ایک تازہ غزل۔ کوہ کن کے خمار کی باتیں

سید عاطف علی

لائبریرین
کوہ کن کے خمار کی باتیں
سنگ،آہن، شرار کی باتیں

چھوڑو سب کاروبار کی باتیں
دارِ ناپائدار کی باتیں

اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں

پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور
سنگ لوح مزار کی باتیں

زندگی نے بتائیں شام کے وقت
تنگ ہوتے حصار کی باتیں

کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں
دامنِ تار تار کی باتیں

شبِ تیرہ کو رکھتی ہیں روشن
گیسوئے تابدار کی باتیں

وہ فقیروں میں آکے کرتے ہیں
کرسی و اقتدار کی باتیں

یہ وظیفہ ہے اب مرا شب و روز
اس کے لیل و نہار کی باتیں

کیوں طبیعت پہ جبر کرتے ہو
کر کے تم اختیار کی باتیں

چین لینے نہ دیں گی تجھ کو بھی
تیرے اک جاں نثار کی باتیں

پھر تبسم زدہ ترا وعدہ
پھر ترے انتظار کی باتیں

کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں

جز ترے ہر کوئی سمجھتا ہے
تیرے اس دل فگار کی باتیں

ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں​
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
بہت خوب، اعلیٰ
اگر اپنی کم علمی پر شرمسار ہوا جائے تو سیکھنے کا عمل یقیناً رک جائے گا اس لیے بے دھڑک سوال کر رہا ہوں کہ :)
ذرا اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ تاتاری ہرن میں کچھ منفرد خاصیت ہوتی ہے؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ غزالانِ تاتار اپنی خوبصورتی کے علاوہ اپنے نافۂ مشک کی وجہ سے بھی ممتاز ہو تے ہیں ۔
میرے خیال میں ان کی بابت کچھ اسطوری نوعیت کی روایتی خصوصیات بھی مذکور ہیں مثلاً جب نافہ میں مشک بھر جاتا ہے سے یہ سونا بند کر دیتا ہے اور اسے ہر دم اپنے نافۂ مشک کی فکر رہتی ہے تا آنکہ یہ شکار نہ ہو جائے ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عاطف بھائی ! ویسے یہ غزل آپ کے عمومی انداز سے ہٹ کر ہے اور خوب ہے ۔
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں

کیا اچھا کہا ہے! واہ!

ویسے عاطف بھائی ، کیا سنگِ مزار اور لوحِ مزار ایک ہی بات نہیں ؟!
 

سید عاطف علی

لائبریرین
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عاطف بھائی ! ویسے یہ غزل آپ کے عمومی انداز سے ہٹ کر ہے اور خوب ہے ۔
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں

کیا اچھا کہا ہے! واہ!

ویسے عاطف بھائی ، کیا سنگِ مزار اور لوحِ مزار ایک ہی بات نہیں ؟!
بہت شکریہ اور بہت آداب ظہیر بھائی ۔
بات محاوراتی طور پر تو کافی حد تک ٹھیک ہے (خصوصاً مزار کے ساتھ) لیکن لوح، سنگ سے زیادہ با معنی اور الگ چیز ہے ۔پہلے نقش لوح مزار اور حرف لوح مزار سوچا تھا لیکن پھر یہ نہ جانے یہ کیوں رکھ دیا ۔
اور بس یونہی دو تین اشعار زبان پر آگئے تو غزل کی شکل بنا ڈالی ۔ :) آپ کی پذیرائی سے کاوش وصول ہوئی ۔
 
آخری تدوین:

امین شارق

محفلین
کوہ کن کے خمار کی باتیں
سنگ،آہن، شرار کی باتیں

چھوڑو سب کاروبار کی باتیں
دارِ ناپائدار کی باتیں

اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں

پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور
سنگ لوح مزار کی باتیں

زندگی نے بتائیں شام کے وقت
تنگ ہوتے حصار کی باتیں

کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں
دامنِ تار تار کی باتیں

شبِ تیرہ کو رکھتی ہیں روشن
گیسوئے تابدار کی باتیں

وہ فقیروں میں آکے کرتے ہیں
کرسی و اقتدار کی باتیں

یہ وظیفہ ہے اب مرا شب و روز
اس کے لیل و نہار کی باتیں

کیوں طبیعت پہ جبر کرتے ہو
کر کے تم اختیار کی باتیں

چین لینے نہ دیں گی تجھ کو بھی
تیرے اک جاں نثار کی باتیں

پھر تبسم زدہ ترا وعدہ
پھر ترے انتظار کی باتیں

کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں

جز ترے ہر کوئی سمجھتا ہے
تیرے اس دل فگار کی باتیں

ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں​
بہت خوب، اعلیٰ
 
Top