الف عین ،

  1. ریحان احمد ریحانؔ

    برائے اصلاح"کنجِ زنداں سے جدا شہرِ ستم گار نہیں"

    یہ الگ بات حصارِ در و دیوار نہیں کنجِ زنداں سے جدا شہرِ ستم گار نہیں بر سرِ دار بھی کہہ دیں گے جو حق بات ہوئی ہم کسی ظالم و جابر کے طرفدار نہیں کیوں ہنسے ہے مری صد چاک قبا پر دنیا میری محرومی تو محرومئ کردار نہیں تم جو آؤ تو سرِ راہ بچھا دیں پلکیں تم نہ آؤ تو ہمیں اس پہ بھی تکرار نہیں...
  2. Khursheed

    ایک نظم میں منظر نگاری

    مسکراتے ہوئے سُرخ ہونٹوں تلے جگمگائے ترے موتیوں کی دمک جب میں تھک ہار کے پاس آیا ترے ہار بانہوں کے ڈالے گلے میں مرے اپنے ہاتھوں مرے بال بکھرا دیے گدگدائے تری چوڑیوں کی کھنک مسکراتے ہوئےسرخ ہونٹوں تلے۔۔۔۔۔ اک مصور کی جیسے ہو تصویر تم یا ہو جنت سے اتری کوئی حور تم میری مشتاق نظروں سے شرماؤ تم...
  3. ریحان احمد ریحانؔ

    عشق میں یوں تو کیا نہیں ہوتا

    عشق میں یوں تو کیا نہیں ہوتا نالۂ دل رسا نہیں ہوتا کوئی انساں بھی زندگانی میں بندِ غم سے رہا نہیں ہوتا تم سمجھتے ہو تو سمجھتے رہو ورنہ پتھر خدا نہیں ہوتا ہو نہ گر نظرِ آتشِ الفت نخل دل کا ہرا نہیں ہوتا ہر مرض کی دوا نہیں ممکن ہر مرض لا دوا نہیں ہوتا اس کا جینا بھی کوئی جینا ہے جو کسی پر فدا...
  4. ریحان احمد ریحانؔ

    نظم برائے اصلاح "المسلم جسد واحد"

    ہم مسلمان ہیں جسمِ واحد کی مانند سب ایک ہیں سب کے سب ایک ہیں رنگ کوئی بھی ہو نسل کوئی بھی ہو گر مسلمان ہیں پھر اسی جسمِ واحد کے سب عضو ہیں جب کسی عضو کو کوئی تکلیف ہو سارے اعضا بہم درد اس کا سہیں اس پہ گریہ کریں اس پہ آہیں بھریں پھر نجانے یہ اب کیسے ممکن ہوا جب اسی جسم واحد پہ خنجر چلا...
  5. طالش طور

    ترے حوالے سے

    ترے حوالے سے چراغ بن کے میرے ذہن میں فروزاں ہیں یہ سب خیال یہ سوچیں تِرے حوالے سے یہ انتظار میں ترسی ہوئی مِری آنکھیں اگر جھکیں تو فقط تیرے ہی تصور میں اگر اُٹھیں تو تِری دید کے حوالے سے اگر ملوں میں کسی سے تو بس تِری خاطر کسی سے بات کروں تو ترے حوالے سے اگر چلوں تو چلوں میں تلاش میں تیری...
  6. ریحان احمد ریحانؔ

    "ہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا"

    اب کے تیری تلاش میں ہمدم ہم وہاں بھی گئے جہاں ہم نے صرف امکانِ نقشِ پا پایا جب ملا تو تو پھر ہوا احساس "ہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا"
  7. ریحان احمد ریحانؔ

    غزل برائے اصلاح :: ہائے جس در سے گریزاں تھے اسی در کے ہوئے

    استادِ محترم الف عین محمّد احسن سمیع :راحل: و دیگر احباب سے اصلاح کی گزارش ہے ہم بھی معتوب تری چشمِ ستم گر کے ہوئے ہائے جس در سے گریزاں تھے اسی در کے ہوئے یہ تو اعجاز ہے آشفتہ سری کا کہ جو ہم کہیں تصویر میں ابھرے کسی منظر کے ہوئے ہم سمجھتے تھے جنہیں باعثِ تسکین و قرار آخرش لوگ...
  8. ریحان احمد ریحانؔ

    غزل برائے اصلاح :: نیم جاں پھرتے ہو کہتے ہو کہ حال اچھا ہے

    تمام احباب خصوصاً اساتذہ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں الف عین محمّد احسن سمیع :راحل: سید عاطف علی ناصحا تو ہی بتا کیا یہ خیال اچھا ہے طائرِ دل کے لیے عشق کا جال اچھا ہے دربدر تھے ہی پہ اب عشق نے پاگل بھی کیا نیم جاں پھرتے ہو کہتے ہو کہ حال اچھا ہے شاملِ فطرتِ آدم ہے ازل...
  9. A

    برائے اصلاح: نہیں مِل رہا بڑی دیر سے مِری ذات کا ہی پتا مجھے

    الف عین ڈاکٹر عظیم سہارنپوری محمد خلیل الرحمٰن محمّد احسن سمیع :راحل: ----------- نہیں مِل رہا بڑی دیر سے مِری ذات کا ہی پتا مجھے میں کسے کہوں کہ خبر کرے، میں کسے کہوں کہ بتا مجھے وہ سبق میں پڑھ کے بُھلا چُکا کہ اُصول تھامے رہو صدا کوئی منتقی سی دلیل دے، یہ مُحاورے نہ سُنا مجھے میں تو شاد...
  10. Muhammad Ishfaq

    غزل برائے اصلاح

    محمد خلیل الرحمن الف عین اور دیگر اساتذہ اکرام مفاعیل فاعلات مفاعیل فاعلن غزل کیا بتاؤں حال کیسا ہمارا ہے آج کل مخالف ہوا جہان یہ سارا ہے آج کل گریزاں ہے منزل بھی ہے دشوار رستہ بھی کہ گردش میں میرا کوئی ستارا ہے آج کل بھری بزم میں پشیماں نہ ہوتا میں کس...
  11. محمد ابراہیم کوثر

    اشعار کی اصلاح

    میں نے کتبہ لے لیا ہے اب کفن درکار ہے زندگی کی نظم میں مجھ کو سخن درکار ہے ہم سفر کی روح سے ہموار ہوں راہیں تری کون احمق تجھ سے سے گویا ہے بدن درکار ہے تھی جفا کش طبقے کی تعطیل لیکن وہ وہاں کام پر مجبور تھے کہ آمدن درکار ہے تیری باتوں سے نکھار آتا ہے خدو خال میں جس طرح شعروں میں ندرت کو خبن...
  12. Muhammad Ishfaq

    غزل برائے اصلاح

    فاعلن فاعلن فاعلن جب سے تیری ادا دیکھی ہے ہم نے سر پر قضا دیکھی ہے جس پہ کل ناز تھا مجھ کو بدلی اس کی ہوا دیکھی ہے غیر تو غیر ہیں ہم نے تو اپنوں سے بھی جفا دیکھی ہے کیوں مری جاں کا دشمن بنا غلطی اس نے کیا دیکھی ہے حق پہ اشفاق جو آ جائے اس کو ملتی بقا دیکھی ہے
  13. A

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا میں دشمنوں کے درمیاں بھی حوصلے میں تھا ایسا نہیں کہ بس وہی مسمار ہو گیا میرا تمام جسم بھی تو زلزلے میں تھا ہم دوریوں کے بعد بھی تنہا نہیں ہوئے اک قربتوں کا ذائقہ سا فاصلے میں تھا جس پر سبھی یقیں کریں کہ رہنما ہے وہ ایسا کوئی بھی...
  14. A

    برائے اصلاح: تِرے فراق میں بڑھتا ہوا ملال ختم

    مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن ---------------------- تِرے فراق میں بڑھتا ہوا ملال ختم تجھے اُداس جو دیکھا تو ہر سوال ختم تِرے وجود میں دیکھا کبھی جو تاج محل مِری نگاہ میں وہ تیرے خدوخال ختم محبتوں کی فُسوں کاریاں بے کار گئیں یہاں پہ عشق فنا ہے وہاں جمال ختم بڑے سنبھال کے رکھے تِرے خطوط مگر...
  15. Muhammad Ishfaq

    برائے اصلاح

    پانی پر حباب سی تیرا جو شباب سی میرا جو خیال تھا وہ تو اک سراب سی زندگی یوں گزری ہے جیسے احتساب سی وہ تو کوئی اور تھا یوں لگا جناب سی رات بھی اندھیری تھی رستہ بھی خراب سی اپنے کیوں خفا ہوئے میں کھلی کتاب سی فرش پر جو حبس ہے عرش پر سحاب سی
  16. ع

    نظم برائے اصلاح و راہنمائی

    اسلام وعلیکم درخواست برائے اصلاح و راہنمائی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ھوں کبھی بھیڑ میں اپنا وجود تلاش کرتا ھوں پھر اسی بھیڑ میں خود سے چھپ جاتا ھوں غوغائے بزم حیات میں جب اپنی آواز سنتا ھوں تو سوچتا ھوں کہ یہ میں ھوں یا کوئی اور ھے پھر اسی شور میں گم ھو جاتا ھوں جب کبھی...
  17. اویس رضا

    غزل بغرضِ اصلاح/ رند بے آبرو ہوجائیں گے میخانے میں

    استادِ محترم سر الف عین و دیگر احباب سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں نہیں ملتا کسی بستی کسی ویرانے میں سکوں ملتا ہے جو ساقی ترے میخانے میں چھوڑ کر جائیں اگر دل ترے کاشانے میں کیا ملے گا ہمیں کعبے میں صنم خانے میں چھیڑنا مت کسی دیوانے کو انجانے میں شہر کا شہر بدل دے گا وہ...
  18. Muhammad Ishfaq

    برائے اصلاح

    حمد باری تعالی ہر سو ہے تو اور یکتا ہے تو اور خالق ارض و سما ہے تو اور شان ہے بے پایاں تیری جو لائقِ حمد و ثنا ہے تو ظاہر میں تو ہے باطن میں تو ہر شے میں جلوہ نما ہے تو پایا ہے جس سے آنکھوں نے نور جس نے دی دل کو ضیا ہے تو چارہ گروں میں سب سے برتر اور سب مرضوں کی دوا ہے تو اندھیرے میں تو سویرے...
  19. خ

    غزل بغرضِ اصلاح: پھر سے یادِ یار میں جگنو بلائے جائیں گے

    استادِ محترم سر الف عین سے التماس ہے کہ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں راحل بھائی و دیگر احباب سے گزارش ہے کہ اپنے مشورے سے نوازیں پردے اٹھائے جائیں گے پردے گرائے جائیں گے مانوس سے کچھ اجنبی چہرے دکھا ئے جائیں گے یہ بات جو محفل کی ہے محفل میں ہی کیجئے اسے باہر کسے معلوم کیا کیا گل کھلائے...
  20. خ

    ایک نظم بغرضِ اصلاح

    استادِ محترم سر الف عین سے برائے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں اور دیگر احباب سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی قیمتی مشوروں سے نوازیں زندگی بھی عجب تماشہ ہے اس تماشے میں ہر تماشائی مختلف رنگ و روپ لیتا ہے کوئی پاتا ہے سایہ دار درخت کوئی حصے میں دھوپ لیتا ہے کوئی ہے مبتلا ء جنگ و...
Top