برا ہِ کرم تقطیع کر دیں

ایم اے راجا

محفلین
وارث بھائی اور اعجاز صاحب، السلام علیکم۔
ایک تازہ غزل حاضر ہے توجہ کے لیئے۔

ہے تو ساتھ پر ہے جفاؤں کی صورت
بدلتا ہے پل پل ہواؤں کی صورت

مرے ساتھ رہتا ہے اب درد اس کا
مچلتی، تڑپتی صداؤں کی صورت

یہ شہرِ ستم ہے یہاں پر تو کوئی
نکلتی نہیں ہے وفاؤ ں کی صورت

جو پلتے تھے ٹکڑوں پہ آبا کے میرے
وہ ملتے ہیں مجھسے خداؤ ں کی صورت

رہے گا نہ موسم تو برسے بنا پھر
جو دیکھے گا تیری اداؤں کی صورت

مرے گھر میں ساگر بسی ہے ابھی تک
گزشتہ محبت فضاؤں کی صورت
 

مغزل

محفلین
ہممم اچھی کوشش ہے صاحب۔۔
باقی اچھے امکانات کے اشارے ہیں آپ کی غز ل میں۔۔
کئی جگہ املا کی غلطیاں ہیں۔۔
امید ہے آپ ایک بار پھر اس غزل کا اعادہ کر لیں گے۔۔
میری جانب سے داد اور دعائیں۔۔
اعجاز صاحب اور وارث‌صاحب کیا کہتے ہیں ۔۔ منتظر ہوں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
ہممم اچھی کوشش ہے صاحب۔۔
باقی اچھے امکانات کے اشارے ہیں آپ کی غز ل میں۔۔
کئی جگہ املا کی غلطیاں ہیں۔۔
امید ہے آپ ایک بار پھر اس غزل کا اعادہ کر لیں گے۔۔
میری جانب سے داد اور دعائیں۔۔
اعجاز صاحب اور وارث‌صاحب کیا کہتے ہیں ۔۔ منتظر ہوں۔
م م مغل صاحب بہت شکریہ، املا کی جو غلطیاں ہیں اگر آپ انکی نشاندہی کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، باقی اگر آپ قافیہ میں ء والی غلطی یعنی ئو کی بات کر رہے ہیں تو مسئلہ یہ ہیکہ ء و کے اوپر نہیں آ رہا تھا سو میں نے اسطرح ہی لکھ دیا۔ باقی وارث بھائی اور اعجاز صاحب کا انتظار ہے۔ ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ساگر۔ بس یہ تین مصرعے ذرا توجہ چاہتے ہیں:
ہے تو ساتھ پر ہے جفاؤں کی صورت
یہاں ’ہے تو‘ اچھا نہیں لگ رہا۔ یعنی ہے میں ے کا گرنا اور ’توُ‘ میں واؤ کا طویل تلفظ۔ اس مصرع کو یوں کہیں تو:
مرے ساتھ ہے وہ جفاؤں کی صورت
یا
وہ ہمراہ ہے پر جفاؤں کی صورت

دوسری بات۔۔۔۔۔کبھی بظاہر غلطی نہ ہونے پر بھی کچھ کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ ایسی ہی بات تب ہوتی ہے جب ایک لفظ میں حرف گرایا جائے اور اس سے ملحق لفظ میں کسی کا تلفظ لمبا کھینچا جائے۔ یہاں دیکھو:
یہ شہرِ ستم ہے یہاں پر تو کوئی
اس میں تو کی و گر رہی ہے، لیکن کوئی کا ’کو‘ 2 کے وزن میں ہے۔
اس کو یوں کریں تو؟؟؟
یہ شہرِ ستم ہے ، کسی طور سے بھی
نکلتی نہیں ہے وفاؤ ں کی صورت

اور یہ شعر ہی تفہیم نہیں دے رہا:
رہے گا نہ موسم تو برسے بنا پھر
جو دیکھے گا تیری اداؤں کی صورت
اورت الفاظ کی نشست بھی درست نہیں پہلے مصرعے میں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
محمد وارث صاحب ایک اور سوال
یہ تفاعیل کیا چیز ہے۔


