کاشفی

محفلین
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی
ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

(شاعر: نام مجھے معلوم نہیں)
 

کاشفی

محفلین
اظہارِعشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

(مصطفیٰ خاں شیفتہ)
 

کاشفی

محفلین
چاہے دیوانہ کہیں یا لوگ سودائی کہیں
آگئے ہم سر کو لے کر پتھروں کے شہر میں

(شو رتن لال برق پونچھوی)
 

کاشفی

محفلین
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

(ندا فاضلی)
 

کاشفی

محفلین
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

(محمدابراہیم بیگ خاطر غزنوی - پشاور)
 
Top