علامہ محمد اقبال

  1. فرقان احمد

    اقبال مسجد قرطبہ

    سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات تُو ہو اگر کم...
  2. فرحان محمد خان

    اقبال لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے- علامہ محمد اقبالؒ

    لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے بجلیاں بیتاب ہوں جن کو جلانے کے لیے وائے ناکامی فلک نے تاک کر توڑا اسے میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و درِ ملّت سے تری ایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں لوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے جمع...
  3. فرحان محمد خان

    اقبال عجب واعظ کی دیں داری ہے یا رب! - علامہ محمد اقبالؒ

    عجب واعظ کی دیں داری ہے یا رب! عداوت ہے اسے سارے جہاں سے کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں کہاں جاتا ہے آتا ہے کہاں سے وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے ہم اپنی درد مندی کا فسانہ سُنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں لرزجاتا ہے آوازِ اذاں سے علامہ...
  4. فہیم ملک جوگی

    اقبال ایک آرزو (نظم)۔علامہ اقبال

    دُنیا کی محفِلوں سے اُکتا گیا ہُوں یا رب۔ کیا لُطف انجمن کا جب دِل ہی بُجھ گیا ہو۔ شورش سے بھاگتا ہُوں ، دِل ڈھونڈتا ہے میرا۔ ایسا سکوُت جس پر تقریر بھی فِدا ہو۔ مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری ۔ دامن میں کوہ کے اِک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ آزاد فکر سے ہوں ، عُزلت میں دِن گُزاروں۔...
  5. راحیل فاروق

    اقبال خدائی اور بندگی - قطعہ

    خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے خداوندا! خدائی دردِ سر ہے ولیکن بندگی، استغفراللہ۔۔۔ یہ دردِ سر نہیں دردِ جگر ہے (اقبالؔؒ)
  6. غدیر زھرا

    اقبال علامہ اقبال کی پنجاب سے متعلق شاعری

    پنجاب کے پیر زادوں سے حاضر ہوا مَیں شیخِ مجّددؒ کی لحّد پر وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک ہے مطلعِ انوار اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اصرار گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نفّسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار وہ ہند میں سرمایہء ملّت کا نگہباں اللہ نے بروقت کیا جس...
  7. طارق شاہ

    اقبال تجھے یاد کیا نہیں ہے میرے دل کا وہ زمانہ (علامہ محمد اقبال)

    غزل علامہ محمد اقبال تجھے یاد کیا نہیں ہے میرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہِ محبت وہ نِگہ کا تازیانہ یہ بُتانِ عصْرِحاضِر کے بنے ہیں مدرِسے میں نہ ادائے کافِرانہ نہ تراشِ آزَرانہ نہیں اِس کھُلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس، نہ آشیانہ رگِ تاک مُنتَظر ہے تِری بارشِ...
  8. محمدعمرفاروق

    اقبال سے منسوب اشعار - جو علامہ اقبال کے نہیں

    السلام علیکم کچھ عرصہ سے نٹ پر چند اشعار نظر آرہے ہیں - لکھنے والے حضرات بضد تھے اقبال کے ہی ہیں۔ لیکن ریفرنس نہ دیتے۔ پھر چند دوستوں کی مشترکہ جدجہد مسلسل رنگ لائی اور کم دکھائی دینے لگے۔ زیرنظر دھاگہ کا مقصد جہاں یہ باور کرانا ہے کہ ان اشعار کو اقبال سے منسوب نہ کیا جائے اور نہ ہی تشہیر کی...
  9. ناعمہ عزیز

    اقبال فلسفہ غم از علامہ اقبال

    گو سراپا کيف عشرت ہے شراب زندگي اشک بھي رکھتا ہے دامن ميں سحاب زندگي موج غم پر رقص کرتا ہے حباب زندگي ہے 'الم' کا سورہ بھي جزو کتاب زندگي ايک بھي پتي اگر کم ہو تو وہ گل ہي نہيں جو خزاں ناديدہ ہو بلبل، وہ بلبل ہي نہيں آرزو کے خون سے رنگيں ہے دل کي داستاں نغمہ انسانيت کامل نہيں غير از...
  10. پ