نظامی صاحب یہ بہت طول طلب موضوع ہے، مختصراً عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک جملہ کچھ الفاظ سے مل کر بنتا ہے اور الفاظ حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ شعر کا مکینزم بھی یہی ہوتا ہے یعنی ایک شعر یا مصرعے کو ہم ایک جملہ بھی کہہ سکتے ہیں اور وہ جملہ کچھ الفاظ اور حروف سے مل کر بنا ہے۔

لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ایک جملے کے وزن کو جانچنے کا کوئی معیار نہیں ہے یا اسے جانچا ہی نہیں جاتا لیکن ایک شعر کو نہ صرف کسی وزن پر کہا جاتا ہے بلکہ اسے جانچا بھی جاتا ہے اور اسکے بعد یہ "فتویٰ" بھی دیا جاتا ہے کہ اس وزن کے مطابق شعر ہے یا نہیں۔

اور وزن بنتا ہے کچھ الفاظ سے، اور انہی الفاظ کو افاعیل، تفاعیل، مفاعیل، اصول، اجزاء، میزان یا رکن کہا جاتا ہے۔

یہ افاعیل آٹھ ہیں (مجھے ذاتی طور پر انہیں افاعیل یا رکن کہنا زیادہ اچھا لگتا ہے، آپ اوپر دیئے گئے الفاظ میں سے کسی سے بھی ان کو پکار سکتے ہیں)۔

1- فعولن
2- فاعلن
3- مفاعیلن
4- فاعلاتن
5- مستفعلن
6- مفعولات
7- متفاعلن
8- مفاعلتن

انہیں آٹھ افاعیل کی مخلتف ترتیبوں سے بحریں بنتی ہیں، اور ان بحروں میں شعر کہنا لازم ہوتا ہے۔

کچھ مفرد بحریں ہوتی ہیں کہ جن میں ایک ہی افاعیل کی تکرار ہوتی ہے جیسے بحر متقارب (جو اس تھریڈ میں تفصیل سے زیرِ بحث رہی ہے) اس میں فعولن کی تکرار ہے یعنی مثمن میں فعولن فعولن فعولن فعولن ہے۔ جو بھی شعر ان افاعیل کے وزن پر کہا جائے گا اسے بحر متقارب میں کہا ہوا شعر کہیں گے۔

اسی طرح ایک اور مفرد بحر ہے، بحر ہزج اس میں مفاعیلن کی تکرار ہوتی ہے (بحر ہزج مثمن سالم کا وزن ہوگا، مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)۔

کچھ مرکب بحریں ہوتی ہیں جن میں ایک افاعیل کی بجائے دو اراکین کی تکرار ہوتی ہے جیسے بحر مضارع مثمن سالم کا وزن ہے مفاعیلن فاعلاتن مفاعیلن فاعلاتن، یعنی اس میں دو مختلف افاعیل آ گئے ہیں سو مرکب ہے۔

اس طرح کل ملا کر (مفرد اور مرکب) انیس بحریں بنتی ہیں جن میں سے کچھ اردو میں استعمال ہوتی ہیں اور کچھ نہیں ہوتیں جیسے بحر وافر جو کہ مفرد بحر ہے اور اسکا وزن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن ہے لیکن اردو میں اس میں شعر نہیں کہے جاتے کہ اسکا مزاج سراسر عربی اور فارسی کا ہے، اور اگر اردو میں کوئی شعر ہے بھی تو بطور مثال کے۔

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

اوپر جو آٹھ افاعیل دیئے گئے ہیں ان میں ایک خاص ترتیب اور انداز سے حروف کی کمی بیشی کرنے سے کچھ نئے وزن اور افاعیل حاصل ہوتے ہیں، اس کمی بیشی کے عمل کو زحاف یا زحافات کہتے ہیں اور ان سے بے شمار اوزان اور بے شمار بحریں حاصل ہوتی ہیں اور یہی عروض کا مشکل ترین حصہ ہے۔ اور ہر زحاف اور ہر بحر کا ایک الگ نام بھی ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک رکن 'مفاعیلن' پر زحافات کے عمل سے اٹھارہ نئ صورتیں حاصل ہوتی ہیں اور ان سے بننے والی بحر ہزج کے 35 ذیلی صورتیں بحر الفصاحت میں بیان کی گئی ہیں۔

