نظر لکھنوی غزل: ہزار دل میں مرے زخمِ انتظار آئے ٭ نظرؔ لکھنوی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 10, 2018

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,320
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہزار دل میں مرے زخمِ انتظار آئے
    خدا کرے کہ وہ اب رشکِ روزگار آئے

    ہوائے دہر کسی کو نہ سازگار آئے
    یہی سبب ہے جو آئے وہ اشک بار آئے

    خوشا نصیب کہ رندوں کو اذنِ ساقی ہے
    پیے ہی جائیں نہ جب تک انہیں خمار آئے

    اسی کی یاد ہے اب زندگی کا سرمایہ
    کسی کی بزم میں جو وقت ہم گزار آئے

    صعوبتوں کو بہ خندہ جبیں کیا انگیز
    اسی طلب میں کہ اے کاش کوئے یار آئے

    ہم آخرش کہ قیامت کی نیند سوئے ہیں
    قرار اب تجھے اے چشمِ انتظار آئے

    سنا جو ذکرِ بہاراں تو تیرے دیوانے
    بہ چشمِ تر بہ گریبانِ تار تار آئے

    مری نظرؔ سے نہ گزرو خیال میں آؤ
    ہمارے دل کو کچھ اپنا بھی اعتبار آئے
    ٭٭٭
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. تنہا سید

    تنہا سید محفلین

    مراسلے:
    4
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    عمدہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر