طارق شاہ

محفلین
آج ملبُوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھرجاگی ہُوئی جیسے دُلھن کی خوشبو
پیرہن میرا مگراُس کے بدن کی خوشبو
اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شِکن کی خوشبو
پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین
جِیتنے میں بھی، جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے !
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا

آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے
جانے اب، کیا کیا دِکھائے گا تمھارا دیکھنا

پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین
حیات رازِ سُکوں پا گئی ازل ٹھہری
ازل میں تھوڑی سی لرزِش ہوئی حیات ہوئی
تھی ایک کاوشِ بےنام، دل میں فِطرت کے
سوا ہوئی تو وہی آدمی کی ذات ہوئی
فراق گورکھپوری
 

فرقان احمد

محفلین
میری قسمت میں لکھی گردش بھلا کس واسطے
میں تو اے انجم ثوابت میں نہ سیاروں میں تھا

آسمان جاہ انجم
 

فرقان احمد

محفلین
وہی ہے صانع، وہی ہے صنعت، جو سوچ دیکھو، کیا ہے حیرت
بنایا جس نے، کہ شکلِ آدم، ہم اس کو جانے وہ ہم کو جانے
وجود اپنا اگر عدم ہے، کہاں کی شادی، کہاں کا غم ہے
نمودِ ہستی ہے وہمِ عالم، ہم اس کو جانے وہ ہم کو جانے
نہیں ہے احوال اپنا یکساں، کبھو ہے شاداں، کبھو ہے حیراں
کبھو ہے خاموش چشم پر نم، ہم اس کو جانے وہ ہم کو جانے


شاہ خاموش
 

فرقان احمد

محفلین
صورت جدا ہے سب کی مگر اک ہے وجود
گل میں کون، خارِ مغیلاں میں کون ہے!!!
خاموش دیکھ ارض و سما میں ہے کس کا نور
سورج میں کون، ماہِ درخشاں میں کون ہے

شاہ خاموش
 

فرقان احمد

محفلین
علم ظاہر داستانی اور ہے
علم اسرار نہانی اور ہے
وعظ پند و عالمانی اور ہے
حال و قال صوفیانی اور ہے
خضر سے چاہیں نہ ہم آبِ حیات
اپنی عمرِ جاودانی اور ہے
فکر میں خاموش کے ہے اور کچھ
گفتگو اب یہ زبانی اور ہے!!!!!!

شاہ خاموش
 

فرقان احمد

محفلین
شکل انساں میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
حق سے ناحق میں جدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
باوجویکہ ترا مژدہ نحن و اقرب
گرچہ قرآن میں لکھا تھا مجھے معلوم نہ تھا
ہو کہ خاموش عجب سیر و تماشا دیکھا
رنگ بیرنگ ہوا تھا مجھے معلوم نہ تھا

شاہ خاموش
 

فرقان احمد

محفلین
گمنامی ہماری ہے یہی نام ہمارا
آغاز ہمارا ہے نہ انجام ہمارا
بیکار و معطل ہوئے ہم کار جہاں سے
خود آپ خدا کرتا ہے بس کام ہمارا
بخت اپنے تو فرخندہ بنے روزِ ازل سے
کیا کر سکے اب گردشِ ایام ہمارا

شاہ خاموش
 

فرقان احمد

محفلین
ہر رنگ سے نمود ہے کون و مکاں میں کون
بیرنگ ذات پاک ۔۔۔۔۔۔ اگر لامکانی ہے
وضع وجود اپنا ۔۔۔۔۔۔ مثال حباب ہے
ٹوٹے اگر حباب تو پھر کیا ہی پانی ہے


شاہ خاموش
 

طارق شاہ

محفلین
ساقی، بہ جلوہ، دشمنِ ایمان و آگہی
مُطرب، بہ نغمہ، رہزنِ تمکین و ہوش ہے

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنتِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے

اسد الله خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو مِلیں گے
کیا خُوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ، کیوں جیتے ہیں غالب
قسمت میں، ہےمرنے کی تمنا کوئی دن اور

اسد الله خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین
نہیں اِس کھُلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت
یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس، نہ آشیانہ

تِری بندہ پروَرِی سے مِرے دن گزر رہے ہیں
نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ
علامہ محمد اقبال
 

طارق شاہ

محفلین
تجھے یاد کیا نہیں ہے، میرے دل کا وہ زمانہ
وہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہ
یہ بُتانِ عصْرِحاضِر کے بنے ہیں مدرِسے میں
نہ ادائے کافِرانہ، نہ تراشِ آزَرانہ
علامہ محمد اقبال
 

طارق شاہ

محفلین
پھر کسی یاد نے کروٹ بدلی
کوئی کانٹا سا چُبھا ہے دل میں
پھر کسی غم نے پُکارا شاید
کچھ اُجالا سا ہُوا ہے دل میں
ناصرکاظمی
 
Top