کچھ مثالیں لکھتا ہوں۔

مفاعیلن کے اگر آخری دو حرف گرا دیں تو اس زحاف کو حذف کہتے ہیں، اسے سے 'مفاعی' بچتا ہے جسے فعولن بنا لیتے ہیں۔

اگر پہلا حرف 'م' ختم کر دیں تو فاعیلن بچتا ہے جسے 'مفعولن' بنا لیتے ہیں۔ (اس زخاف کو خرم بروزنِ شرم کہتے ہیں)

اسی طرح مفاعیلن پر زحافات کے عمل سے جو وزن حاصل ہوتے ہیں ان میں، مفاعیل، مفاعلن، فاعلن، مفعول، فعول، فعل، فاع، فع، مفاعیلان، مفعولان، فعلن وغیرہ وغیرہ حاصل ہوتے ہیں اور پھر ان سے بحریں بنتی ہیں جیسے

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
مفاعلن مفاعیلن مفاعلن مفاعیلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل

وغیرہ وغیرہ

مزید برآں، اسی ایک رکن 'مفاعیلن' کی مختلف صورتوں (یعنی بحر ہزج ہی سے) رباعی کے چوبیس وزن بھی نکلتے ہیں۔

اور یوں آٹھ افاعیل کی مختلف صورتوں سے سینکڑوں بحریں بنتی ہیں، لیکن عملی طور پر، ایک رپورٹ کے مطابق، صرف ساٹھ ستر بحریں ہی عربی، فارسی اور اردو شاعروں کے مستقل استعمال میں رہی ہیں۔ اردو شاعری کی تاریخ میں تقریباً چالیس بحریں استعمال ہوئی ہیں، اور دیوانِ غالب میں غالب کے استعمال میں آنے والی بحروں کی تعداد انیس یا بیس ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اتنا تفصیلی جواب عطا کرنے کا بہت شکریہ محمد وارث صاحب.
ایک کتاب ہاتھ لگی ہے محیط الدائرہ اس میں کچھ اس طرح سے لکھا ہے کہ تفاعیل سبب ، وتد اور فاصلہ سے مل کر بنتا ہے.
یہ سبب ، وتد اور فاصلہ کیا ہیں؟
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
اتنا تفصیلی جواب عطا کرنے کا بہت شکریہ محمد وارث صاحب.
ایک کتاب ہاتھ لگی ہے محیط الدائرہ اس میں کچھ اس طرح سے لکھا ہے کہ تفاعیل سبب ، وتد اور فاصلہ سے مل کر بنتا ہے.
یہ سبب ، وتد اور فاصلہ کیا ہیں؟


جہاں تک میں جانتا ہوں سبب ، وتد ، اور فاصلہ کے بارے میں میں بتا دیتا ہوں باقی تفصیل تو وارث صاحب ہی بتائے گے
سبب
سبب دو ہوتے ہیں سبب خفیف اور ثقیل ۔

سبب خفیف دو حرفی لفظ کو کہتے ہیں جن میں ایک متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے متحرک وہ حرف ہوتا ہے جس پر حرکت ہوتی ہے حرکت، زبر، زیر ،پیش کو حرکت کہتے ہیں اب جس لفظ کے پہلے حرف متحرک اور دوسرا ساکن ہو اس کو سبب کہتے ہیں ۔جس کل ، تم ، سر ، در ، تن ، من وغیرہ وغیر

سبب ثقیل بھی دو حرفی ہوتا ہے لیکن اس کے دونوں حرف متحرک ہوتے ہیں

وتد
وتد بھی دو ہیں وتد مجموع اور مفروق۔
وتد مجموع تین حرفی لفظ کو وتد کہتے ہیں جس کے پہلے دو حرف متحرک اور تیسرا حرف ساکن ہوتا ہے جیسے۔ اثر، مگر ، خبر، نظر وغیرہ وغیر اس کو وتد کہتے ہیں

