وجاہت حسین حافظؔ

  1. وجاہت حسین

    غزل برائے اصلاح: ایک لمحہ کئی صدیوں میں بڑھا ہو جیسے

    سر الف عین اصلاح کی گزارش ہے۔ ایک لمحہ کئی صدیوں میں بڑھا ہو جیسے آج پھر وقت تری سمت چلا ہو جیسے پھول کھلتا ہے کئے دست کشادہ اپنا اوجِ خوشبو کے لیے محو دعا ہو جیسے نامہ بر مجھ کو ہی کہہ دیتا ہے پیغام مرے میرا کوچہ ہی ترے در کا پتا ہو جیسے زاہدِ گوشہ نشیں، رکھتا نہیں حسن کی تاب اور دکھلاتا...
  2. وجاہت حسین

    سیدنا امام حسین علیہ السلام و کربلا سے متعلق چند اشعار

    حاصلِ کربلا اے طالبِ حق، گر تو سمجھ لے اک رازِ حق سے،کرتا ہوں آگاہ اس رازِ حق سے وحشت زدہ ہیں جاگیر دار و تاج و شہنشاہ پیغامِ شبیرؑ، ماتم نہ زنجیر پیغامِ حیدرؑ ،گدی نہ درگاہ صفین و کربل کا ہے یہ حاصل الملک للہ ، الارض لله قوم و بادشاہت ذات تری، زباں تری، رنگ ترا، وطن ترا، قوم کی اصل یہ ہیں...
  3. وجاہت حسین

    منقبت: رب کی رحمت عنایت ہے ذاتِ علیؑ

    بارگاہِ مرتضویؑ میں ہدیہ عقیدت رب کی رحمت عنایت ہے ذاتِ علیؑ نورِ شمعِ ہدایت ہے ذاتِ علیؑ منتہائے نبوت نبی مصطفی ﷺ منتہائے ولایت ہے ذاتِ علیؑ مُجْتَہِد ہیں مفسر ہیں لاکھوں مگر بادشاہِ درایت ہے ذاتِ علیؑ جو منافق کو مومن سے کر دے جدا ایسی پختہ روایت ہے ذاتِ علیؑ بادشاہ شام کے ہوں مبارک...
  4. وجاہت حسین

    رباعیات

    ایک حقیر سی کوشش ہے۔ چند رباعیات پیشِ خدمت ہیں۔ ناچار سے، مجبور سے، پڑھ لیں گے سلام ہم سینہِ رنجور سے پڑھ لیں گے سلام گو فکرِ معاش میں ہیں جکڑے حافظؔ اس سال بھی ہم دور سے پڑھ لیں گے سلام دیکھو ذرا دل کو، کیا نظارہ ہے! پتھر کا جبل کیوں پارہ پارہ ہے؟ کیوں پھوٹ رہے ہیں یہ غزل کے چشمے؟ کیا عشق کے...
  5. وجاہت حسین

    غزل: رب سے ملتی ہیں اُن کی یہ عادات

    غزل رب سے ملتی ہیں ان کی یہ عادات آزماتے ہیں صبر کو دن رات عشق سے عاری پنجگانہ صلوۃ ہبل و بعل و نسر و لات و منات (یہ پانچ کفار کے بتوں کے نام ہیں) عشقِ احمد ﷺ نہیں تو کچھ بھی نہیں ہو اگرچہ تُو حافظِ مشکوۃ (مشکوۃ حدیث کی مشہور کتاب کا نام ہے) تیرا کعبہ ہے ایک آیت اگر تین سو ساٹھ میری تاویلات...
  6. وجاہت حسین

    قطعہ: مدینے جا کے بصد احترام، اے زائر!

    مدینے جا کے بصد احترام، اے زائر! تڑپ رہا ہے کوئی صبح و شام، کہہ دینا نہیں نہیں، میں نہیں اُن سے ذکر کے قابل سو میرا نام چھپا کر سلام کہہ دینا (وجاہت حسین حافظؔ)
  7. وجاہت حسین

    زیرِ تکمیل نعتیہ مثنوی سے چند اشعار

    السلام علیکم۔ اللہ کی توفیق سے اس مثنوی کا آغاز کیا ہوا ہے۔ یہ مثنوی مختلف فصول میں تقسیم ہے۔ چند منتخب اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ تخلیقِ نورِ محمدی ﷺ كُنْتُ كَنْزًا حسن کا شوقِ شہود تھی پسِ پردہ تمنائے نمود (کنت کنزاً صوفیاء اکرام کے ہاں روایت کردہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ...
  8. وجاہت حسین

    غزل برائے اصلاح

    میری بخشش کا سرِ حشر جو اعلان ہوا سُن کے زاہد بڑا حیران پریشان ہوا اک اشارے پہ مرا قلب اڑے جائے کیوں کیا ترا حکم بھی اب حکمِ سلیمانؑ ہوا؟ آپؐ کی جنبشِ لب سے جو نگینہ چمکا خاتَمِ دہر پہ سنت کبھی قرآن ہوا دل کی میزان پہ رکھ کر پرکھ اشعار اپنے فاعلاتن فعِلن بھی کوئی فرقان ہوا میری غایت کسی...
  9. وجاہت حسین

    خیر چھوڑیں، یومِ آزادی مبارک ہو جناب!

    کیا کہا یہ؟ یومِ آزادی مبارک ہو حضور! اب تو لگتا ہے مجھے یہ طعنہِ فسق و فجور بندگی اللہ کی، قانون ہو قرآن کا اصل مقصد تو یہ تھا تخلیقِ پاکستان کا کوئی بدلا مقتدی اور نے کوئی بدلا امام پہلے ہم مجبور تھے اب اختیاراً ہیں غلام مشت سے جو کم ہو داڑھی غیرتِ غماز اٹھے سود میں جکڑے ہیں لیکن کیا مجال...
  10. وجاہت حسین

    تعارف میرا تعارف

    السلام علیکم۔ میرا نام وجاہت حسین بھٹہ ہے۔ میرا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ لیکن بچپن سے ہی مسقط عمان میں مقیم ہوں۔ دینی و دنیاوی ہر قسم کے علوم سے محبت ہے اور کوشش رہتی ہے کہ زندگی علم کی طلب میں ہی گزاروں۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہوں اور ساتھ ماسٹرز بھی کر رہا ہوں جو اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ابھی ایک...
  11. وجاہت حسین

    غزل: جبکہ میخانے کا میخانہ نظر سے نکلے

    غزل جبکہ میخانے کا میخانہ نظر سے نکلے پھر کوئی کیسے نگاہوں کے اثر سے نکلے حشر میں بولا تری آنکھ کے تیروں کا شہید اِتنے دل میں لگے اور اِتنے جگر سے نکلے ہو گیا قَطْرَۂِ نَیساں جو گہر میں ہی فنا کیا یہ ممکن ہے وہ قطرہ بھی گہر سے نکلے؟ عشق کے سُوق میں کُل رب کی یہ قیمت تھی لگی چند موتی کہ جو اک...
  12. وجاہت حسین

    غزل: فنا ہے میرا وجود اُن میں حضور میں بھی غیاب بن کر

    غزل فنا ہے میرا وجود اُن میں، حضور میں بھی غیاب بن کر میں خود کو خود سے چھپا رہا ہوں، میں خود ہی خود کا حجاب بن کر اٹھیں بخارات یہ کہاں سے، یہ کس کے میخانے کی ہوا ہے کہ جذب و مستی میں مست بادل، برس رہے ہیں شراب بن کر شکستہ خاطر انہیں نہ جانو، لگا ہے جن کو یہ داغِ الفت بروزِ محشر یہ عشق والے...
  13. وجاہت حسین

    عرض بحضورِ سرورِ کونین ﷺ

    عرض بحضورِ سرورِ کونین ﷺ ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے رخ سے اٹھا نقاب کو، حسن کو آب و تاب دے عقل ہوئی ہے حکمراں، محفلِ کائنات کی عقل کو بد حواس کر، قلب کو اضطراب دے اٹھتے ہیں میرے قلب سے، تیرے شرارِ عشق اب میرے چراغِ ماند کو رونقِ آفتاب دے خاکِ وجود خشک ہے، بحرِ شعور خشک ہے روحِ...
  14. وجاہت حسین

    غزل: کبھی آب و خاک دیکھی کبھی کہکشاں سے گزرے

    غزل کبھی آب و خاک دیکھی، کبھی کہکشاں سے گزرے تری دید کی طلب میں، ترے لا مکاں سے گزرے ترے شوق کے سفر میں کہاں اک جہاں سے گزرے یہ وہاں وہاں سے گزرے، کہ نہ جو گماں سے گزرے جو حکیم تھے یگانہ، جو فصیح تھے بلا کے تری بارگہ میں آ کر خرد و زباں سے گزرے اے لطافتوں کے خالق، مجھے وہ نظر عطا کر کہ جو...
  15. وجاہت حسین

    کلام: مدارجِ سلوک الی اللہ

    مدارجِ سلوک الی اللہ: عشقِ خدا کا پیکر بن کر اپنا دل فرحان کرو اُس کی صفات کا مظہر بن کر ہر دم کو فرقان کرو اب تم محسوسات کو بھر دو نورِ عقل کے بادہ سے عقل کو پھر وجدان پلا کر سرشارِ عرفان کرو اب ڈھونڈو اس شیخ کو جس کا علم و عمل ہو سنت سا جو پالو اس کامل کو سو دل کا اسے سلطان کرو ذکر اللہ سے...
  16. وجاہت حسین

    غزل: اے سالکِ راہِ دل ذرا سن

    غزل اے سالکِ راہِ دل ذرا سن، جب پیار ہوگا دشوار ہوگا اٹھ اٹھ کے روئے گا رات میں تُو، پھر دھیرے دھیرے دیدار ہوگا روحي کی 'یا' تھی امرِ الہی، اور جاعِلٌ بانگِ بادشاہی* جس ناز سے ہے آدم بنایا، وہ بت گری کا شہکار ہوگا یہ خیر و شر کے عریاں تماشے،ظلم و ستم اور ہر سمت لاشے یہ حالِ انساں گر جبر میں...
  17. وجاہت حسین

    غزل

    غزل تب و تابِ عشق کی بات ہے، کہ یہ تابِ شمس و قمر نہیں جسے تاب ہو تری دید کی، کوئی ایسی تابِ نظر نہیں طلبِ زیارتِ یار کو، نہ سمجھ تو منزل و انتہا یہ غبارِ منزلِ عشق ہے، مگر انتہائے سفر نہیں ترا ذکر کرنے کے واسطے، نہیں احتیاجِ حروف اب ترا نام ثبت ہے قلب پر، جو فقیرِ زیر و زبر نہیں تُو جمال و...
Top