سیما علی

لائبریرین
کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

فیض احمد فیض
 

سیما علی

لائبریرین
بات کرنے کا بہانہ ہی سَہی
داستانیں ہی کہو!
آپ بیتی ہو کہ جَگ بیتی ہو
یُوں مگر چُپ نہ رہو!
"احمد ندیم قاسمی"
 
Top