وتد مفروق۔
یہ بھی تین حرفی ہوتا ہے لیکن اس کا پہلا حرف متحرک اور دوسرا ساکن اور پھر تیسرا متحرک ہواتا ہے

فاصلہ

فاصلہ کے بارے میں مجھے بھی اتنا خاص پتہ نہیں ہے لیکن میرے خیال میں چار حرفی لفظ کو فاصلہ کہتے ہیں جس میں پہلے تین متحرک اور آخری ساکن ہوتا ہے ۔ اس کی تفصیل وارث صاحب دے سکتے ہیں بہت شکریہ

سر جو جو غلطیاں ہوئی ہے اس کو دور کر دے شکریہ
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
وارث بھائی اور اعجاز صاحب، السلام علیکم۔
ایک تازہ غزل حاضر ہے توجہ کے لیئے۔

ہے تو ساتھ پر ہے جفاؤں کی صورت
بدلتا ہے پل پل ہواؤں کی صورت

مرے ساتھ رہتا ہے اب درد اس کا
مچلتی، تڑپتی صداؤں کی صورت

یہ شہرِ ستم ہے یہاں پر تو کوئی
نکلتی نہیں ہے وفاؤ ں کی صورت

جو پلتے تھے ٹکڑوں پہ آبا کے میرے
وہ ملتے ہیں مجھسے خداؤ ں کی صورت

رہے گا نہ موسم تو برسے بنا پھر
جو دیکھے گا تیری اداؤں کی صورت

مرے گھر میں ساگر بسی ہے ابھی تک
گزشتہ محبت فضاؤں کی صورت


السلام علیکم جناب ساگر بھائی کیا بات ہے پا کی بہت اچھی غزل پیش کی ہے آپ نے اعجاز صاحب نے بہت تفصیل سے اس پر رائے دی ہے اس پر عمل کرئے شکریہ
 

ایم اے راجا

محفلین
خرم بھائی اور اعجاز صاحب شکریہ۔
میں نے غزل کو درست کیا ہے کل ایک شعر لکھنے سے رھ گیا تھا، اب اصلاح کر کہ درج ہے اور توجہ چاہتی ہے۔ شکریہ۔


وہ ہمراہ ہے، پر جفاؤں کی صورت
بدلتا ہے پل پل ہواؤں کی صورت

مرے ساتھ رہتا ہے اب درد اس کا
مچلتی، تڑپتی،صداؤں کی صورت

بدلتا ہے کیا کیا نظارے زمانا
رُتوں کی بدلتی اداؤں کی صورت

جو پلتے تھے ٹکڑوں پہ آبا کے میرے
وہ ملتے ہیں مجھسے خداؤں کیصورت

یہ شہرِ ستم ہے، کسی طور سے بھی
نکلتی نہیں ہے وفاؤں کی صورت

مرے سر پہ صحرا میں کرتی ہیں سایہ
دعائیں کسی کی رداؤں کی صورت

مرے گھر میں راجا بسی ہے ابھی تک
گزشتہ محبت فضاؤں کی صورت​
 

الف عین

لائبریرین
دو نئے اشعار کا اضافہ ہے ساگر۔۔ اور دونوں نہ صرف وزن میں درست ہیں، بلکہ شعر بھی اچھے ہیں۔ بس املا کی غلطی درست کر دیں۔ ’کرتیں‘ نہییں ’کرتی‘ ہی درست ہے یہاں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
اعجاز صاحب بہت شکریہ، انجانے میں غلطی ہو گئی ابھی درست کیئے دیتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ اور شمشاد بھائی آپ کا بھی شکریہ۔
 

ایم اے راجا

محفلین
بہت خوب ساگر بھائی کیا بات ہے آپ کی اب دوسرے دھاگے کی طرف بھی توجہ دو

اس بحر کو اتنا رٹا ہیکہ یہ ذہن سے نکلتی نہیں ہے، جیسے کسی شاعر نے کہا ہیکہ۔ تیرے چہرے سے نظر ہٹتی ہی نہیں۔ نظارے ہم کیا دیکھیں۔
بحر حال کوشش کرتا ہوں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
اعجاز صاحب السلام علیکم۔
پروین شاکر کی ایک چھوٹی بحر میں کہی ہوئی غزل ہے۔۔۔۔۔ تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے۔ قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے۔۔۔ مجھے کافی پسند ہے اسی کے زیرِ خیال میں نے ایک غزل کہی ہے، نظر ثانی کی استدعا ہے۔ شکریہ۔

کسی سے مجھے تو گلہ ہی نہیں ہے
نصیبوں میں اپنے صلہ ہی نہیں ہے

سناتا جسے حال دل کا میں کھل کر
رہِ زیست میں وہ ملا ہی نہیں ہے

یوں ہی زخم سیتا رہوں عمر ساری
مرا اسقدر حو صلہ ہی نہیں ہے

کرے معتبر مجھکو تیری نظرمیں
وہ کردار، وہ سلسلہ ہی نہیں ہے

جو قاتل کو میرے منا سب سزا دے
وہ منصف تومجھکوملاہی نہیں ہے

نہ تڑپے وہاں تشنگی جو لبِ جُو
وہ میداں تو پھر کربلاہی نہیں ہے

یہ کیسی تلاشِ منازل ہے راجا
کٹا عمر بھر فاصلہ ہی نہیں
 

الف عین

لائبریرین
زمین تو اچھی ہے۔ اب اس غزل پر بحث:

کسی سے مجھے تو گلہ ہی نہیں ہے
نصیبوں میں اپنے صلہ ہی نہیں ہے

اس غزل کے قوافی میں بھی کچھ گڑبڑ ہے جو ایطا کے ذیل میں آ سکتا ہے۔ مطلعے سے پتہ چلتا ہے کہ صلہ اور گلہ میں گاف اور صاد پر زیر ہے، اس لھاظ سے پر قافیے میں اسی التزام کی ضرورت ہے۔ ’ملا‘ اگرچہ الف سے آتا ہے اور ضرورت سے زیادہ استادی دکھانے والے اساتذہ اس کو بھی نہیں مانتے، لیکن میں صوتی قوافی مان لیتا ہوں۔ لیکن ’حوصلہ"؟ یہ قافیہ غلط ہے۔ ’کربلا ‘میں تو با پر واضح فتح یعنی زبر ہے۔

سناتا جسے حال دل کا میں کھل کر
رہ زیست میں ایسا ملا ہی نہیں ہے
دوسرا مصرعہ بحر سے خارج ہے، تقطیع کر کے دیکھیں۔ ’وہ ملا ہی نہیں ہے‘ سےئ وزبن درست ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ لکھنے وقت غلطی ہو گئی ہو۔ لیکن مزاج ایسا بننا چاہئے کہ مصرع خود پڑھیں یا لکھیں، وزن میں نہ ہو تو فوراً کھٹکے۔

رہوں زخم سیتا میں ساری حیاتی
مرا اسقدر حو صلہ ہی نہیں ہے
حیاتی؟؟؟؟
یوں ہی زخم سیتا رہوں عمر ساری
کر دیں تو بہتر ہو۔

کرے معتبر مجھکو تیری نظرمیں
وہ کردار وہ سلسلہ ہی نہیں ہے

یہاں سلسلہ سے کیا کہنا چاہتے ہو۔ مراد کیا چشتیہ نظامیہ قادریہ قسم کے سلسلے سے ہے؟؟؟ قافیہ بدل کر کچھ اور مناسب لفظ استعمال کرو۔

