زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کُوچ کر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟
دل میری جاں، مر گیا کب کا

(جون ایلیا)​
 

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرے خدا
اجاڑ دے مری مٹی کو دربدر کردے

مری زمیں مرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کردے

(افتخار عارف)
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
حمد جناب باری
رکھو زباں پہ جاری

وہ خالق جہاں ہے
وہ مالک جہاں ہے

از ماہ تا بہ ماہی
ہے اس کی باد شاہی

ہر جا ظہور اس کا
ہر شئے میں نور اس کا

ہر چیز سے عیاں ہے
ہر چیز میں نہاں ہے

مالک ہے بحر و بر کا
رازق ہے خشک و تر کا

تعریف اس خدا کی
کیا لکھے مشت خاکی
 
صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم

وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز
ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
(فراز)
 

شمشاد خان

محفلین
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
(جون ایلیا)
 

شمشاد خان

محفلین
آبلہ پائی ہوئی نہ زیست میں حائل کبھی
پاؤں کب میرے تھکے گر ہو گئے گھائل کبھی

پر کشش ہے محفل دنیا بہت اپنی جگہ
پر مجھے یہ اپنی جانب کر سکی مائل کبھی
(عاکف غنی)
 
Top