    اقبال نظم - محبت ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال

    نظم - محبت ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال عروسِ شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے ستارے آسماںکے بے خبر تھے لذتِ رَم سے قمر اپنے لباسِ نو میں بیگانہ سا لگتا تھا نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلم سے ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیا مذاقِ زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے...
  11. علی فاروقی

    اقبال غرہ شوال یا ہلال عید،،،،،علامہ اقبال

    غرۂ شوال! اے نور نگاہ روزہ دار آ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار تیری پیشانی پہ تحریر پیام عید ہے شام تیری کیا ہے ، صبح عیش کی تمید ہے سرگزشت ملت بیضا کا تو آئینہ ہے اے مہ نو! ہم کو تجھ سے الفت دیرینہ ہے جس علم کے سائے میں تیغ آزما ہوتے تھے ہم دشمنوں کے خون سے رنگیں قبا ہوتے تھے...
  12. علی فاروقی

    اقبال عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں ،،،،،،،علامہ اقبال

    یہ شالامار میں اک برگ زرد کہتا تھا گیا وہ موسم گل جس کا رازدار ہوں میں نہ پائمال کریں مجھ کو زائران چمن انھی کی شاخ نشیمن کی یادگار ہوں میں ذرا سے پتے نے بیتاب کر دیا دل کو چمن میں آکے سراپا غم بہار ہوں میں خزاں میں مجھ کو رلاتی ہے یاد فصل بہار خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں...
  13. زونی

    اقبال رُباعیاتِ اقبال

    رُباعیاتِ اقبال تیرے سینے میں دم نہیں ھے ترا دم گرمیءمحفل نہیں ھے گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغِ راہ ھے منزل نہیں ھے
  14. زونی

    اقبال دل سوز سے خالی ھے ، نگہ پاک نہیں ھے! (علامہ اقبال)

    دل سوز سے خالی ھے ، نگہ پاک نہیں ھے! پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ھے ھے ذوقِ تجلّی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل ! تو نِرا صاحبِ ادراک نہیں ھے وہ آنکھ کہ ھے سرمہء افرنگ سے روشن پُر کارو سخن ساز ھے ، نمناک نہیں ھے کیا صوفی و ملّا کو خبر میرے جنوں کی ان کا سرِ دامن بھی ابھی چاک...
  15. زونی

    اقبال اپنی جولاں گاہ کو زیر آسماں سمجھا تھا میں(علامہ اقبال)

    اپنی جولاں گاہ کو زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام اس...
  16. زونی

    اقبال خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداء‌کیا ھے

    خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداء‌کیا ھے کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ھے خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ھے مقامِ گفتگو کیا ھے اگر میں کیمیا گر ہوں یہی سوزِ نفس ھے اور میری کیمیا کیا ھے نظر آئیں مجھے تقدیر کی...
  17. فاروقی

    اقبال فلسفہ............شاعر مشرق

    افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں پوشیدہ نہیں مرد قلندر کی نظر سے معلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں بھی مدت ہوئی گزرا تھا اسی راہ گزر سے الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے! پیدا ہے فقط حلقۂ ارباب جنوں میں وہ عقل کہ پا جاتی ہے شعلے کو شرر سے جس...
  18. فاروقی

    اقبال وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

    وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں...
  19. س

    اقبال فرمودہ اقبال

    غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں‌ زنجیریں کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ولایت، پادشاہی، علم اشیاء کی جہاں‌گیری یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتہ ایماں کی تفسیریں (بانگ درا)
  20. فرخ منظور

    اقبال عہدِ طفلی - علّامہ محمّد اقبال

    عہدِ طفلی (بانگ درا سے) تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر...
Top