نظر لکھنوی غزل: غم دور ہو گئے نہ ستم دور ہو گئے ٭ نظرؔ لکھنوی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 11, 2018

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,320
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    غم دور ہو گئے نہ ستم دور ہو گئے
    خاموش اس لیے ہیں کہ مجبور ہو گئے

    پاسِ وفا کی اور نہ تلقین کر ہمیں
    دل نالہ ہائے درد سے معمور ہو گئے

    منصور ہی سے پوچھ قتیلِ انا ہیں جو
    کیوں منشرح ہوئے تھے کہ مقہور ہو گئے

    شغلِ مئے مجاز سے کیا کام انہیں کہ جو
    صہبائے دیدِ یار سے مخمور ہو گئے

    قول و سخن ہر ایک، ہر اک ان کا خوش عمل
    واللہ مری حیات کے دستور ہو گئے

    ہشیار آسماں ہو نظرؔ اب ہمارے دل
    آہِ فلک شگاف سے بھر پور ہو گئے

    ٭٭٭
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,814
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    سبحان اللہ!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر