طارق شاہ

محفلین
تہِ خاک، کرمکِ دانہ جُو بھی شریک رقصِ حیات ہے
نہ بس ایک جلوۂ طُور ہے، نہ بس ایک شوقِ کلِیم ہے

مجید امجد
 

طارق شاہ

محفلین
گُم ہوئے ہوش و حواس ایسے محیطِ عشق میں !
ڈوبنے والوں کو اب تہ پر گُماں ساحل کا ہے

یاس، یگانہ، چنگیزی
 

طارق شاہ

محفلین
محبّتوں کے یہ دریا اُتر نہ جائیں کہیں
جو دِل گُلاب ہیں، زخموں سے بھرنہ جائیں کہیں


پُکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی
برَسنے والے یہ بادل گُزرنہ جائیں کہیں


عبیداللہ علیم

 

طارق شاہ

محفلین
گُزرو نہ اِس طرح، کہ تماشا نہیں ہُوں میں
سمجھو، کہ اب ہُوں اور دوبارہ نہیں ہُوں میں
اِک طبْع رنگ رنگ تھی، سو نذرِ گلُ ہُوئی
اب یہ کہ، اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہُوں میں
عبیداللہ علیم
 

طارق شاہ

محفلین
دیکھنے کا اب یہ عالم ہے، کوئی ہو یا نہ ہو
ہم جدھر دیکھا کئے، پہروں اُدھر دیکھا کِئے
حُسن کو دیکھا ہے ہم نے، حُسن کی خاطر حفیظ
ورنہ سب اپنا ہی معیارِ نظر دیکھا کِئے
حفیظ ہوشیارپوری
 

طارق شاہ

محفلین
آج اُنہیں کچھ اِس طرح جی کھول کر دیکھا کِئے
ایک ہی لمحے میں، جیسے عمْر بھر دیکھا کِئے
دل اگر بیتاب ہے، دل کا مُقدّر ہے یہی
جس قدر تھی ہم کو توفیقِ نظر دیکھا کِئے
حفیظ ہوشیارپوری
 

طارق شاہ

محفلین
وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا، سبھی رنگ اُتار کے شہر کا
کوئی شخص تھا میرے شہر میں، کسی دُور پار کے شہر کا

کسی اور دیس کی اور کو، سُنا ہے فراز چلا گیا
سبھی دُکھ سمیٹ کے شہر کے، سبھی قرض اُتار کے شہر کا
احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین
سِلسِلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اِتنے تو مراسِم تھے، کہ آتے جاتے
کتنا آساں تھا، تِرے ہجْر میں مرنا جاناں
پھر بھی اِک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے
احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین
یہ طُولِ عمرِ نامعقول و بے کیف
بُزرگوں کی دُعا ہے اور میں ہُوں

لہُو کے گھونٹ پینا اور جِینا
مسلسل اِک مزہ ہے اور میں ہُوں

حفیظ ایسی فلاکت کے دنوں میں
فقط شُکرِ خُدا ہے اور میں ہُوں

حفیظ جالندھری
 

طارق شاہ

محفلین
زاہد سے نہیں، حُسن کی سرکار سے پُوچھو
ہم بندۂ تسلیم و رضا ہیں، کہ نہیں ہیں

ہاں میں تو لِئے پھرتا ہوں اِک سجدۂ بیتاب
اُن سے بھی تو پوچھو، وہ خدا ہیں کہ نہیں ہیں

حفیظ جالندھری
 

طارق شاہ

محفلین
ہنگامۂ محفل ہے کوئی دَم، کہ چلا میں
ساقی مِرے ساغر میں ذرا کم، کہ چلا میں

جوعمرگُزاری ہے بڑی دَھج سے گُزاری
اب، کوئی خوشی ہے نہ کوئی غم، کہ چلا میں

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین
خُو سے اُس محوِ تغافل کے جو آگاہ نہیں
آرزو وعدۂ جاناں پہ شکیبا ہے عبث
حالِ دل اُن سے نہ پوشیدہ رہا ہے، نہ رہے
اب تو اِس رازِ نمودار کا اخفا ہے عبث
حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین
مَستِ غفلت ہے وہ ظالم، جونہیں بیخودِعشق
ہوشیاری کا تِرے دَور میں دعوہ ہےعبَث
ہم کو اُس شوخ سے اُمّیدِ کرَم ہے لیکن !
یاس کہتی ہے کہ، حسرت ! یہ تمنّا ہےعبَث
حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین
یہ کاروبارِ مشیّت ہے کس طرح مانوں !
کسی کے گھر میں چراغاں، کسی کے گھر سائے
نگار خانۂ فنکارِ نَو کا سرمایہ
لہو ، شِکستہ لکیریں ، خلا ، سفر ، سائے
حزِیں صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین
وہ منتظرہیں چمن میں بکھیر کرسائے
فضا سے صُبْحِ شفَق رنگِ نُور برسائے
سمندروں سے ہَوا کو مِلا نہیں پانی
تو اِس کا یہ نہیں مطلب کہ آگ برسائے
حزِیں صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین
کیا کام اُنہیں پُرسِشِ اربابِ وفا سے
مرتا ہے تو مرجائے کوئی، اُن کی بَلا سے

دیوانہ کِیا ساقی محفل نے سبھی کو
کوئی نہ بچا اُس نظرِ ہوش رُبا سے

حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین
ستم ظریفئ صُورت گرِ بہار نہ پُوچھ
بساطِ رنگ اُلٹ دی جھلک دِکھا کے مجھے
اُدھر سے تِیر، جو آئے سجا لِئے دل میں
نگاہِ ناز پشیماں ہے آزما کے مجھے
حزیں صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین
تِرے خیال کی لوَ میں جدھر جدھر جائیں
چراغ جل اُٹھیں، منظر نِکھر نِکھر جائیں

میں اپنے بکھرے ہوئے خواب چُن رہا ہوں ابھی
طلوعِ صُبْح کے لمحے ذرا ٹھہر جائیں

حزیں صدیقی
 

طارق شاہ

محفلین

کچھ قدر تو کرتے مِرے اظہارِ وفا کی
شاید یہ محبّت ہی نہیں آپ کے نزدیک

عُشّاق پہ کچھ حد بھی مُقرّر ہے سِتم کی
یا اِس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک
حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین
چاہت مِری، چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک
اگلی سی نہ راتیں ہیں، نہ گھاتیں ہیں، نہ باتیں
کیا اب میں وہ، حسرت ہی نہیں آپ کے نزدیک
حسرت موہانی
 
Top