عاطف ملک

  1. عاطف ملک

    سرائیکی کلام برائے اصلاح

    استادِ محترم الف عین جناب راحیل فاروق بھائی! جناب شاہد شاہنواز اور تمام اساتذہ کرام کی خدمت میں سرائیکی زبان میں کی گئی میری اولین کاوش برائے اصلاح پیش ہے۔ تمام محفلین سے تنقیدی اور اصلاحی آراء درکار ہیں۔ میں محفل کے کسی سرائیکی ممبر کو نہیں جانتا،سو اس کو ٹیگ کر دیا جائے۔ تیڈی کالیاں کالیاں...
  2. عاطف ملک

    قطعہ برائے اصلاح

    محترم سر الف عین عین ان اشعار پر آپ کی رائے درکار ہے۔ کیا یہ قطعہ درست ہے؟ کچھ تو احساسِ ندامت سے پشیماں ہو کر اور کچھ فخر و مباہات سے نازاں ہو کر ہم نے جب اس سے کہا "آپ سے الفت ہے ہمیں" اس نے دیکھا ہمیں حیران و پریشاں ہو کر
  3. عاطف ملک

    خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے

    استادِ محترم جناب الف عین کی اصلاح کے بعد اور ان کی تجویز پر(جو میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے) یہ غزل پیشِ نظر ہے۔ جو دل کو جوڑتے ہیں ان کو غم تنہا نہیں کرتے اگر جذبہ ہو صادق، درد آزردہ نہیں کرتے خلوصِ دل کو دولت سے کبھی تولا نہیں جاتا کسوٹی پر انا کی پیار کو پرکھا نہیں کرتے نہاں خانوں میں اس...
  4. عاطف ملک

    ایک کوشش:پردہ کیا کریں

    محترم حسیب احمد حسیب صاحب کا کلام پڑھنے کے بعد چند اشعار لکھے ہیں جو کہ اساتذہ کرام بالخصوص محترم اعجاز عبید اور محفلین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں بے پردگی حرام ہے، پردہ کیا کریں بہنوں کو یہ پیام ہے، پردہ کیا کریں پردہ ہے دل کا، آنکھ کا، اس میں بدن کا کیا؟ دھوکہ یہ خوب عام ہے،...
  5. عاطف ملک

    مرد کیوں نہیں روتا

    مرد کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز اس کی "انا" اور "خودداری" ہوتی ہے.وہ ہر بات پر سمجھوتا کر سکتا ہے لیکن اپنی "انا" پر سمجھوتا نہیں کرتا،حتیٰ کہ اس کی خاطر جان گنوانے سے بھی دریغ نہیں کرتا. اور پتا ہے یہ محبت کیا کرتی ہے؟ محبت سب سے پہلا وار ہی انسان کی انا پہ کرتی ہے. محبت کرنے والے اپنی ساری...
  6. عاطف ملک

    غزل برائے اصلاح: میرے گھر میں ہیں بہت آگ لگانے والے

    اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں تنقید اور اصلاح کی گزارش کے ساتھ پیشِ نظر ہے. مجھ کو لوٹا دو وہی دور پرانے والے کچی مٹی کے محلات بنانے والے میرا پتوں پہ خزاں کی وہ مثالیں دینا وہ تِرے وعدے کبھی دور نہ جانے والے روک رکھے ہیں کئی شعر اسی الجھن میں جان جائیں نہ تِرا نام زمانے والے مدتوں بعد...
  7. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں تِرا دل جیتنے نکلے تھے خود کو ہار آئے ہیں چرانا چاہتا تھا زندگی سے جس کی سارے غم اسی نے زندگی بھر خون کے آنسو رلائے ہیں میں شب گرداں ہوں اور پاتال سی تاریک یہ راہیں جہاں تم ہم سفر تھے راستے وہ یاد آئے ہیں ہر اک تحریر ہے میری ,فقط...
Top