کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
اک لڑکی تھی دیوانی سی
اک لڑکے پہ وہ مرتی تھی
نظریں جھکا کے شرما کے
گلیوں سے گزرا کرتی تھی
چوری چوری چیکے چیکے
چھٹیاں لکھا کرتی تھی
کچھ کہنا تھا شاید اس کو
نجانے کس سے ڈرتی تھی
جب بھی ملتی تھی مجھ سے
مجھ سے پوچھا کرتی تھی
پیار کیسے ہوتا ہے
یہ پیار کیسے ہوتا ہے​
 

زینب

محفلین
چپ چاپ بیٹھ کر اسے دیکھوں تمام رات

جاگا ہوا بھی ہو کوئی سویا ہوا بھی ہو

میں نے تو اس کے لیے یہاں تک دعایئں کیئں

میری طرح سے کوئی اسے چاہتا بھی ہو
 

شمشاد

لائبریرین
آخری خواہش
مِرے ساتھی
مِری یہ رُوح میرے جسم سے پرواز کر جائے
تو لوٹ آنا
میری خواب راتوں کے عذابوں پر
سسکتے شہر میں تُم بھی
ذرا سی دیر کو رُکنا
مِرے بے نُور ہونٹوں کی دُعاؤں پر
تُم اپنی سرد پیشانی کا پتھر رکھ کے رو دینا
بس اِتنی بات کہہ دینا
’’مجھے تُم سے محّبت ہے"
(نوشی گیلانی)
 

شمشاد

لائبریرین
وہ حرف حرف مِری رُوح مَیں اُترتا گیا
جوبات کرتا گیا اور اُداس کرتا گیا
(نوشی گیلانی)
 

محمد وارث

لائبریرین
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہے تُو باقی نہیں ہے

(اقبال)
 

شمشاد

لائبریرین
جسے آنسوؤں سے مٹائیں ہم جسے دوسروں سے چھپائیں ہم
سو یہ خیریت رہی عمر بھر کوئی حرف ایسا لکھا نہیں

ہمیں اعتبار نہیں ملا کوئی لمحہ اپنے لئے کبھی
لکھے دوسروں کے عذاب جاں‘ مگر اپنا نوحہ لکھا نہیں
(اعتبار ساجد)​
 

شمشاد

لائبریرین
آخرشب کا انتظار
رات آئی ہے
دروازے پر آ بیٹھی
اک ماں
اپنے لال کی آس میں
جانے بیٹا کب گھر آئے
راتیں یونہی ڈھل جاتی ہیں
بوڑھی آنکھیں جل جاتی ہیں
بھید نہیں کھلتا ہے ‘آخر
بیٹے دیر سے کیوں آتے ہیں
مائیں جاگتی کیوں رہتی ہیں
ان کی آنکھیں کیوں بہتی ہیں؟
(اعتبار ساجد)​
 

شمشاد

لائبریرین
فیصلہ
بارشوں کی زد میں ہوں
تو اس قدر تُو
مضطرب کیوں؟
میں نے تو اپنی
ہر اک خواہش کا موسم
تجھ کو سونپا تھا
ترے ہاتھوں میں تھا
مجھ کو ہنسی پہناتے
یا آنسو ۔ ۔ ۔
(ناہید ورک)​
 

شمشاد

لائبریرین
آہٹ
بنا آہٹ کے جاناں!
مری اکھین میں چھم سے آن اُترے ہو
مرے بھگون!
بنا پلکوں کو جھپکائے
میں بس تکتی رہی تم کو
بتاؤ تو، مرے دل کے، انوکھے چور رستوں کی
خبر کیسے ہوئی تم کو ؟؟؟
(فاخرہ بتول)​
 

عیشل

محفلین
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے،تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ ِآئینہ ساز میں
 

شمشاد

لائبریرین
واپسی

میں اِس آسیب نگری سے
بہت اُکتا گئی جاناں!
مجھے اب واپسی کی خواہشیں ڈستی ہیں ہر لمحہ
بہت سی اَن کہی باتوں کا دل پر بار ہے میرے
بہت سی اَن سُنی آہیں‘ صدائیں آ کے کہتی ہیں
چلی جاؤ‘ چلی جاؤ‘ چلی جاؤ۔۔۔۔۔۔
عجب نادِیدہ زنجیروں کا پھیلا جال ہے شاید
جو میری روح کو‘ حصار میں لے کر مجھے پامال کرتا ہے
مجھے واپس چلے جانے کی خواہش ہے
جو مجھ کو روندتی رہتی ہے مٹی میں
مگر پاؤں کہاں پر ہیں؟
(فاخرہ بتول)​
 

محمد وارث

لائبریرین
کیوں ایک ہی بار آپ انھیں رخصت نہیں کرتے
محنت کا جو پھل کھاتے ہیں، محنت نہیں کرتے

جو دیکھ چکے ہیں شفقِ شام کا منظر
چڑھتے ہوئے سورج کی عبادت نہیں کرتے

(احمد ندیم قاسمی)
 

شمشاد

لائبریرین
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
(پروین شاکر)​
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top