نظر لکھنوی غزل: باصواب آئے ناصواب آئے ٭ نظرؔ لکھنوی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 9, 2018

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    باصواب آئے ناصواب آئے
    آہِ دل کا مگر جواب آئے

    سرِ محفل وہ بے نقاب آئے
    کہنے والوں کو کچھ حجاب آئے

    بن ترے کوئی شب کہاں گزری
    تو نہ آیا تو تیرے خواب آئے

    جمع ہیں اہلِ ذوق و اہلِ صفا
    ساقیا اب شرابِ ناب آئے

    بزمِ ہستی میں کون ٹھہرا ہے
    جو بھی آئے وہ پارکاب آئے

    دل کی بستی بھی کوئی بستی ہے
    آئے دن اس میں انقلاب آئے

    راہِ حق میں بڑے مسافر تھے
    کم ہی نکلے جو کامیاب آئے

    صبح تک آہ و نالہ و گریہ
    رات لے کر بڑا عذاب آئے

    جب ہوا خونِ آرزوئے دل
    اشک آنکھوں میں بے حساب آئے

    دل وہ بخشا نظرؔ کو فطرت نے
    ہر بری شے سے اجتناب آئے

    ٭٭٭
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
     
    • زبردست زبردست × 5
  2. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,338
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    باصواب
    سیدھا راستہ
    ناصواب
    غلط راستہ
     
  4. م حمزہ

    م حمزہ محفلین

    مراسلے:
    4,541
    موڈ:
    Cool
    کیا خوب لکھا ہے۔ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,333
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    خالص غزل کا رنگ صفحہ قرطاس پہ بکھیرا ہے!
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 27, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر