ghazal

  1. محمد وارث

    یاس مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا - یاس یگانہ چنگیزی

    مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا بُرا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا کبھی گمراہ ہو کر راہ پر آنا نہیں آتا مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا دلِ بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں وہ آنسو کیا پئے گا...
  2. زونی

    احمد ندیم قاسمی انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا - احمد ندیم قاسمی

    انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا تو پجاری بقاء کا تھا اس رشتہء لطیف کے اسرار کیا کھلیں تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا ٹوٹا تو کتنے آئینہ خانوں پہ زد پڑی اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا چھپ چھپ...
  3. محمد وارث

    احمد ندیم قاسمی ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے - احمد ندیم قاسمی

    ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے...
  4. ش

    شکیب جلالی گلے ملا نہ کبھی چاند ، بخت ایسا تھا

    گلے ملا نہ کبھی چاند ، بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا ستارے سِسکیاں بھرتے تھے، اوس روتی تھی فسانئہِ جگرِ لخت لخت ایسا تھا ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا ، دل کا سخت ایسا تھا یہ اور بات کہ وہ لَب تھے پھول سے نازک کوئی نہ سہہ سکے ، لہجہ کرخت ایسا تھا...
  5. زونی

    بشیر بدر اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو (بشیر بدر)

    اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو تو جانتا نہیں مری چاہت عجیب ہے مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو تو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو پت جھڑ کے ٹوٹتے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ موسم کبھی تو بدلے گا ، یہ آسرا...
  6. ی

    عدیم ہاشمی فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا آئنہ تو...
  7. زونی

    نوشی گیلانی خواب کے قیدی رہے تو (نوشی گیلانی)

    خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی پھر وہاں جو لوگ...
  8. محمد وارث

    کون کسی کا یار ہے سائیں - راغب مراد آبادی

    کون کسی کا یار ہے سائیں یاری بھی بیوپار ہے سائیں یہ بھی جھوٹا، وہ بھی جھوٹا جھوٹا سب سنسار ہے سائیں ہم تو ہیں بس رمتے جوگی آپ کا تو گھر بار ہے سائیں کب سے اُس کو ڈھونڈ رہا ہوں جس کو مجھ سے پیار ہے سائیں کرودھ کپٹ ہے جس کے من میں مفلس اور نادار ہے سائیں ڈول رہی ہے پریم کی نیا داتا کھیون...
  9. زونی

    ناصر کاظمی سفرِ منزلِ شب یاد نہیں (ناصر کاظمی)

    سفرِ منزلِ شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول اک صورت تھی عجب یاد نہیں ایسا الجھا ہوں غمِ دنیا میں ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار...
  10. زونی

    احمد ندیم قاسمی کس کو قاتل میں کہوں (احمد ندیم قاسمی)

    کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیحا سمجھوں سب یہاں دوست ہی بیٹھے ہیں کسے کیا سمجھوں وہ بھی کیا دن تھے کہ ہر وہم یقیں ہوتا تھا اب حقیقت نظر آئے تو اسے کیا سمجھوں دل جو ٹوٹا تو کئی ہاتھ دعا کو اٹّھے ایسے ماحول میں اب کس کو پرایا سمجھوں ظلم یہ ھے کہ ھے یکتا تیری بیگانہ روی...
  11. محمد وارث

    جون ایلیا عمر گزرے گی امتحان میں کیا ۔ جون ایلیا

    عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا مری ہر بات بے اثر ہی رہی نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا خود کو دنیا سے مختلف جانا آگیا تھا مرے گمان میں کیا ہے نسیمِ بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا یوں جو تکتا...
  12. حجاب

    اقبال عظیم تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی - اقبال عظیم

    تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی تو یاد رہے ہم سے بھی ویسی ہی سنو گی یہ ہمسفری مصلحتِ وقت تھی ورنہ یہ تو ہمیں معلوم تھا تم ساتھ نہ دوگی یہ تازہ ستم ہم کو گوارہ تو نہیں ہے ہم یہ بھی سہہ لیتے ہیں کیا یاد کرو گی ہم شوق میں برباد ہوئے اپنے ہی ہاتھوں روداد ہماری جو سنو گی تو ہنسو گی...
  13. حجاب

    ستا ستا کے ہمیں اشکبار کرتی ہے۔۔۔

    ستا ستا کے ہمیں اشکبار کرتی ہے تمہاری یاد بہت بیقرار کرتی ہے وہ دن جو ساتھ گزارے تھے پیار کے ہم نے تلاش اُن کو نظر بار بار کرتی ہے گِلہ نہیں جو نصیبوں نے کر دیا ہے جُدا تیری جدائی بھی اب ہم کو پیار کرتی ہے کنارے بیٹھ کے جس کے کئے تھے قول و قرار ندی وہ اب بھی تیرا انتظار کرتی ہے (...
  14. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    عزیزانِ بزم ایک تازہ غزل آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، امید ہے اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے ہر سمت خدا ہیں، کوئی انسان نہیں ہے طاقت کے نشے میں جو لہو سچ کا بہائے ظالم ہے، لٹیرا ہے وہ سلطان نہیں ہے یہ بات غلط ہے کہ میں باطل کو نہ جانوں یہ سچ ہے مجھے...
  15. محمد وارث

    غزل ۔ جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا ۔ مجروح سلطانپوری

    جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا میں تو جب جانوں کہ بھر دے ساغرِ ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیرِ...
  16. محمد وارث

    جاوید اختر جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

    جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو سنگِ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر گلشن خوشبو، کوئل کو کو، مستی دارو، میں اور تُو بانبی ناگن، چھایا آنگن، گنگھرو چھن چھن، آشا من آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی، سانسیں...
  17. محمد وارث

    عالی خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں ۔ جمیل الدین عالی

    خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمھیں میری پسند میرے نام پر نہ حرف آئے بہت حسیں بہت با وفا کہوں گا تمھیں ہزار دوست ہیں، وجہِ ملال پوچھیں گے سبب تو صرف تمھی ہو، میں کیا کہوں گا تمھیں ابھی سے ذہن میں رکھنا نزاکتیں میری کہ ہر نگاہِ کرم پر خفا کہوں گا تمھیں...
  18. حجاب

    وہ یوں ملا کہ ۔۔۔۔۔۔خفا خفا سا لگا۔۔۔

    وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا وہ دوسروں سے مگر مجھ کو کچھ جدا سا لگا مزاج اُس نے نہ پوچھا مگر سلام لیا یہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ بھلا سا لگا وہ جس کی کم سُخنی کو غرور سمجھا گیا میری نگاہ کو وہ پیکرِ حیا سا لگا میں اپنے کرب کی روداد اُس سے کیا کہتا خود اُس کا دل بھی مجھے کچھ...
  19. زینب

    میں خواب بن کے اسے نیندوں میں دیکھائی دوں

    میں خواب بن کے اسے نیندوں میں دیکھائی دوں وہ میرا قرب جو چاہے تو میں جدائی دوں کتاب کھول کے بیٹھے تو میرا چہرا ہو میں ورق ورق میں اسے دیکھائی دوں تڑپ‌ تڑپ کے مجھے مانگتا رہے لیکن۔۔ سوائے اپنے میں اسے ساری خدائی دوں
  20. زینب

    تجھے عشق ہو خدا کرے۔۔۔!

    تجھے عشق ہو خدا کرے،کوئی آس کو تجھ سے جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جایئں،تیری آنکھ پرنم رہا کرے تو اس کی باتیں کیا کرے،تو اس کی باتیں سنا کرے تو اس کو دیکھ کر رکا کرے،وہ تجھ کو دیکھ کر چلا کرے تجھے سحر کی وہ چھڑی لگے توملن کی ہر پل دعا کرے تو تڑپے اسی کے عشق میں۔اسے بھولنے کی دعا...
Top