعظِ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں

    پھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال

    ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں

    اے نکیرین قیامت ہی پہ رکھو پرسش

    میں ذرا عمرِ گذشتہ کی تلافی کر لوں

    کچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک سُو ہو جائے

    تم خفا ہو تو اجل ہی کو میں راضی کر لوں

    اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۂ دل

    غم سے مانا بھی کہ اس گھر کو میں خالی کر لوں

    جورِ گردوں سے جو مرنے کی بھی فرصت مل جائے

    امتحانِ دمِ جاں پرورِ عیسی کر لوں

    دل ہی ملتا نہیں سفلوں سے وگرنہ شبلی

    خوب گذرے فلکِ دوں سے جو یاری کر لوں

    (علامہ شبلی نعمانی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    چند روز ٹھہر جاتے حضور۔۔۔ رسم دنیا، موقع و دستور ہی آ لینے دیا ہوتا:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,201
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    رمضان بھی سر پر ہی کھڑا ہے!!!
    شکریہ سخنور، شبلی کا کافی کلام پوسٹ کر دیا ہے تم نے۔ آرکائیو زندہ باد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    علامہ شبلی کی عمدہ غزل پوسٹ کرنے کا بہت شکریہ۔ صرف ایک بات۔۔۔

    چوں کہ اس شعر میں صوری قافیہ برتا گیا ہے اس لیے یہاں الف مقصورہ نہیں آئے گا بلکہ عیسیٰ کی بجائے “عیسی“ لکھا جائے گا (یعنی ی کے اوپر کھڑی زبر کے بغیر)۔

    آداب عرض ہے

    زیف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    امتحانِ دمِ جاں پرورِ عیسیٰ کر لوں
    ھیران کن قافیہ باندھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    زیف صاحب! کمال ہے کہ ایک ہی وقت میں ہم دونوں اسی قافیے پر مراسلہ لکھ رہے تھے آپ درست فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ کی طجائے عیسی ہی لکھا جانا چاہیے لیکن میں تو واقعتاً حیرت کے مارے لکھ رہا تھا کہ اس سے قبل اردو یا عربی میں کبھی عیسیٰ کا یہ تلفظ نہیں سنا تھا۔
    بہرحال شبلی نے باندھا ہے تو یقیناً کوئی تو سند رہی ہو گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ زیف صاحب۔ یہ تو بہت ہی عمدہ بات بتائی آپ نے۔ کتاب میں عیسیٰ کھڑی زبر کے بغیر ہی لکھا تھا لیکن میں اسے کاتب کی غلطی سمجھا۔ ایک بار پھر بہت شکریہ!
     
  8. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    یہ لیں حضور، سند حاضر ہے

    مر گیا صدمہء یک جنبشِ لب سے غالب
    ناتوانی سے حریفِ دمِ عیسی نہ ہوا

    قافیہ جاننے کے اس غزل کا مطلع ملاحظہ کیجیئے

    دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا
    ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہء معنی نہ ہوا

    غزل کے دوسرے قوافی افعی، راضی، اور بھی ہیں، تاہم ایک شعر میں مرزا یہ بھی فرما گئے ہیں:

    گر نفس جادہء سر منزلِ تقوی نہ ہوا

    یعنی تقویٰ

    آداب عرض ہے

    زیف

    پسِ نوشت: کوئی دوست بتائے گا کہ محفل کے کی بورڈ میں ہ کے اوپر ہمزہ کیسے ڈالی جائے۔ شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت عمدہ زیف صاحب ! میں اردو دوست کی بورڈ استعمال کر رہا ہوں۔ اس میں ہمزہ شفٹ+7 سے ڈالی جاتی ہے۔
     
  10. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ زیف صاحب۔ آپ نے تو شرمندہ ہونے کے قابل بھی نہ چھوڑا کہ اتنی سامنے کی مثال لا کر رکھ دی۔ بے حد شکریہ۔
    ہ پر ہمزہ (ۂ) کے لیے کنٹرول آلٹ او (o) دبا کر دیکھیے۔
     
  11. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    جناب فاتح صاحب

    یہ اصول (کہ یٰ کو ی کی طرح باندھا جائے) عربی کا نہیں بلکہ فارسی کا ہے اور اردو شاعروں نے فارسی والوں تتبع کیا ہے۔ اصطلاحاً اسے صوری قافیہ یا Visual rhyme کہتے ہیں، یعنی وہ قافیہ جو دیکھنے میں بقیہ قافیوں کا ہم شکل لگے۔

    اس کے مقابلے پر صوتی قافیہ ہے، جہاں لفظ دیکھنے میں مختلف لگتا ہے لیکن اس کی آواز دوسرے قوافی سے ملتی جلتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ آس، لباس، پیاس کا قافیہ استعمال کر رہے ہیں اور کسی شعر میں خاص، رقاص یا اثاث وغیرہ باندھ جائیں۔ لیکن یاد رہے کہ بعض علما صوتی قافیے کو مکروہ گردانتے ہیں، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر صوری قافیہ مباح ہے تو صوتی قافیہ بھی جائز ہونا چاہیئے۔ کیوں کہ غزل تو بنیادی طور پر سننے سنانے کی چیز ہے اور شاید آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں کہ ’ساز‘ کے ساتھ ’ریاض‘ یا ’الفاظ‘ کے مقابلے پر ’تسلی‘ کے ساتھ ’عیسی‘ یا ’تقوی‘ کانوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے۔

    آداب عرض ہے

    زیف

    (اور ہاں، ہمزہ کے لیے آپ کے بتائے ہوئے ٹوٹکے سے کام نہیں چلا۔ میں ورڈ میں ہ اور شفٹ7 سے کام چلا لیتا ہوں لیکن وہ ہمزہ یہاں آ کر ڈبا بن جاتا ہے۔ میرے پاس ونڈوز 7 میں اردو فونیٹک 1کی بورڈ انسٹالڈ ہے۔لیکن محفل میں براہِ راست ٹائپ کرنے سے محفل کا اپنا کی بورڈ اور رائڈ کر لیتا ہے۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,201
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ’ۂ‘ کے لئے اردو دوست کی بورڈ میں دائیں آلٹ یا کنٹرول آلٹ اور ’او‘ دبائیں۔ محفل کے کی بورڈ میں شاید یہ ترکیب صرف انٹر نیٹ ایکسپلورر میں کام کرتی ہو
    فاتح، شفٹ 7 والی ہمزہ کا استعمال میں درست نہیں سمجھتا۔ یہ جان کر تعجب ہوا کہ بہت سے لوگ اس ہمزہ کو بھی درمیانی ہمزہ کی طرح استعمال کرتے ہیں، جیسے ’گئے‘ لکھنے کے لئے بھی ’گۓ‘۔ اور ہ کے اوپر لگانا اس لئے بہتر نہیں سمجھتا کہ اسلام کا اصول مانتا ہوں کہ جس میں آسانی ہو اسے اختیار کیا جائے۔ ایک کنجی والا ۂ استعمال کر کے۔
     

اس صفحے کی تشہیر