طارق شاہ

محفلین
عشقِ بُتاں کو جی کا جنجال کرلیا ہے
آخر یہ میں نے اپنا کیا حال کرلیا ہے

سنجیدہ بن کے بیٹھو، اب کیوں نہ تم، کہ پہلے
اچھی طرح سے مجھ کو، پامال کرلیا ہے

حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین
گُزر گئی حد سے پائمالی، عتابِ ترکِ کلام کب تک
رہے گی مسدُود اے سِتم گر! رہِ پیام و سلام کب تک

حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین




اے طبیبو نہ اذیّت دو مجھے بہرِخُدا
آپ دردِ دلِ بیمار نہیں جانے کا

غلام ہمدانی مصحفی
 

طارق شاہ

محفلین
تِرے کوچے ہربہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا

غلام ہمدانی مصحفی
 

طارق شاہ

محفلین
ہجر کی شب، ہم کو یوں کہتی ہے، ہنگامِ اخیر
ہوچکی اختر شُماری، دَم شُماری کیجیے

کیا کریں ہم ! صبْر پر اپنا نہیں کچُھ اِختیار
ورنہ یوں مجبُور ہوتے، اختیاری کیجیے

غلام ہمدانی مصحفی
 

طارق شاہ

محفلین
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب، کہ پہروں تک !
نظرآیا جہاں پرسایۂ دیوار، بیٹھے ہیں

انشا الله خاں انشا
 

طارق شاہ

محفلین
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری، راہ لگ اپنی !
تجھے اٹھکھیلیاں سُوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں


انشا الله خاں انشا
 

فرقان احمد

محفلین
عطائے دستِ قدرت ہے، جو مِل جائے غنیمت ہے
تعین کی حدوں سے تو یہاں بڑھ کر ۔۔۔۔۔ نہیں ملتا

ضرر وصفی
 

طارق شاہ

محفلین
دل تو دل، وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اِک شخص کے تصّور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

اسد الله خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین
فرصتِ کاروبارِ شوق کِسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں
ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں‌ طاقت، جگر میں حال کہاں
اسد الله خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین
تِری کج ادائی سے ہار کے، شبِ انتظار چلی گئی
مِرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر، مِرے غم گُسار چلے گئے
نہ سوالِ وصْل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
تِرے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین
یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نجات دل کا عالم
تِرا حُسن دستِ عیسیٰ ، تری یاد رُوئے مریم

تِری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے تری گیسوؤں کی شبنم

فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین
یہ عجب قیامتیں ہیں تِری رہگزر میں گزراں
نہ ہُوا کہ مَرمِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پھرسے!
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصْلِ گُل کا ماتم

فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین
زندگی جبر مُسلسَل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

آؤ اِک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خُدا یاد نہیں

ساغرصدیقی
 

طارق شاہ

محفلین
نظر نظر بیقرار سی ہے، نفس نفس میں شرار سا ہے
میں جا نتا ہوں، کہ تم نہ آؤگے، پھر بھی کچھ انتظار سا ہے

یہ زلف بردوش کون آیا، یہ کِس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں
مہْک رہی ہے فضائے ہستی، تمام عالم بہار سا ہے

ساغر صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین
حُسنِ بے پروا کو دے کر دعوتِ لطف و کرم
عشق کے زیرِنگیں پھر ہردوعالم کیجئے

صبح سے تا شام رہئے قصۂ عارض میں گُم
شام سے تا صبْح ذکرِ زُلفِ برہم کیجئے

جوش ملِیح آبادی
 

طارق شاہ

محفلین
نہ جادو، نہ افسوں گری چاہتا ہوں
فقط حُسن سے دلبری چاہتا ہوں

خلاصہ ہے یہ جوش اِس داستاں کا
کہ جوہر ہوں اور جوہری چاہتا ہوں

جوش ملیح آبادی
 

طارق شاہ

محفلین
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انُھیں، کہیں سے بُلاؤ بڑا اندھیرا ہے

فرازِعرش سے ٹُوٹا ہُوا کوئی تارہ
کہیں سے، ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی
 
Top