،سید عاطف علی

  1. Khursheed

    ایک نظم میں منظر نگاری

    مسکراتے ہوئے سُرخ ہونٹوں تلے جگمگائے ترے موتیوں کی دمک جب میں تھک ہار کے پاس آیا ترے ہار بانہوں کے ڈالے گلے میں مرے اپنے ہاتھوں مرے بال بکھرا دیے گدگدائے تری چوڑیوں کی کھنک مسکراتے ہوئےسرخ ہونٹوں تلے۔۔۔۔۔ اک مصور کی جیسے ہو تصویر تم یا ہو جنت سے اتری کوئی حور تم میری مشتاق نظروں سے شرماؤ تم...
  2. سید عاطف علی

    ایک تازہ غزل۔ کوہ کن کے خمار کی باتیں

    کوہ کن کے خمار کی باتیں سنگ،آہن، شرار کی باتیں چھوڑو سب کاروبار کی باتیں دارِ ناپائدار کی باتیں اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں زندگی سے فرار کی باتیں پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور سنگ لوح مزار کی باتیں زندگی نے بتائیں شام کے وقت تنگ ہوتے حصار کی باتیں کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں دامنِ تار تار کی...
  3. سید عاطف علی

    ایک غزل : اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی

    اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی کروبیءاجل...
  4. ذیشان لاشاری

    اصلاح فرماویں یا تنقید۔ خاکسار کو خوشی ہوگی،شاکر ہوگا

    کبھی ہجر کا غم اگر دیکھتے ہیں تو ہم ساقی تیرا ہی در دیکھتے ہیں ہے خواہش کہ اڑ کر ہی منزل کو پا لیں مگر ناتوانئ پر دیکھتے ہیں انھوں نے کہا کہ ہمیں بھول جاؤ کہا ہم نے مشکل ہے پر دیکھتے ہیں مرے شعر پر داد تم کیسے دو گے کہ موتی تو اہل نظر دیکھتے ہیں ہے دل میں ہمارے تمھارا ہی چہرہ تمھیں دیکھتے...
  5. ذیشان لاشاری

    اصلاح کر کے ممنون فرماویں

    محفل میں عاشقوں کے یوں وہ جناب آئے جیسے کہ میکدے میں شب کو شراب آئے محروم سب سے مجھ کو خدایا کیا ہوا ہے نہ آئے وہ نہ آئے کوئی تو خواب آئے کل شب میں دیکھتا تھا مہ چودھویں چمکتا تم مجھ کو یاد آئے اور بے حساب آئے محفل میں غیرکی وہ ہم کو بلا رہے تھے دل نے کہا کہ بیٹھیں پر دے جواب آئے گل پر نہ...
  6. سید عاطف علی

    میرے والد صاحب کی ایک غزل۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔سبھی چپ ہیں تماشاےٴ عروج آثار سے پہلے

    سبھی چپ ہیں تماشاےٴ عروج آثار سے پہلے یہ کیسی ابتلا ہے، خندقیں ہیں دار سے پہلے عراق ایرا ن کی یلغار ہے امن و اخوت پر الہی روک دے تلوار کو تلوار سے پہلے گلوں میں ، چاند میں ،سورج میں ،کلیوں میں، ستاروں میں تجھے میں دیکھ لیتا ہوں ترے دیدار سے پہلے ضیاء میری جبیں کے زاوےٴ ناپے گئے لیکن...
Top