فیض

  1. فرخ منظور

    فیض اب کے برس دستورِ ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے ۔ فیض احمد فیض

    اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے اک گل کے...
  2. فرخ منظور

    فیض گاؤں کی سڑک ۔ فیض احمد فیض

    گاؤں کی سڑک یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ خوشا...
  3. فرخ منظور

    فیض میرے ملنے والے ۔ فیض احمد فیض

    میرے ملنے والے وہ در کھلا میرے غمکدے کا وہ آ گئے میرے ملنے والے وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں فرشِ افسردگی بچھانے وہ آگئی رات چاند تاروں کو اپنی آزردگی سنانے وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے یاد کے زخم کو منانے وہ دوپہر آئی آستیں میں چھپائے شعلوں کے تازیانے یہ آئے سب میرے ملنے والے کہ جن سے دن رات واسطا...
  4. فرخ منظور

    فیض نذرِ حافظ ۔ فیض احمد فیض

    نذرِ حافظ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ حالِ چمن پر تلخ نوائی مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ دل شکنی بھی، دلداری بھی یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ...
  5. فرخ منظور

    فیض کیا کریں ۔ فیض احمد فیض

    کیا کریں مری تری نگاہ میں جو لاکھ انتظار ہیں جو میرے تیرے تن بدن میں لاکھ دل فگار ہیں جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے سب قلم نزار ہیں جو میرے تیرے شہر کی ہر اک گلی میں میرے تیرے نقش ِ پا کے بے نشاں مزار ہیں جو میری تیری رات کے ستارے زخم زخم ہیں جو میری تیری صبح کے گلاب چاک چاک ہیں یہ زخم...
  6. فرخ منظور

    فیض جلا پھر صبر کا خرمن، پھر آہوں کا دھواں اٹھّا ۔ فیض احمد فیض

    جلا پھر صبر کا خرمن، پھر آہوں کا دھواں اٹھّا ہوا پھر نذرِ صرصر ہر نشیمن کا ہر اِک تنکا ہوئی پھر صبحِ ماتم آنسوؤں سے بھر گئے دریا چلا پھر سوئے گردوں کاروانِ نالۂ شب ہا ہر اِک جانب فضا میں پھر مچا کہرامِ یارب ہا امڈ آئی کہیں سے پھر گھٹا وحشی زمانوں کی فضا میں بجلیاں لہرائیں پھر سے تازیانوں کی...
  7. وپل کمار

    فیض ہوسِ منزلِ لیلا نہ تجھے ہے نہ مجھے (اصل فارسی غزل کے ساتھ)(از اقبال)

    انتخاب از فیض احمد فیض ہوسِ منزلِ لیلا نہ تجھے ہے نہ مجھے تابِ سرگرمیِ صحرا نہ تجھے ہے نہ مجھے میں بھی ساحل سے خزف چنتا رہا ہوں، تو بھی حاسل اک گوہرِ جدّا نہ تجھے ہے نہ مجھے چھوڈیٔے یوسفِ گمگشتہ کی کیا بات کریں شدّتِ سوقِ زلیخا نہ تجھے ہے نہ مجھے اک چراغِ تحِ داماں ہی بہت ہے ہم کو طاقت جلوۂ...
  8. فرخ منظور

    فیض سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں ۔ فیض احمد فیض

    سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبحِ وصال کا، کئی شامِ ہجر کی مدّتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا، تو رہے گا دامنِ دل میں کیا نہ کسی عدو کی عداوتیں، نہ کسی صنم کی...
  9. فرخ منظور

    فیض چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا ۔ فیض احمد فیض

    چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شبِ تنہائی کا دولتِ لب سے پھر اے خسروِ شیریں دہناں آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا گرمیِ رشک سے ہر انجمنِ گُل بدناں تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا صحنِ گلشن میں کبھی اے شہِ شمشاد قداں پھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کا ایک بار اور مسیحائے...
  10. فرخ منظور

    فیض ہم تو مجبورِ وفا ہیں ۔ فیض احمد فیض

    ہم تو مجبورِ وفا ہیں تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی خواب کتنے تری...
  11. فرخ منظور

    فیض یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے ۔ فیض احمد فیض

    یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے ٹھہر گئی آسماں کی ندیا وہ جا لگی افق کنارے اداس رنگوں کی چاندنیّا اتر گئے ساحلِ زمیں پر سبھی کھویّا تمام تارے اکھڑ گئی سانس پتیوں کی چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں گجر بچا حکمِ خامشی کا تو چپ میں گم ہوگئی صدائیں سحر کی گوری کی چھاتیوں سے ڈھلک گئی تیرگی کی چادر اور اس بجائے...
  12. فرخ منظور

    فیض کوئی عاشق کسی محبوبہ سے! ۔ فیض

    کوئی عاشق کسی محبوبہ سے! گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد...
  13. فرخ منظور

    فیض مقتل میں نہ مسجد نہ خرابات میں کوئی ۔ فیض احمد فیض

    مقتل میں نہ مسجد نہ خرابات میں کوئی ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں شاید کوئی ان میں سے کفن پھاڑ کے نکلے اب جائیں شہیدوں کے مزاروں پہ اذاں دیں بیروت 79 ؁ (مرے دل مرے مسافر)
  14. فرخ منظور

    فیض نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے ۔ فیض احمد فیض

    غزل نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے صفِ زاہداں ہے تو بے یقیں، صفِ میکشاں ہے تو بے طلب نہ وہ صبح درود و وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں یہ نظرتھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک...
  15. فرخ منظور

    فیض ایک شہرِ آشوب کا آغاز ۔ فیض احمد فیض

    ایک شہرِ آشوب کا آغاز اب بزمِ سخن صحبتِ لب سوختگاں ہے اب حلقۂ مے طائفۂ بے طلباں ہے گھر رہیے تو ویرانیِ دل کھانے کو آوے رہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے پیوندِ رہِ کوچۂ زر چشمِ غزالاں پابوسِ ہوس افسرِ شمشاد قداں ہے یاں اہلِ جنوں یک بہ دگر دست و گریباں واں جیشِ ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہے...
  16. فرخ منظور

    فیض بَلیک آؤٹ ۔ فیض احمد فیض

    بَلیک آؤٹ جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں خاک میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جا کھو گئی ہیں میری دونوں آنکھیں تم جو واقف ہو بتاؤ کوئی پہچان مری اس طرح ہے کہ ہر اِک رگ میں اُتر آیا ہے موج در موج کسی زہر کا قاتل دریا تیرا ارمان، تری یاد لیے جان مری جانے کس موج میں غلطاں ہے کہاں دل میرا ایک پل...
  17. فرخ منظور

    فیض تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے ۔ فیض احمد فیض

    تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے نہ شب کو دن سے شکایت ، نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گِلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہُوا ہے جب سے دلِ ناصبُور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شررِ ہے تو بھڑکے ، جو پھول ہے تو کِھلے طرح طرح کی طلب ، تیرے رنگِ لب سے ہے...
  18. فرخ منظور

    فیض ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے ۔ فیض

    ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ رہگزار چلے گئے تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں نہ شکایتیں ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے یہ ہمیں تھے جن...
  19. فرخ منظور

    فیض پیکنگ ۔ فیض احمد فیض

    پیکنگ یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے میرے کیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری میرے مقدور میں ہے معجزۂ کُن فَیَکُوں
  20. فرخ منظور

    فیض شاید کبھی افشا ہو،نگاہوں پہ تمہاری ۔ فیض

    سرآغاز شاید کبھی افشا ہو،نگاہوں پہ تمہاری ہر سادہ ورق، جس سخنِ کُشتہ سے خوں ہے شاید کبھی اُس گیت کا پرچم ہو سرافراز جو آمدِ صرصر کی تمنا میں نگوں ہے شاید کبھی اُس دل کی کوئی رگ تمہیں چُبھ جائے جو سنگِ سرِراہ کی مانند زبوں ہے
Top