جو قاتل کو میرے سزا دے مناسب
وہ منصف تومجھکوملاہی نہیں ہے

درست ہے۔

نہ تڑپے وہاں تشنگی گر لبِ جُو
وہ میداں تو پھر کربلاہی نہیں ہے

قافئے کی بات لکھ چکا ہوں۔ ’گر لب: جوُ بھی بھلا نہیں لگتا۔

یہ کیسی تلاشِ منازل ہے ساگر
کٹا عمر بھر فاصلہ ہی نہیں ہے
ص
 

ایم اے راجا

محفلین
اعجاز صاحب شکریہ۔
اعجاز صاحب اس قافیئے میں الفاظ بہت کم ہیں شاید، پروین شا کر مرحومہ نے بھی اسی طرح کے قافیئے استعمال کیئے ہیں، نیچے غزل عرض کر رہا ہوں برائے کرم رہنمائی فرمائیے گا۔ شکریہ۔

تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے

بچھڑے تو نجانے کیا حال ہو
جو شخص ابھی ملا نہیں ہے

جینے کی تو آرزو ہی کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے

جو زیست کو معتبر بنادے
ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے

خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کھلا نہیں ہے

سر شارئِ رہبری میں دیکھا
پیچھے مرا قافلہ نہیں ہے

اِک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چھونے میں تو آبلہ نہیں ہے

( صد برگ، صفحہ نمبر 141/ 140 )
آپ سے گزارش ہیکہ قیمتی وقت میں سے تھوڑا وقت نکال کر رہنمائی فرمائیے گا۔ شکریہ۔

سناتا جسے حال دل کا میں کھل کر
رہ زیست میں ایسا ملا ہی نہیں ہے
دوسرا مصرعہ بحر سے خارج ہے، تقطیع کر کے دیکھیں۔ ’وہ ملا ہی نہیں ہے‘ سےئ وزبن درست ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ لکھنے وقت غلطی ہو گئی ہو۔ لیکن مزاج ایسا بننا چاہئے کہ مصرع خود پڑھیں یا لکھیں، وزن میں نہ ہو تو فوراً کھٹکے۔

حضور اسکی سمجھ نہیں آئی ذرا درست کر دیجیئے۔ شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
یار مجھ سے جلدی میں تائپو بہت ہوتی ہیں۔ اور ارنا صر نہیں کہ تحریر دوارہ چیک کر لوں۔
میں نے لکھا تھا۔۔ اب تصحیح کے بعد
مصرعہ بحر سے خارج ہے، تقطیع کر کے دیکھیں۔ ’وہ ملا ہی نہیں ہے‘ سے وزن درست ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ لکھنے وقت غلطی ہو گئی ہو۔ لیکن مزاج ایسا بننا چاہئے کہ مصرع خود پڑھیں یا لکھیں، وزن میں نہ ہو تو فوراً کھٹکے۔
مطلب یہ تھا کہ خوب مطالعہ کریں اساتذہ کی شاعری کا، اور ان کی بحریں اور تقطیع دیکھتے رہیں تو یہ عادت ہو جائے گی کہ اگر تکنیکی طور پر فوراً سمجھ میں نہ بھی آئے کہ کیا غلطی ہے، لیکن یہ احساس ہو جا نا چاہئے کہ کچھ گڑبڑ ہے یہاں۔ جس مصرعے کی اصلاح کی تھی، وہ اصلاح شدہ مصرع ہونا چاہئے
رہِ زیست میں وہ ملا ہی نہیں ہے۔
رہا سوال پروین شاکر کی گزل کا۔۔ تو اس میں بھی آبلہ اور حوصلہ قوافی پر مجھے شک ہے کہ درست نہیں۔ قافلہ سلسلہ بالکل درست ہیں کہ ان میں کسرہ استعمال ہوتا ہے۔
وارث کیا خیال ہے؟
یوں بھی پروین شاکر اچھی شاعرہ تھی، مستند تو نہیہں مانی جا سکتی۔
 

ایم اے راجا

محفلین
بہت شکریہ اعجاز صاحب، کہ آپ اپنے قیمتی وقت سے ہمارے لیئے اتنا وقت بھی نکالتے ہیں، بس اتنا فرما دیں کہ ایطا شاعرانہ ضرورت ( مجبوری) میں بھی بالکل جائز نہیں یا کہ کچھ گنجائش ہے؟
 
Top