نظر لکھنوی

  1. محمد تابش صدیقی

    مجموعۂ کلام ٭ غزلیاتِ نظر ٭ محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی

    الحمد للہ۔ دادا مرحوم کی تمام غزلیات اردو محفل پر پوسٹ ہو گئی ہیں۔ اس کا ایک اہم فائدہ یہ رہا کہ بڑے پیمانے پر پروف ریڈنگ ہو گئی ہے۔ جس کے لیے تمام احباب کا شکر گزار ہوں۔ :) ابھی بھی اگر کبھی کوئی غلطی نظر آئے تو بلا تعامل نشاندہی فرما دیجیے گا۔ مناسب سمجھا کہ ایک لڑی میں انڈیکس بنا دیا جائے۔...
  2. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

    واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے ان کی محفل میں ہمیں شائستہ گردانے گئے مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے کچھ نقوشِ عہدِ رفتہ خیر سے اب بھی تو ہیں لاکھ بگڑی میری صورت پھر بھی پہچانے گئے دودھ کے مجنوں تو مل جائیں گے اب بھی ہر جگہ خون دیں لیلیٰ کو اپنا...
  3. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: غم دور ہو گئے نہ ستم دور ہو گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

    غم دور ہو گئے نہ ستم دور ہو گئے خاموش اس لیے ہیں کہ مجبور ہو گئے پاسِ وفا کی اور نہ تلقین کر ہمیں دل نالہ ہائے درد سے معمور ہو گئے منصور ہی سے پوچھ قتیلِ انا ہیں جو کیوں منشرح ہوئے تھے کہ مقہور ہو گئے شغلِ مئے مجاز سے کیا کام انہیں کہ جو صہبائے دیدِ یار سے مخمور ہو گئے قول و سخن ہر ایک،...
  4. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: راہِ وفا میں اولاً کتنے ہی ہم سفر گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

    راہِ وفا میں اولاً کتنے ہی ہم سفر گئے آیا جو وقتِ امتحان جانے وہ سب کدھر گئے یادِ شباب رہ گئی عہدِ شباب اب کہاں میرے بھی دن گزر گئے تیرے بھی دن گزر گئے اپنوں سے اور غیروں سے کتنے ہی غم اٹھائے تھے زخم زباں کے ہیں ہرے، زخم سناں کے بھر گئے کالی گھٹا کا ہو سماں چاند ہو جس کے درمیاں گیسوئے...
  5. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: لا الٰہ دل نشیں دو حرفِ سادہ کیجیے ٭ نظرؔ لکھنوی

    لا الٰہَ دل نشیں دو حرفِ سادہ کیجیے کہہ کے الا اللہ پھر سب کا اعادہ کیجیے پیشِ مہماں کس طرح سے آبِ سادہ کیجیے شیخ محفل میں ہیں آئے پیش بادہ کیجیے ہیں صریحاً ازدیادِ رنج و غم کا یہ سبب آپ سے کس نے کہا، ارماں زیادہ کیجیے بادۂ وحدت ہے صاحب سَمِّ قاتل تو نہیں پی نہیں اب تک تو پینے کا ارادہ...
  6. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: ہزار دل میں مرے زخمِ انتظار آئے ٭ نظرؔ لکھنوی

    ہزار دل میں مرے زخمِ انتظار آئے خدا کرے کہ وہ اب رشکِ روزگار آئے ہوائے دہر کسی کو نہ سازگار آئے یہی سبب ہے جو آئے وہ اشک بار آئے خوشا نصیب کہ رندوں کو اذنِ ساقی ہے پیے ہی جائیں نہ جب تک انہیں خمار آئے اسی کی یاد ہے اب زندگی کا سرمایہ کسی کی بزم میں جو وقت ہم گزار آئے صعوبتوں کو بہ خندہ...
  7. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: باصواب آئے ناصواب آئے ٭ نظرؔ لکھنوی

    باصواب آئے ناصواب آئے آہِ دل کا مگر جواب آئے سرِ محفل وہ بے نقاب آئے کہنے والوں کو کچھ حجاب آئے بن ترے کوئی شب کہاں گزری تو نہ آیا تو تیرے خواب آئے جمع ہیں اہلِ ذوق و اہلِ صفا ساقیا اب شرابِ ناب آئے بزمِ ہستی میں کون ٹھہرا ہے جو بھی آئے وہ پارکاب آئے دل کی بستی بھی کوئی بستی ہے آئے دن اس...
  8. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: کرم اتنا خدائے قادر و قیوم ہو جائے ٭ نظرؔ لکھنوی

