زیرِ تکمیل نعتیہ مثنوی سے چند اشعار

وجاہت حسین

محفلین
السلام علیکم۔ اللہ کی توفیق سے اس مثنوی کا آغاز کیا ہوا ہے۔ یہ مثنوی مختلف فصول میں تقسیم ہے۔ چند منتخب اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

تخلیقِ نورِ محمدی ﷺ

كُنْتُ كَنْزًا
حسن کا شوقِ شہود
تھی پسِ پردہ تمنائے نمود
(کنت کنزاً صوفیاء اکرام کے ہاں روایت کردہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس نے چاہا کہ اسے جانا جائے)

جاودانی حسن کا اظہار ہو
دید کی خاطر نگاہِ یار ہو

نازِ دلبر کو اٹھانے کے لئے
سینۂِ ہستی جلانے کے لئے

ایک ایسا جوہرِ نایاب ہو
جلوۂِ حق سے نہ جو سیراب ہو

حُسن اپنی تاب کو جس رُو کرے
دیکھ کر اُس سمت وہ ھو ھو کرے

شوق تیرا گرمیِ محفل بنا
یوں موادِ شوق سے یہ دل بنا
(دل سے مراد حقیقتِ محمدیہ ﷺ ہے)

حُسن نے خود کو کیا جب آشکار
اور نگاہِ دل ہوئی جب استوار

قلب کو شوقِ گرفتاری ہوا
قلب تیرے حسن پر واری ہوا

پھر جبینِ دل ہوئی محوِ سجود
عشق کو اس دم ملا پہلا وجود

اک زمانہ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا رہا
کون جانے کس نے کس کو کیا کہا
(سورۃ الدہر کی پہلی آیتِ مبارکہ کی طرف اشارہ ہے)

یہ ادائے عشق کیوں گمنام ہو
حسن نے چاہا، تماشا عام ہو

پھر لیے فیضانِ نورِ لم یزل
نورِ اول چمکا اُس صبحِ ازل

نورِ اول پر ہوئی یہ واردات
نورِ اول سے بنی کُل کائنات

فصل
قَالُوا أَقْرَرْنَا میں مضمر ہے یہ راز
اس حقیقت میں نہیں کوئی مجاز
(اس میں انبیاء علیہم السلام کا اللہ پاک سے عہد لینے والی آیتِ مبارکہ کی طرف اشارہ ہے)

نائبِ حق آپ ہیں، یا مصطفیٰؐ
آپ کے نائب ہیں جملہ انبیاءؑ

اور تمام انجیل و توریت و زبور
اہتمامِ آمدِ دورِ حضور

فصل
عقل پر، وجدان پر قبضہ ترا
انفس و آفاق پر غلبہ ترا

علم پر، ادراک پر حاوی ہے تُو
ذاتِ حق کا معتبر راوی ہے تُو

ہادی و مہدی، امامِ انقلاب
عالمِ اُمّی لقب، اُمّ الکتاب

واہ شانِ رحمت و فضلِ عظیم
علم میں مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَم علیم
(سورۃ النساآیت 113 کی طرف اشارہ ہے)

گر جلائے عشقِ احمدؐ کا چراغ
علم کے دامن میں ہو حق کا سراغ

فصل
جملہ خلق و کائناتِ گرد و آب
بحر میں تیرے ہیں اک ادنیٰ حباب

ہر گھڑی پیشِ أُولُو الْأَبْصَار تُو
پھر بھی ہے لَا تُدْرِكُ الْأَبْصَار تُو

فصل
ہجر کی وحشت سے دل بہنے لگے
تو صحابی آپؐ سے کہنے لگے

روزِ محشر خُلد میں یا مصطفیٰؐ
آپؐ ہونگے درمیانِ انبیاءؑ

پست ہیں اپنے مقامات آپ سے
ہو گی پھر کیونکر ملاقات آپ سے

عشق کی سمجھو انوکھی نفسیات
اس پریشانی میں مضمر تھی یہ بات

ریگ و صحرا میں اگرچہ ہیں مقیم
بزمِ احمدؐ لاکھ جنٰت النعیم

جس بھی جنت میں تری سنگت نہیں
وہ نہیں جنت نہیں جنت نہیں

فصل
جو تجھے سمجھے جدا توحید سے
نے ملے اس کو خدا توحید سے

مست ہے وہ من گھڑت توحید میں
دم بدم ابلیس کی تقلید میں

سورتِ اخلاص ہے توحید کُل
پاسبانِ رازِ کُل توحید، قُل

محورِ ایماں نہ ہو گر تیری ذات
دین بھی، ایمان بھی لات و منات

یہ شریعت، یہ طریقت، لغویات
نے صلاۃ و نے زکوٰۃ و نے نجات

آپ کی سنت صراطِ مستقیم
سرکشی و بدعتیں راہِ جحیم

اس مکمل دین کا عنوان تُو
ایماں تو، اسلام تو، احسان تُو

جن میں ہے تیری اطاعت کا جنون
وہ ہیں مصداقِ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

متقی ہے جو، حضوری میں ہے گم
مظہرِ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُم
(سورۃ حجرات کی ابتدائی آیاتِ مبارکہ کی طرف اشارہ ہے)

فصل
ہر مقام و حال سے اعلیٰ ہے تُو
جملہ قیل و قال سے بالا ہے تُو

سب قیاسات و دلائل ہیں حجاب
کیا ہے تُو؟ واللہ اعلم بالصواب
 
Top