نظر لکھنوی غزل: واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 11, 2018

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,273
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے
    ان کی محفل میں ہمیں شائستہ گردانے گئے

    مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو
    بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے

    کچھ نقوشِ عہدِ رفتہ خیر سے اب بھی تو ہیں
    لاکھ بگڑی میری صورت پھر بھی پہچانے گئے

    دودھ کے مجنوں تو مل جائیں گے اب بھی ہر جگہ
    خون دیں لیلیٰ کو اپنا ایسے دیوانے گئے

    سوزِ الفت کا اثر تھا دیدنی مطلوب میں
    شمع بھی گھلتی گئی مرتے جو پروانے گئے

    کچھ درخشندہ حقائق مجھ سے جو منسوب تھے
    کم نصیبی سے مری بنتے وہ افسانے گئے

    عقل الجھی ہی رہی چون و چرا میں اے نظرؔ
    عشق میں دل کے کیے سب فیصلے مانے گئے

    ٭٭٭
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ ! بہت خوب!
    مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو
    بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے
    کیا اچھا شعر ہے!

    تابش بھائی ، آخری شعر کے دوسرے مصرع میں جو افسانے کے بجائے وہ افسانے ہونا چاہیے ۔ ٹائپو لگ رہا ہے ۔ درست کرلیجئے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,987
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    عقل الجھی ہی رہی چون و چرا میں اے نظرؔ
    عشق میں دل کے کیے سب فیصلے مانے گئے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    14,028
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
    خوبصورت غزل۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    بہت خوب!
    آپ کے دادا جان نے جہاں جہاں عقل و عشق پر کلام کیا ہے، پڑھ کے بے اختیار اقبال یاد آئے۔ لیکن جناب نظر لکھنوی کا اپنا منفرد انداز ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر