نظر لکھنوی غزل: واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

واقفِ آدابِ محفل بس ہمیں مانے گئے
ان کی محفل میں ہمیں شائستہ گردانے گئے

مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو
بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے

کچھ نقوشِ عہدِ رفتہ خیر سے اب بھی تو ہیں
لاکھ بگڑی میری صورت پھر بھی پہچانے گئے

دودھ کے مجنوں تو مل جائیں گے اب بھی ہر جگہ
خون دیں لیلیٰ کو اپنا ایسے دیوانے گئے

سوزِ الفت کا اثر تھا دیدنی مطلوب میں
شمع بھی گھلتی گئی مرتے جو پروانے گئے

کچھ درخشندہ حقائق مجھ سے جو منسوب تھے
کم نصیبی سے مری بنتے وہ افسانے گئے

عقل الجھی ہی رہی چون و چرا میں اے نظرؔ
عشق میں دل کے کیے سب فیصلے مانے گئے

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
واہ ! بہت خوب!
مٹتے مٹتے مٹ گئے راہِ وفا میں لوگ جو
بعد والوں میں نشانِ راہ وہ مانے گئے
کیا اچھا شعر ہے!

تابش بھائی ، آخری شعر کے دوسرے مصرع میں جو افسانے کے بجائے وہ افسانے ہونا چاہیے ۔ ٹائپو لگ رہا ہے ۔ درست کرلیجئے۔
 

عرفان سعید

محفلین
عقل الجھی ہی رہی چون و چرا میں اے نظرؔ
عشق میں دل کے کیے سب فیصلے مانے گئے
بہت خوب!
آپ کے دادا جان نے جہاں جہاں عقل و عشق پر کلام کیا ہے، پڑھ کے بے اختیار اقبال یاد آئے۔ لیکن جناب نظر لکھنوی کا اپنا منفرد انداز ہے۔
 
Top