    کرم اتنا خدائے قادر و قیوم ہو جائے ہے جس کی یہ اُسی کی امتِ مرحوم ہو جائے محبت کا یہ جذبہ دل سے گر معدوم ہو جائے نہ جانے پھر بشر کس نام سے موسوم ہو جائے یہ کیا ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے میں بتلا نہیں سکتا کسی سے عشق ہو دل میں تو خود معلوم ہو جائے مجھے قسمت پہ پروانوں کی اکثر رشک آتا ہے جو ہے مقسوم...
  9. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: خرد ہُشیار ہو جائے انا بیدار ہو جائے ٭ نظرؔ لکھنوی

    خرد ہُشیار ہو جائے انا بیدار ہو جائے کچھ ایسے حادثہ سے دل مرا دوچار ہو جائے قیامت جھیلنے کو پہلے دل تیار ہو جائے کرے پھر آرزو اس حسن کا دیدار ہو جائے ہجومِ غم کی یورش بے اثر بے کار ہو جائے نہ خود احساسِ دل گر در پئے آزار ہو جائے سیہ خانہ یہ دل قندیلِ صد انوار ہو جائے اگر ان کی توجہ کی نظر اک...
  10. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: خوشیاں کہاں نصیب ہیں غم دل میں بس رہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    خوشیاں کہاں نصیب ہیں غم دل میں بس رہے جیتے ہوئے بھی جینے کو ہم تو ترس رہے گلشن میں ہم رہے کہ میانِ قفس رہے آزردہ قلب و شعلہ بجاں ہر نفس رہے جب زندگی پہ موت کا ہونے لگے گماں ایسے میں زندگی کی بھلا کیا ہوس رہے دریا کے پار اتر گئے تھا جن میں حوصلہ مُنہ دیکھتے رہے وہ جنھیں پیش و پس رہے پھوٹا ہے...
  11. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: گھٹا مہیب بلاؤں کی سر پہ چھائی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    گھٹا مہیب بلاؤں کی سر پہ چھائی ہے دہائی ہے مرے اللہ تری دہائی ہے سمجھ میں بات یہی تجربہ سے آئی ہے صلہ وفا کا زمانے سے، بے وفائی ہے غموں کی دل سے مرے طاقت آزمائی ہے یہ دیکھنا ہے کہ اب کس کی شامت آئی ہے ہنسے نہ گُل نہ کلی کوئی مسکرائی ہے چمن میں شور ہے لیکن بہار آئی ہے بھنور میں لا کہ...
  12. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: آہ کش ہوں نہ لب کشائی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    آہ کش ہوں نہ لب کشائی ہے اے محبت تری دہائی ہے جب سے توحید کی پلائی ہے دل پہ مستی عجیب چھائی ہے موت بڑھ کر قریب آئی ہے طولِ ہجراں تری دہائی ہے ذرہ ذرہ سے آشکارا وہ خود نمائی سی خود نمائی ہے ہیں عجب چیز ناصحِ ناداں جب ملے جان ہی چھڑائی ہے حشر میں وہ ہے شافعِ محشر اپنی بگڑی بنی بنائی ہے...
  13. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: اسیرِ آز ہوتی جا رہی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    اسیرِ آز ہوتی جا رہی ہے نگہ ناساز ہوتی جا رہی ہے صدائے احتجاجِ وقت اب تو مری آواز ہوتی جا رہی ہے لگاوٹ حسنِ خودبیں میں ہے جتنی وہ صرفِ ناز ہوتی جا رہی ہے طبیعت پر حقیقت کیا کھلے گی گماں آغاز ہوتی جا رہی ہے خود اپنے نفس کے اندر سنو تو کوئی آواز ہوتی جا رہی ہے بڑھا ہے امتیازِ خیر و شر...
  14. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: ہزار چھوڑ کے نقش و نگار گزری ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    ہزار چھوڑ کے نقش و نگار گزری ہے کہ جب خیال سے تصویرِ یار گزری ہے صبا کے دوش پہ ہو کر سوار گزری ہے وہ بوئے زلفِ دوتا مشکبار گزری ہے جب آئی کر کے مجھے دل فگار گزری ہے وطن کی یاد مرے دل پہ بار گزری ہے ہنوز یاد سے جس کی کلی کھِلے دل کی چمن سے ایسی بھی طرفہ بہار گزری ہے ترے بغیر بھی دنیا گزار...
  15. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: جنگِ ستمبر 1965ء ٭ نظرؔ لکھنوی

    وہ موسمِ گرما، وہ شبِ ماہِ ستمبر دشمن کے خطرناک عزائم کا وہ منظر جب سرحدِ لاہور میں در آئے تھے چھپ کر مکار و جفا کار و سیہ کار و ستمگر سب بسترِ راحت سے ہم آغوش پڑے تھے دن بھر کے تھکے خواب میں مدہوش پڑے تھے مہتاب جبیں گھر میں ردا پوش پڑے تھے طفلانِ حسیں گود میں خاموش پڑے تھے ناگاہ فضا میں...
  16. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: خلش کی بڑھ کے دردِ بیکراں تک بات پہنچی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    خلش کی بڑھ کے دردِ بیکراں تک بات پہنچی ہے محبت کی ذرا دیکھیں کہاں تک بات پہنچی ہے نکل کر آہِ دل میری سرِ عرشِ بریں پہنچی درونِ دل سے چل کر آسماں تک بات پہنچی ہے جو منزل تک پہنچ کر اُف پلٹ آیا ہے منزل سے اسی گم کردہ منزل کارواں تک بات پہنچی ہے نگاہیں بار بار اٹھتی ہیں سوئے آسماں میری حدیثِ...
  17. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے٭ نظرؔ لکھنوی

    بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے محبت کی خلش اب معتبر معلوم ہوتی ہے تقاضے لا الہ کے ہم نفس اُتنے ہی زیادہ ہیں بظاہر بات جتنی مختصر معلوم ہوتی ہے بہ ہر لغزش جھجکتا ہوں، سنبھلتا ہوں، ٹھہرتا ہوں نگہباں رحمتِ خیر البشرؐ معلوم ہوتی ہے خدا بیزاریِ دنیا فزوں تر آئے دن ہے کیوں یہ تہذیبِ...
  18. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: عمر ہائے تمام ہوتی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    عمر ہائے تمام ہوتی ہے آج قیدِ دوام ہوتی ہے رشکِ توحید وہ بسا دل میں کب درایں خانہ شام ہوتی ہے آدمی کو گرا دے پستی میں جب زباں بے لگام ہوتی ہے اُف مری حرصِ بادہ آشامی خواہشِ دُرد و جام ہوتی ہے ان کی محفل میں ایک میں ہی نہیں اور دنیا تمام ہوتی ہے دور منزل ہے اور ہم پیچھے ہائے رستہ میں...
  19. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: جو راہِ حق سے طبیعت کبھی بھٹکتی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    جو راہِ حق سے طبیعت کبھی بھٹکتی ہے مثالِ خار کوئی دل میں شے کھٹکتی ہے جہاں بھی دیکھیے انسانیت سسکتی ہے رُخِ حیات سے حسرت سی اک ٹپکتی ہے جو محوِ خواب تھے دنیا سے ٹھوکریں کھائیں کھلی جو آنکھ تو دنیا ہمیں تھپکتی ہے جو سوچتا ہوں کہ تعمیرِ آشیاں کر لوں معاً خیال میں بجلی سی اک چمکتی ہے اٹھا...
  20. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: کس قدر جنسِ جفا عام ہوئی جاتی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

    کس قدر جنسِ جفا عام ہوئی جاتی ہے ہر وفا کوششِ ناکام ہوئی جاتی ہے دور تر اَز رہِ اسلام ہوئی جاتی ہے زندگی موت کا پیغام ہوئی جاتی ہے حیف دلدادۂ اوہام ہوئی جاتی ہے امتِ خیر یہ بدنام ہوئی جاتی ہے ہوسِ بادۂ گلفام نہیں کم ہوتی سعیِ توبہ مری ناکام ہوئی جاتی ہے دور منزل ہے نگاہوں سے ابھی رہرو کی بیچ...
Top