نظر لکھنوی غزل: خرد ہُشیار ہو جائے انا بیدار ہو جائے ٭ نظرؔ لکھنوی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2018

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,364
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خرد ہُشیار ہو جائے انا بیدار ہو جائے
    کچھ ایسے حادثہ سے دل مرا دوچار ہو جائے

    قیامت جھیلنے کو پہلے دل تیار ہو جائے
    کرے پھر آرزو اس حسن کا دیدار ہو جائے

    ہجومِ غم کی یورش بے اثر بے کار ہو جائے
    نہ خود احساسِ دل گر در پئے آزار ہو جائے

    سیہ خانہ یہ دل قندیلِ صد انوار ہو جائے
    اگر ان کی توجہ کی نظر اک بار ہو جائے

    میں ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دیتا ہوں
    سکوں سے سانس لینا تک بھی جب دشوار ہو جائے

    نشاطِ زندگی منت پذیرِ مرگ ہے یعنی
    نہ مرنا ہو تو جینے ہی سے دل بیزار ہو جائے

    دلِ ویراں کی ویرانی مجھے تسلیم ہے لیکن
    ابھی تم اک نظرؔ ڈالو یہی گلزار ہو جائے

    ٭٭٭
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,881
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Hungover
    واہ واہ! قیامت کا شعر ہے
    زبردست
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر